بینک اکاؤنٹس کا ریموٹ کنٹرول (Remote Control of Bank Accounts):
یورپ سے داعش کے زیرِ اثر جنگی علاقوں کا رخ کرنے والے بہت سے افراد اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس پر دور سے کنٹرول برقرار رکھیں، تاکہ سماجی بہبود کی رقوم یا دیگر آمدنی کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ یہ طریقہ کار داعش کے مالی نیٹ ورکس کے لیے ایک خفیہ اور نسبتاً محفوظ ذریعۂ آمدن بن چکا ہے۔
یہ سرگرمی درجِ ذیل میکانزم پر استوار ہے:
بینک کارڈز اور SIM کارڈز اپنے ساتھ لے جانا
یورپ سے روانگی کے وقت بعض افراد اپنے بینک کے ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز اور اکاؤنٹ سے منسلک SIM کارڈز ہمراہ رکھتے ہیں، تاکہ OTP کوڈز، بینک نوٹیفکیشنز اور اکاؤنٹ کی تصدیق سے متعلق پیغامات براہِ راست انہیں موصول ہوتے رہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ ایک فعال صارف کے طور پر ظاہر رہے اور کسی قسم کے شبہے کا امکان کم سے کم ہو۔
آن لائن بینکنگ ایپس کے ذریعے اکاؤنٹ کا ریموٹ کنٹرول
داعش سے وابستہ افراد آن لائن بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، OTP سسٹمز اور SIM کارڈز کی مدد سے اپنے اکاؤنٹس کو فعال رکھتے ہیں اور رقوم وصول کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ یورپ سے باہر موجود ہونے کے باوجود اکاؤنٹ کا بیلنس دیکھ سکتے ہیں، رقوم نکلوانے کی اجازت دے سکتے ہیں اور مالی لین دین کی توثیق بآسانی انجام دیتے ہیں۔
دیگر افراد کے ذریعے ATM سے رقوم نکلوانا
یورپ کے اندر داعش کے حامی عناصر یا تنظیم کے ارکان کے قابلِ اعتماد ساتھی متعلقہ بینک کارڈ استعمال کرتے ہوئے ATM مشینوں تک جاتے ہیں، رقوم نکلواتے ہیں اور انہیں نقدی کی صورت میں حاصل کر لیتے ہیں۔ اکثر یہ سرگرمیاں مختلف شہروں اور مختلف ATM مشینوں پر انجام دی جاتی ہیں، تاکہ نگرانی اور سراغ رسانی کے امکانات کم سے کم رہیں۔
نقد رقوم کی جنگی علاقوں تک منتقلی
ATM سے حاصل کی گئی نقد رقوم بعد ازاں درجِ ذیل ذرائع سے داعش تک پہنچائی جاتی ہیں:
✓ حوالہ (Hawala) نیٹ ورکس
✓ غیر رسمی مالیاتی بروکرز
✓ مسافروں کے ذریعے ترسیل
✓ اسمگلنگ کے خفیہ راستے، جن کے ذریعے رقوم سرحدوں سے پوشیدہ اور محفوظ انداز میں منتقل کی جاتی ہیں۔
بالآخر یہ رقوم داعش کے مالیاتی نیٹ ورک تک پہنچتی ہیں، جہاں انہیں عسکری کارروائیوں، سازوسامان کی خرید، جنگجوؤں کی تنخواہوں اور پروپیگنڈا سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ طریقۂ کار کئی وجوہات کی بنا پر داعش کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے:
۱۔ مستقل ماہانہ آمدن
اس نظام کے تحت ہر ماہ متعدد افراد کے بینک اکاؤنٹس سے داعش کو مجموعی طور پر دسیوں ہزار یورو کی باقاعدہ مالی فراہمی ممکن ہو جاتی ہے۔
۲۔ کم درجے کا خطرہ
چونکہ یہ رقوم بظاہر قانونی سماجی امداد کی صورت میں موصول ہوتی ہیں، درخواست گزار کا بینک اکاؤنٹ بھی رسمی اور قانونی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے نگرانی کرنے والے ادارے اکثر رقم نکلوانے کے درست وقت اور طریقۂ کار سے لاعلم رہ جاتے ہیں۔ یوں مالی لین دین طویل عرصے تک شکوک سے محفوظ رہتا ہے۔
۳۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت
یہ آمدن داعش کے لیے درجِ ذیل مقاصد پر خرچ کی جاتی ہے:
جنگی کارروائیاں، اسلحے کی خریداری، میڈیا اور پروپیگنڈا مشینری کی مالی اعانت، انتہا پسند عناصر کی تنخواہیں اور لاجسٹک اخراجات۔
ج) جعلی شناخت کے ذریعے امداد کا حصول (Benefit Fraud via Identity Fraud)
داعش کی مالی معاونت کے اہم حربوں میں سے ایک جعلی شناختوں کا استعمال بھی ہے، جس کے ذریعے مصنوعی دستاویزات اور جعل شدہ شناختی کارڈز کے سہارے سماجی بہبود کے نظام میں موجود کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں داعش کے جنگجو، حامی اور نیٹ ورکس مختلف ناموں سے متعدد سماجی امدادی اسکیموں کے لیے درخواستیں جمع کرواتے ہیں اور بیک وقت کئی گنا آمدن حاصل کرتے ہیں۔
جعلی شناختوں کی اقسام اور استعمال ہونے والی دستاویزات
داعش کے نیٹ ورکس شناخت میں جعل سازی کے لیے مختلف درجوں اور معیار کی دستاویزات استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کاغذات نہایت پیشہ ورانہ انداز میں تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں سادہ ہوتے ہوئے بھی انتظامی خلا اور کمزور جانچ پڑتال کے باعث قابلِ قبول بن جاتے ہیں۔ عموماً استعمال ہونے والی دستاویزات میں پاسپورٹس، قومی شناختی کارڈز، مہاجر کارڈز یا پناہ گزینی سے متعلق اسناد، رہائشی دستاویزات، اور چوری شدہ شناختی معلومات شامل ہوتی ہیں۔
