خوارج: آغاز سے تکفیری فکر تک
داعش جیسے گروہوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے، جہاں عالمِ اسلام میں تفرقہ واختلاف کی ابتدائی لہریں اٹھیں۔ یہ امر ہمیں ہجرت کے ابتدائی دور اور صفین کی جنگ کے واقعے تک لے جاتا ہے، جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان خلافت کے مسئلے پر ایک بڑی کشمکش برپا ہوئی۔ جنگ جب تعطل کا شکار ہوئی تو دونوں جانب اس بات پر متفق ہوئے کہ معاملے کو حکمیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جائے۔ مگر یہی فیصلہ ایک ایسی جماعت کے ظہور کا سبب بنا جس نے تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فوج میں سے کچھ سپاہیوں نے حکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے ’’لا حکم الا للہ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی حکم نہیں) کا نعرہ بلند کیا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ جل جلالہ کے فیصلے کے بجائے انسانوں کی حکمیت قبول کرنا گمراہی اور کفر ہے۔ اسی بنیاد پر وہ لشکر سے الگ ہوگئے اور ’’حروراء‘‘ نامی مقام پر جمع ہوئے۔ ابتدائی طور پر انہیں ’’حروریہ‘‘ کہا گیا، لیکن بعد ازاں خلیفہ وقت کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے وہ ’’خوارج‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
یوں تاریخِ اسلام میں پہلی بڑی دراڑ بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ خود مسلم معاشرے کے اندر سے پڑی۔ خوارج نے دین کی نہایت سخت گیر اور سطحی تعبیر اختیار کی، صرف خود کو ہی سچا مسلمان قرار دیا، اور جو بھی ان سے اختلاف کرتاچاہے وہ خلیفہ وقت ہی کیون نہ ہوتا، اسے کافر ٹھہرا کر اس کا خون مباح جانتے تھے۔ یہ تصور ایک نہایت خطرناک فکری بنیاد تھا جس کے نتائج صدیوں تک محسوس کیے گئے۔
یہ بحران اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب خوارج نے عام لوگوں کے قتلِ عام اور وحشت پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا۔ عوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نہروان کے معرکے میں ان کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اگرچہ اس جنگ میں خوارج کو شکست ہوئی، لیکن ان کی فکر مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی۔ وہ صدیوں تک تاریخ کے پس منظر میں انگاروں تلے دبی چنگاری کی طرح باقی رہی اور ہر قسم کی مصالحت اور رواداری کو رد کرتے ہوئے آئندہ مذہبی تشدد کے لیے زمین ہموار کرتی رہی۔
تاریخ کے اس باب کو سمجھنا آنے والے حالات کو جانچنے کے لیے نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ خوارج نے ایک ایسا عملی نمونہ پیش کیا جس میں دین کی سطحی اور انفرادی تعبیرات کو دوسرے مسلمانوں کے قتل اور تکفیر کا بہانہ بنایا گیا۔ اس کو پہچاننا آج کی شدت پسند جماعتوں کے تجزیے کے لیے ضروری ہے، بالخصوص داعش جیسی تنظیمیں جو خود کو اسی نظریے کا وارث قرار دیتی ہیں۔ ان تاریخی جڑوں کو سمجھے بغیر ہمارے موجودہ حالات کا مطالعہ ادھورا اور سطحی رہے گا۔
تکفیر کا وہ نظریہ جس کی تائید خوارج کرتے تھے، مسلم معاشرے میں ایک مہلک وائرس کی طرح سرایت کر گیا۔ دین کی سطحی فہم اور فقہی و کلامی بصیرت کے فقدان کے باعث وہ خود کو حق و باطل کا آخری منصف سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ بے خوفی کے ساتھ پیغمبر اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کو بھی دائرہ ایمان سے خارج قرار دیتے۔ اپنی حقانیت کے غرور اور دوسروں کو نہ برداشت کرنے کی یہ ذہنیت ایک منحوس ورثہ بن گئی، جو آنے والی نسلوں کو منتقل ہوا اور جس نے صدیوں بعد انتہا پسند جماعتوں کے ابھرنے کے لیے فکری آبیاری کا بندوبست کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ خوارج ابتدا میں زاہد اور عابد سمجھے جاتے تھے اور بظاہر دین دار تھے، لیکن دین میں ان کی کم فہمی اور عقلانیت کے بجائے خشک مذہبی جذبات کے غلبے نے انہیں انتہا پسندی اور تشدد کی کھائی میں دھکیل دیا۔ یہ تبدیلی ــ زہد سے وحشت تک ــ تمام مذہبی معاشروں کے لیے ایک دائمی انتباہ ہے کہ کس طرح مذہب کی محض ظاہری شکل بعض اوقات جہالت اور تعصب کا پردہ بن سکتی ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ ہم ہمیشہ ہوشیار رہیں تاکہ عبادت کبھی دہشت گردی اور نفرت کا وسیلہ نہ بن سکے۔




















































