داعش کا میڈیا: تصاویر اور حقائق کی جنگ
جب داعشی خوارج کا گروہ اپنے عروج پر تھا، اس نے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کیمرے اور سوشل میڈیا کو بھی تفرقہبازی اور خوف پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ اس انتہا پسند گروہ نے یہ بات خوب سمجھ لی تھی کہ اکیسویں صدی میں جنگ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ یہ نمائشی پردوں اور ناظرین کے ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔
اس دور میں انسانی جسم صرف گولیوں کا نشانہ نہیں، بلکہ اب انسان کا دل، دماغ اور روح ان کے تباہ کن پروپیگنڈے اور سرگرمیوں کا ہدف بنتے ہیں۔ داعش نے اپنے عسکری آپریشنز اور سزاؤں کی پیشہ ورانہ ویڈیوز بنا کر کوشش کی کہ وہ اپنے دشمنوں کے دلوں میں خوف پھیلائے اور دنیا بھر سے ناراض نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرے۔
لیکن یہ حکمت عملی بالآخر داعش کے زوال کے بنیادی اسباب میں سے ایک بن گئی، کیونکہ عالمی میڈیا اور مزاحمتی گروہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور تھے کہ داعش کی کہانی کو بلا جواب چھوڑ دیں۔ یہی میڈیا کا ردعمل تھا جس نے داعش کی میڈیا سرگرمیوں کو الٹ کر رکھ دیا اور ان کے زوال کا سبب بنا۔
ابتدا میں داعشی خوارج میڈیا کی جنگ میں فاتح دکھائی دیتے تھے۔ اس گروہ نے ٹوئٹر، یوٹیوب اور ٹیلی گرام کے استعمال سے اپنے پیغامات پوری دنیا تک پہنچائے۔ ان کی ویڈیوز اعلیٰ معیار اور پیشہ ورانہ ایڈیٹنگ کے ساتھ، بعض اوقات ہالی ووڈ کی پروڈکشنز سے مشابہت رکھتی تھیں۔ لیکن یہ ہیر پھیر کی گئی تصاویر جلد ہی داعش کے زیر تسلط زندگی کے سخت حقائق سے ٹکرائیں۔
موصل اور رقہ جیسے شہروں سے لوگوں کی رپورٹس نے داعش کے بدکردار افراد کے ناپاک اعمال کا پردہ چاک کر دیا۔ جسے داعش "اسلامی جنت” کہتی تھی، وہ حقیقت میں دہشت، بھوک اور ناامیدی کا ایک جہنم تھا۔ آزاد میڈیا اور بہادر صحافیوں نے تباہی، بے رحمانہ سزاؤں اور شہریوں کے مصائب کی تصاویر شائع کیں، جنہوں نے داعش کے افسانے اور وہم کو ختم کر دیا۔
اس میڈیا جنگ میں ایک اہم نکتہ داعش کے شیطانی کردار کے رہنماؤں کے دوہرے طرز زندگی کو بے نقاب کرنا تھا۔ جبکہ یہ گروہ لوگوں کو قناعت اور سادہ زندگی کی دعوت دیتا تھا، داعش کے رہنماؤں کے شاندار محلات، پرتعیش دعوتوں اور دولت اکٹھا کرنے کی تصاویر اور رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ ان تضادات نے بہت سے داعش کے حامیوں، خصوصاً مغرب میں موجود لوگوں کو، اس گروہ سے دور کر دیا۔ سوشل میڈیا، جو کبھی داعش کا طاقتور ہتھیار تھا، مزاحمت کا پلیٹ فارم بن گیا۔
آن لائن دنیا میں داعش کا انجام اس کے عسکری زوال کی طرح عبرتناک تھا۔ ٹوئٹر اور یوٹیوب نے آہستہ آہستہ داعش سے متعلق اکاؤنٹس بند کر دیے۔ ٹیلی گرام نے، جو کبھی داعش کے لیے محفوظ پناہ گاہ دکھائی دیتا تھا، بالآخر اس انتہا پسند گروہ کے چینلز بند کر دیے۔ آخر کار، داعش کو احساس ہوا کہ وہ عالمی میڈیا، حکومتوں اور انٹرنیٹ ایکٹوسٹس کے اتحاد کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکتا۔ یوں داعش نے تصاویر اور حقائق کی جنگ ہار دی، کیونکہ حقیقت ہمیشہ جھوٹ اور وہمی پروپیگنڈے سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
اس تحریر کا بڑا سبق یہ ہے کہ موجودہ دور، یعنی معلومات کے دور میں، کوئی دہشت گرد گروہ ہمیشہ کے لیے حقیقت کو مسخ نہیں کر سکتا۔ داعشی شاید کچھ عرصے کے لیے اپنی خوفناک تصاویر سے دنیا کو ڈرا سکیں، لیکن بالآخر متاثرین، آزاد راویوں اور آزاد میڈیا کی آواز میدان مار گئی۔ یہ فتح اس بات کی تصدیق ہے کہ حتیٰ کہ تاریک دنوں میں بھی، حقیقت کی روشنی بادل چیر کر نکل سکتی ہے اور جھوٹ کو رسوا کر سکتی ہے۔




















