وہ عام دستاویزات جو بینیفٹ فراڈ اور مالی بدعنوانیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں
داعش سے وابستہ نیٹ ورکس اور مجرمانہ گروہ سرکاری امداد کے حصول کے لیے جعلی اور تحریف شدہ دستاویزات کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسناد یا تو مکمل طور پر جعلی تیار کی جاتی ہیں، یا اصل دستاویزات میں جعل سازی کے ذریعے ردّ و بدل کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دستاویزات درج ذیل ہیں:
۱۔ پاسپورٹس (Fake / Altered Passports)
جعلی پاسپورٹس عموماً دو اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں:
۱: مکمل طور پر جعلی (Counterfeit):
یہ پاسپورٹس بالکل ابتدا سے جعلی طباعت، تصاویر اور اسٹیکرز کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔
۲: تبدیل شدہ پاسپورٹس (Altered):
ان میں اصل پاسپورٹ کے اندراجات جیسے تصویر، نام، عمر یا شہریت کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
اس نوعیت کے پاسپورٹس ان افراد کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو مختلف شناختوں کے تحت سماجی بہبود کے پروگراموں میں رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں، یا سفر اور بینکاری نظام کی نگرانی سے بچنا چاہتے ہیں۔ متعدد کیسز میں ایک ہی شخص کے نام پر کئی درخواستیں جمع کروائی جاتی ہیں، جن میں سے ہر ایک کے ذریعے الگ الگ امداد حاصل کی جاتی ہے۔
۲۔ قومی شناختی کارڈز (National ID Cards)
یہ دستاویزات امدادی پروگراموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں، کیونکہ بہت سے ممالک میں سماجی امداد کی بنیاد قومی شناختی کارڈز پر رکھی جاتی ہے۔
۱: جعلی ناموں پر شناختی کارڈز تیار کیے جاتے ہیں۔
۲: اصل شناختی کارڈز کی معلومات نقل کر کے انہیں کسی دوسرے شخص کی تصویر کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔
۳: ان افراد کے شناختی کارڈز میں ردّ و بدل کیا جاتا ہے جو یورپ چھوڑ چکے ہوں، تاکہ ریاست یہ سمجھتی رہے کہ وہ اب بھی ملک میں مقیم ہیں۔
۴: اس طریقے سے ایک ہی شخص بیک وقت کئی گنا امداد حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
۳۔ مہاجر کارڈز یا پناہ گزینی کی دستاویزات (Asylum / Refugee Cards)
یہ اسناد خاص طور پر ان افراد کے لیے تیار کی جاتی ہیں جو پناہ گزینوں کے نام پر جعلی کیسز قائم کرتے ہیں:
۱: جعلی مہاجرتی کارڈز ان افراد کے لیے بنائے جاتے ہیں جن کے پاس درحقیقت کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہوتی۔
۲: بہت سے پناہ گزین ایک ملک میں اسناد حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے خطے میں نئے نام اور نئی شناخت کے ساتھ دوبارہ درخواست دے دیتے ہیں۔
۳: ان دستاویزات کے ذریعے مختلف مقامات سے بیک وقت امداد وصول کی جاتی ہے۔
۴: متعدد یورپی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ داعش بعض اوقات ایک ہی شخص کو کئی مختلف “مہاجرین” کی شناخت کے تحت استعمال کرتی ہے۔
۴۔ رہائشی اجازت نامے (Residence Permits)
رہائشی کارڈز سماجی امداد، رہائشی سہولتوں، بے روزگاری الاؤنس اور صحت کی خدمات کے حصول میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
۱: جعلی رہائشی اجازت نامے ان افراد کو دیے جاتے ہیں جو یورپ چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔
۲: بعض افراد تبدیل شدہ رہائشی دستاویزات کے ذریعے اپنے خاندانی افراد یا کسی دوسرے شخص کو سرکاری مراعات منتقل کر دیتے ہیں۔
۳: یہ اسناد بینک اکاؤنٹس کھلوانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں، جنہیں بعد ازاں داعش کے مالی نیٹ ورکس رقوم کی ترسیل کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔
۵۔ چوری شدہ شناختی معلومات (Stolen Identities)
ڈیجیٹل دنیا میں شناخت کی چوری ایک عام اور تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان بن چکا ہے۔
۱: افراد کی ذاتی معلومات سائبر حملوں کے ذریعے چرا لی جاتی ہیں۔
۲: یہ چوری شدہ شناختیں بعد میں سماجی امداد کے حصول کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
۳: شناخت کا اصل مالک اکثر اس بات سے بالکل بے خبر رہتا ہے کہ اس کے نام پر سرکاری مراعات حاصل کی جا رہی ہیں۔
۴: بعض صورتوں میں ایک ہی چوری شدہ شناختی دستاویز کی بنیاد پر مختلف شہروں میں کئی افراد بیک وقت امداد حاصل کرتے ہیں۔




















































