گذشتہ روز کابل کے علاقے شہرنو میں ایک ہوٹل پر خودکش حملہ ہوا، جس میں ایک چینی شہری اور چھ بے گناہ افغان شہری شہید ہوگئے۔ بعد ازاں اس حملے کی ذمہ داری معاصر خوارج، داعش خراسان گروہ نے قبول کی۔
داعش خراسان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے بعد دو اہم باتیں واضح ہوئیں، جن سے اس گروہ کے دعوؤں اور اس کے عملی اقدامات کے درمیان تضاد مزید نمایاں ہوگیا۔ اس گھناؤنے عمل سے یہ بات اور بھی کھل کر سامنے آئی کہ ان کا خلافت کا دعویٰ جعلی اور جھوٹا ہے، جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں۔
جب ان خوارج نے عراق اور شام میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں اور پھر انہیں افغانستان تک پھیلایا، تو وہ مسلمانوں، خاص طور پر مجاہدین کو محض اس بنیاد پر قتل کرتے تھے کہ ان کے بقول خلافت قائم ہوچکی ہے۔ وہ تمام مسلمانوں کو اپنی نام نہاد خلافت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے کا حکم دیتے تھے، اور جو کوئی ایسا نہ کرتا، اسے قتل کردیا جاتا تھا۔
وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے ایسا نظام قائم کیا ہے جو دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو ایک ہی چھتری تلے جمع کرے گا، چاہے وہ کسی بھی ملک یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق جو بھی مسلمان ہوگا، وہ ان کی خلافت کا شہری ہوگا، کیونکہ ان کے بقول اس نظام کا مقصد مسلمانوں کی فلاح اور اتحاد تھا۔
لیکن اگر آج انہی معیاروں پر خود ان خوارج کو پرکھا جائے تو یہ ان کے تمام دعوؤں کی کھلی تردید ہے۔ کیونکہ گزشتہ روز اسی گروہ نے چینی مسلمانوں کے ایک ہوٹل پر صرف اس لیے حملہ کیا کہ وہ چینی شہری تھے، حالانکہ وہ مسلمان تھے اور سنکیانگ کے اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے جس کے مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر خود یہ لوگ کیا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلمان کے قتل کا یہ جواز بن سکتا ہے کہ اس کا تعلق ایسے ملک سے ہے جس کے ساتھ آپ حالتِ جنگ میں ہیں؟
کیا یہ بات اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کسی مسلمان کو صرف اس بنیاد پر قتل کر دیا جائے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان ملک میں کاروبار کر رہا ہے؟
کیا خلافت اور اسلامی اجتماعیت کا تصور یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک چینی شہری کا بطور مسلمان کابل میں رہنا حرام قرار دیا جائے، اور اسی نام نہاد جرم کی بنیاد پر اس کا قتل جائز سمجھا جائے؟
آپ نے کتنے بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا، جو محض ہوٹل کے سامنے سے گزر رہے تھے، یا کھانا کھانے کے لیے اس ہوٹل میں داخل ہوئے تھے۔ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ ان کا تعلق کس ملک یا کس جغرافیے سے تھا؛ وہ مسلمان تھے اور ان کا تعلق دین کی بنیاد پر تھا، نہ کہ کسی خاص ریاست یا قومیت کی بنیاد پر۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے اس گھناؤنے عمل نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ آپ کوئی نظریاتی، مذہبی یا جہادی تنظیم نہیں ہیں، بلکہ آپ دنیا کے چند ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والا ایک پراکسی گروہ ہیں۔ آپ کا ہر عمل انہی کے مفادات کے تحفظ کے لیے انجام دیا جاتا ہے، اور آپ کی کارروائیاں انہی کی پالیسی کے مطابق ہوتی ہیں؛ جب، جہاں اور جیسے وہ حکم دیتے ہیں، آپ ویسے ہی عمل کرتے ہیں۔
اب آپ کی حقیقت اور حیثیت پوری طرح عیاں ہوچکی ہے۔ آپ محض کرائے کے قاتل ہیں جو پیسوں کے لیے جنگ کرتے ہیں، اور اپنی کمزوری اور شکست کے احساس کو چھپانے کے لیے ہر بے گناہ مسلمان کے قتل پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔




















































