بلوچ لبریشن آرمی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی وزارتِ دفاع کے ماتحت ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کمانڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل وسیم احمد، کو ان کے خفیہ نیٹ ورک ’’زراب‘‘ نے حراست میں لے لیا ہے، اور اس دعوے کے ساتھ اُس کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔ یہ محض ایک تصویر یا دعویٰ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک خاموش جنگ اور گہرے انٹیلی جنس نفوذ کی داستان پوشیدہ دکھائی دیتی ہے۔
اس تحریک پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق ’’زراب‘‘ اب صرف ایک تنظیمی شاخ کا نام نہیں رہا، بلکہ اُن کارروائیوں کی علامت بنتا جا رہا ہے جنہوں نے مختصر مدت میں خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ جعفر ایکسپریس ٹرین میں فوجیوں کی موجودگی کا انکشاف اور پھر اُس پر مبینہ طور پر انتہائی منظم کارروائی، کوئٹہ ایئرپورٹ سے متعلق حساس معلومات کا افشا ہونا، خضدار میں فوجیوں کی گرفتاری، زیارت سے کرنل لائق بیگ کا اغوا، ہرنائی سے فوجی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کی گرفتاری، اور اب وسیم احمد جیسے اہم افسر کی حراست— یہ تمام واقعات ایسے معلوم ہوتے ہیں، جیسے کسی منظم خفیہ نیٹ ورک اور گہرے انٹیلی جنس رابطوں کے ذریعے انجام دیے گئے ہوں۔
اگر بلوچستان کے حالیہ واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ صورتحال ایک وسیع خفیہ جنگ اور انٹیلی جنس مقابلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پاکستانی ریاست کے عسکری اور سیکیورٹی ادارے برسوں سے بلوچستان کو سیکیورٹی دباؤ، انسدادِ بغاوت کارروائیوں اور فوجی آپریشنز کے ذریعے کنٹرول کرتے آئے ہیں، لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مخالف مسلح گروہ ’’پوشیدہ نیٹ ورکس‘‘ اور ’’خفیہ ایجنٹوں‘‘ کے ذریعے انہی سیکیورٹی حصاروں کے اندر دراڑیں پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ بتدریج کھلے میدانوں سے نکل کر خفیہ دائروں میں داخل ہو رہی ہے۔ ایک فریق نگرانی، تعاقب اور معلومات کے ذریعے کارروائی کرتا ہے، جبکہ دوسرا نفوذ، اختراق اور خفیہ روابط کے ذریعے اُس کے نظام کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یوں بلوچستان اب محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ یہ انٹیلی جنس کشمکش، سیاسی دباؤ اور سیکیورٹی سائے کی ایک پیچیدہ علامت بنتا جا رہا ہے، جس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ذیل میں چند ایسے نکات پیش کیے جاتے ہیں جن سے بلوچستان کی صورتحال مزید پیچیدہ اور نازک دکھائی دیتی ہے:
اول:
بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، جہاں ہر روز سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی ریاست کے لیے وہاں کا بحران مستقبل قریب میں ریاستی طاقت کے انحصاری ڈھانچے کو کمزور کر سکتا ہے۔ جب کوئی مسلح گروہ:
۱۔ سیکیورٹی اداروں کے اندر سے معلومات حاصل کرنے لگے،
۲۔ افسران کی نقل و حرکت کی نگرانی کر سکے،
۳۔ حساس اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکے،
۴۔ اور ساتھ ہی اپنی کارروائیوں کا مؤثر پروپیگنڈا بھی چلائے،
تو یہ صرف ایک عسکری حملہ نہیں رہتا، بلکہ ’’ریاستی معلوماتی اجارہ داری‘‘ کے ٹوٹنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ’’زراب‘‘ سے متعلق دعوے بھی اسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔
دوم:
بلوچستان ایک وسیع، پہاڑی، سرحدی اور کم آبادی والا خطہ ہے۔ ایسی جغرافیائی ساخت طویل المدتی اور گوریلا جنگ کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس لیے پاکستانی ریاست کو اتنے وسیع علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بھاری مالی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ مخالف گروہ محدود وسائل کے باوجود بدامنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جب کسی ریاست کو بیک وقت معاشی بحران، قرضوں کے بوجھ، داخلی بدامنی، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی دباؤ کا سامنا ہو، تو اُس کی جنگی صلاحیت بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔ بعض تجزیہ نگار اس صورتحال کو ”Strategic Overstretch ” سے تعبیر کرتے ہیں۔ جس کا انجام بالآخر زوال اور سقوط کی صورت میں نکلتا ہے۔
سوم:
بلوچستان میں جنگ کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ ماضی میں یہ لڑائی زیادہ تر چوکیوں، حملوں اور فوجی آپریشنز تک محدود تھی، مگر اب معلوماتی جنگ، سائبر پروپیگنڈا، خفیہ نیٹ ورکس اور ہدفی نفوذ زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ جب مخالف قوتیں ریاستی سیکیورٹی ڈھانچوں کے اندر رسائی حاصل کرنے لگیں تو اس سے ریاستی اعتماد کو براہِ راست دھچکا لگتا ہے۔
آخری نکتہ:
بلوچستان اپنی جغرافیائی اور عالمی تزویراتی اہمیت کی وجہ سے ایک حساس خطہ بن چکا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور خطے کی بندرگاہی سیاست نے اس خطے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی بدامنی صرف مقامی اثرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ چینی سرمایہ کاری، پاک و ہند رقابت اور علاقائی تجارتی مفادات کو بھی متاثر کررہی ہے۔
سیاسی و سیکیورٹی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بلوچستان کا بحران اب مزید گہرا، کثیرالجہتی اور پیچیدہ ہو چکا ہے، اور پاکستانی ریاست کے لیے اُس پر مکمل اور مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار دکھائی دیتا ہے۔
مختصراً یہ کہ بلوچستان کی صورتحال بظاہر ایک طویل، پیچیدہ، تھکا دینے والے اور ہمہ جہت اسٹریٹجک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی وجہ سے اس صوبے کا سقوط قلیل مدت میں ایک قطعی اور ثابت شدہ حقیقت دکھائی دیتا ہے۔

