غزہ کی سرنگیں، جنہیں آج لوگ ایک اسٹریٹجک اور ناقابلِ شکست ہتھیار کے نام سے یاد کرتے ہیں، زمین کے نیچے ایک پوشیدہ دنیا ہیں۔ وہ دنیا جس میں فلسطینی مجاہدین کی برسوں کی محنت، استقامت اور خاموش جہاد چھپا ہوا ہے۔ سخت محاصروں، مسلسل نگرانی اور نہایت دشوار حالات کے باوجود ان بہادروں نے سرنگیں کھودیں، انہیں وسیع کیا اور پھر میدانِ جنگ میں استعمال کیا۔
مجاہدین اچانک سرنگوں سے نمودار ہوتے، حملہ کرتے، دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچاتے، غنیمت حاصل کرتے اور پھر زمین کے سینے کے کسی گہرے گوشے میں یکدم غائب ہو جاتے۔ یہ حکمتِ عملی اسرائیلی فوج کے لیے ایسی معما بن گئی جس کا حل ناممکن تھا۔ جس طرح رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کی کھدائی کو جنگ میں فتح کی بہترین تدبیر قرار دیا، اسی طرح غزہ کے مجاہدین کی سرنگیں بھی قابض قوتوں کو شکست دینے کا ایک نیا، پوشیدہ اور عاجز کر دینے والا راستہ بن گئیں۔
زمین کے نیچے بھوک اور آکسیجن کی کمی سے جنگ:
ان سرنگوں میں کچھ نوجوان شہید ہو گئے، کچھ کو قابض افواج نے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ خوراک اور پانی کی تلاش میں باہر نکلے، اور کچھ اب بھی لاپتا ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیسے نئے نوجوان کئی راتوں اور دنوں تک زمین کے نیچے، بغیر پانی اور بغیر کھانے کے زندہ رہتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہاتھ میں قرآنِ کریم ہوتا ہے، تلاوت کرتے ہیں، رات کی تاریکی میں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور سرنگوں میں ان کے دلوں سے گرم آنسو کے ساتھ آوازیں بلند ہوتی ہیں۔
انہوں نے اس دنیا کی وہ آسان نعمت، تنفس، جو ہر انسان کو میسر ہے، بھی قربان کر دی۔ آکسیجن کی کمی کے باعث ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان انتظار رہتا، مگر نورِ ایمان نے ان کے دلوں کو اس طرح منور کر رکھا تھا کہ وہ تاریک دنیا بھی انہیں نورانی دکھائی دیتی تھی۔
وہ مجاہد جو سرنگ کی تاریکی میں سانس کی تنگی سے لڑتا ہے، بھوک کی سخت راتیں گزارتا ہے، گھر سے دوری کی سینکڑوں راتوں کا سامنا کرتا ہے، اپنے ساتھیوں کی آواز سے محروم رہتا ہے، عزیزوں کے حال سے بے خبر ہوتا ہے اور علاقے و دنیا کے حالات سے لاعلم رہتا ہے کہ کیا ہو چکا ہے اور کیا ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود نہ شکوہ کرتا ہے، نہ تھکتا ہے اور نہ ہتھیار ڈالتا ہے، اس کا احسان پوری امت پر ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے ایمان، صبر، استقامت اور خون سے تاریخ کے صفحات کو رنگین کیا ہے۔
اے غزہ کے غیرت مند مجاہدو!
تم خوش نصیب ہو۔ تم نے دنیا کے وحشی ترین دشمن کے مقابلے میں نہتے آغاز کیا۔ علاقائی خیانتوں اور عالمی پابندیوں کا سامنا کیا، اپنوں اور غیروں نے تمہیں تنہا چھوڑ دیا، مگر تم نہ ٹوٹے، نہ کمزور پڑے اور نہ ایمان کا پرچم گرنے دیا۔
تم اس سخت آزمائش میں کامیاب رہے۔ تم نے اپنی آخرت منور کر لی اور الٰہی محبت میں صادق ثابت ہوئے۔
اللہ تمہارے زندوں کو ہمیشہ سربلند رکھے، اور تمہارے شہداء کو اپنے قرب اور دیدار کی نعمت سے نوازے۔ آمین۔




















































