یہ خیال کہ حقیقی طاقت دولت، اسلحے اور جدید فوجی سازوسامان کی فراوانی میں ہے، آج کی دنیا کے بیشتر افراد اور حتیٰ کہ حکومتوں کے ذہنوں میں گہری جڑ پکڑ چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو قوم معاشی، عسکری اور تکنیکی لحاظ سے برتر ہو، ہمیشہ میدان کی فاتح رہے گی، اور کمزور اقوام کے لیے ان کے مقابلےمیں تسلیم یا خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
یہ گمان سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ انسان کی اصل قوت؛ ایمان، ارادے اور حق پر یقین، سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
تاریخ اور قرآنِ عظیم اس حقیقت کو واضح کر چکے ہیں کہ کامیابی زر و زور کے سائے میں نہیں، بلکہ ایمانِ خالص اور حق کی راہ میں ثابت قدمی کی برکت سے حاصل ہوتی ہے۔
قرآنِ کریم اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرماتا ہے:
’’كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ‘‘ (البقرہ، ۲۴۹)
ترجمہ: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دشمن خواہ تعداد اور طاقت میں کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اصل فتح ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو صبر، ایمان اور پختہ ارادے کے مالک ہوتے ہیں۔
بدر کی جنگ اس کا واضح نمونہ ہے؛ جہاں مسلمان عدد وحجم میں کم اور ان کے وسائل محدود تھے، مگر ان کے دل ایمان اور یقین سے لبریز تھے، نتیجتاً انہیں الہی مدد نصیب ہوئی اور دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمانی قوت، بہادری اور استقامت کا سرچشمہ ہے۔ باایمان انسان نہ فقر سے خوفزدہ ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن کی حرص و طاقت سے ڈرتا ہے، کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ حق آخر کار غالب آتا ہے۔ اپنی زمین، عقیدہ اور وطن کے دفاع میں بھی یہی ایمان انسان کو شک و تردد سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے غیرت و ثابت قدمی بخشتا ہے۔ جب قومیں اپنے اقدار پر پختہ یقین رکھتی ہیں تو حملہ آور پیچھے ہٹ جاتا ہے؛ کیونکہ ایمان ان کے دلوں میں وہ آگ جلادیتا ہے جسے کوئی ہتھیار بجھا نہیں سکتا۔
آج یہ حقیقت افغان قوم کی جدوجہد کے میدانوں میں بخوبی عیاں ہے۔ اس خطّے کے دشمن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے مالی، پروپیگنڈا اور عسکری وسائل کے ذریعے قوم کا ارادہ کمزور کریں۔ پاکستان کا کھلی جارحیت اور داعش جیسی کرائے کی تنظیمیں اگرچہ طاقت اور جبر پر انحصار کرتی ہیں، مگر وہ ایمان اور اقدار سے خالی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اس زمین کے بہادر بیٹے وطن سے محبت اور اللہ جل جلالہ پر توکل سے معمور دلوں کے مالک ہیں۔
وہ ایک صف میں متحد کھڑے ہیں اور اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ ایمان کی حامل قوم خوفزدہ نہیں ہوتی اورباغیرت قوم کی سرزمین پر کوئی غیر قابض نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگ چاہے وسائل کے لحاظ سے کمزور ہوں، مگر درحقیقت اُن کے پاس ایسی قوت ہے جو ہر توپ اور ٹینک سے زیادہ مؤثر ہے؛ وہ قوت ایمان اور ارادے کی قوت ہے۔
قرآنِ کریم بارہا اسی اصول کی طرف متوجہ کرتا ہے:
’’إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ‘‘(محمد: ۷)
ترجمہ: اگر تم اللہ کی راہ میں مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔
تاریخ اور ارشاداتِ الٰہی دونوں یہی بتاتی ہیں کہ کامیابی ایمان کی مرہونِ منت ہے، دولت یا ہتھیاروں کی نہیں؛ یہ یقین کا پھل ہے، مادّی طاقت کا نتیجہ نہیں۔ اگر فتح محض مادّی قوت کی بنیاد ہوتی تو انبیاء کبھی ظالموں کے خلاف کامیاب نہ ہو پاتے۔ مگر انبیاء کا عزم، مؤمنوں کی ثابت قدمی اور اہلِ حق کا غیرت و جذبہ ظلم و ستم کے سیلاب کے سامنے ایک فولادی دیوار بن گیا۔
لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم ایمان کو اپنی سب سے بڑی دولت جانیں اور ہر حال میں اپنی سرزمین، عقیدے اور ناموس کا دفاع کریں۔ کیونکہ ایمان اور اہلِ ایمان کبھی مغلوب نہیں ہوتے، اور وہ قوم جو اللہ جلّ جلالہ پر توکل کرتی ہے کبھی شکست نہیں کھاتی۔




















































