۱۳۵۷ ہجری شمسی ماہِ میزان میں (۱۹۸۷ عیسوی اور ۱۳۹۹ ہجری قمری کو) جمعے کی صبح، ننگرہار ولایت کی پچیراگام ضلع میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی، جس نے بعد میں علمائے اسلام میں سے جہادی نسل کی تعلیم وتربیت میں اور شریعتِ محمدی کے سچے محافظوں میں بلند مقام حاصل کیا۔
یہ بچہ، جلیل القدر عالم دین سعد اللہ کا فرزند اور شیخ محمد و عبدالمجید اخوندزادہ کا پوتا تھا۔ یہ وہ ہستی تھی جسے عالمِ اسلام ’’شیخ الاسلام شہید رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ‘‘ کے نام سے جانتی تھی اور جس کے علم، زہد، جہاد، تقویٰ اور اخلاص کی گواہی خود زمانہ دیتا ہے۔
ہجرت اور طلب علمی کا زمانہ:
سابق سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد، شیخ حقانی بھی لاکھوں دیگر افغانوں کی طرح ترکِ وطن پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے دورانِ ہجرت دینی علوم کے حصول کا سفر شروع کیا۔ متعدد جلیل القدر اساتذہ سے علم حاصل کیا اور معروف دینی اداروں جیسے: مدرسہ الهجرة والجهاد، دارالعلوم اسلامیہ، فیض العلوم، دارالعلوم ہاشمیہ اور دارالعلوم فاروقیہ سے دینی فیض حاصل کیا۔
متوسط دینی تعلیم:
اپنی متوسط دینی تعلیم کے لیے، شیخ رحیم الله حقانیؒ سن ۱۹۹۷ء کو چارسدہ کے معروف علمی ادارے جامعہ نعمانیہ تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے جلیل القدر عالمِ دین، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ سے فیضِ علم حاصل کیا۔
فراغت اور اعلیٰ دینی تعلیم:
متوسط تعلیم مکمل کرنے کے بعد، شیخ حقانیؒ نے نوشہرہ، اکوڑہ خٹک میں واقع عظیم علمی مرکز جامعہ حقانیہ دیوبند میں داخلہ لیا۔ یہاں انہوں نے بھرپور محنت، شب بیداری، عبادت اور علم سے محبت کے جذبے کے ساتھ حدیثِ نبوی کے مستند مجموعے، خصوصاً صحاحِ ستہ کا گہرا مطالعہ کیا۔
بالآخر ۱۹۹۸ء میں، انہوں نے حدیث کی اجازت (سندِ حدیث) اور فراغت کی دستار کے ساتھ اپنی اعلیٰ تعلیم کا مرحلہ مکمل کیا۔
نسلِ نو کی تربیت، دعوت اور تدریس:
شیخ الشہداء رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ نے دینی علوم کے حصول کے بعد مختلف علمی و تدریسی مراکز میں تدریس کا آغاز کیا اور ہزاروں طلبہ کی علمی و فکری تربیت فرمائی۔ ان کے اہم تدریسی مراکز میں سے ایک ممتاز ادارہ الجامعۃ الصدیقیہ تھا، جو امارتِ اسلامیہ کے مرحوم امیر، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زیرِ سرپرستی قائم ہوا تھا۔
اس ادارے میں شیخ رحمہ اللہ نے خود کو تعلیم، تربیت، اسلامی اقدار کی ترویج اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد و نظریات کی اشاعت کے لیے مکمل طور پر وقف کردیا تھا۔
میدانِ جہاد اور فکری انحرافات کے خلاف معرکہ آرائی:
شیخ الاسلام رحیم اللہ حقانیؒ کی خدمات صرف تعلیمی حلقوں تک محدود نہ تھیں؛ بلکہ وہ جہاد کے عملی میدان میں بھی نمایاں کردار کے حامل تھے۔ انہوں نے جارحیت، فکری گمراہی، بدعت اور انتہا پسندی کے خلاف نہ صرف زبان و قلم سے بلکہ میدانِ عمل میں بھی دلیرانہ مزاحمت کی اور امتِ مسلمہ کو ان فتنوں سے بچانے کے لیے ہمہ جہت اور آخری سانس تک مسلسل کوشاں رہے۔
فتنوں کے خلاف فکری جدوجہد:
رافضیت، مودودیت، مماتیت، بریلویت، داعش اور الحاد جیسے گمراہ کن فتنوں کے خلاف شیخ رحیم اللہ حقانیؒ کی فکری محاذ آرائی ان کے علمی مشن کی نمایاں ترین جہت تھی۔ انہوں نے علمی مناظروں، تحریروں اور تدریسی مجالس کے ذریعے نہ صرف ان فتنوں کا بلیغ رد کیا، بلکہ اپنے شاگردوں کی فکری رہنمائی اور تعلیم و تربیت کے ذریعے فکری بیداری اور گہرے شعور کی ایک روشن لہر دوڑا دی۔
اخلاقی عظمت اور باوقار شخصیت:
شیخ رحیم اللہ حقانی شہید رحمہ اللہ نہ صرف علم و جہاد کے میدان کے مردِ میدان تھے، بلکہ اعلیٰ اخلاق، نرم گفتاری، دردمند دل، عاجزی اور انکساری میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے اخلاق میں صبر، بردباری، وقار اور شفقت نمایاں نظر آتی تھی۔
انہوں نے دشمنانِ دین کے ہاتھوں بارہا اذیتیں برداشت کیں، حتیٰ کہ پل چرخی جیسی بدنام زمانہ جیل میں سخت ترین تشدد کا سامنا بھی کیا، مگر وہ نہ جھکے، نہ رکے اور اپنی دعوتی و جہادی راہ پر ثابت قدم رہے۔
علمی آثار کا سرمایہ:
شیخ تقبلہ اللہ نے متعدد علمی و فقہی تصنیفات چھوڑی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے علم، فہمِ دین اور دعوت و مناظرہ کے میدان میں مشعلِ راہ بنیں گی۔ ان کے اہم تالیفات میں:
۱۔ القول المفید فی اثبات التقلید ۲۔ فریدة الغواص ۳۔ درس بیضاوی ۴۔ احسن الفرائد ۵۔ قواعد المناظره
۶۔ عقد الیالی ۷۔ احکام الغنیمة
اور اس کے علاوہ درجنوں علمی رسائل و کتب آپ کی عظیم خدمات پر شاہدِ عدل ہیں۔
شہادت:
سالہا سال کی خدمات کے بعد بالآخر شہید شیخ حقانی تقبله اللہ کو ۱۴۰۱ ھ ش، ماہ اسد کی ۲۰ تاریخ(۱۲ اگست ۲۰۲۲ء)، جمعرات کے روز، دوپہر کے دو بجے، کابل کے علاقے شش درک میں الجامعۃ المحمدیۃ کے صحن میں تدریس کے دوران داعشی خوارج نے نشانہ بنایا اور وہ شہادت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے۔ یہ پاکیزہ خون ان خوارج کے ماتھے پر شرمندگی کا داغ ہے، جو دین سے بے نیاز، علم سے محروم اور علماء سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔
داعشی خوارج؛ علم و بیداری کے دشمن:
داعشی خوارج، اسلام مخالف دیگر فرقوں کی طرح، ہمیشہ علم کی روشنی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دشمنانِ علم، حقیقی علمائے دین کی قاتل ہیں، خاص طور پر جب وہ دیکھتے ہیں کہ علماء تدریس و دعوتِ دین کے ذریعے نوجوانوں کو بیدار کرتے ہیں، جہاد کی معتبر اور صحیح تعبیر پیش کرتے ہیں اور ظلم، گمراہیوں کی روک تھام کرتے ہیں۔
شیخ رحیم اللہ حقانی جیسے بزرگ علماء کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ دین کے یہ دشمن اسلام کی حقیقت سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سچے علماء کی واضح نمائندگی کرتے ہوئے نوجوانوں کو خوارج کی جہالت سے بچاتے ہیں اور امت کو اتحاد، بصیرت اور شریعت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
لیکن شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ علماء کی شہادت علم کی روشنی کا اختتام نہیں، بلکہ ہزاروں دیگر نوجوانوں کے لیے روشنی کا آغاز ہے، جو اس عظیم راہ پر گامزن ہیں۔ ہر ایک نوجوان حق کے خلاف باطل کے خلاف محاذوں پر مضبوط ارادے کے ساتھ کھڑا ہے، جیسا کہ شہید رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ تھے۔
رحمہ اللہ رحمة واسعة، و جعل الجنة مأواه، و رزقنا الله الثبات علی دربه۔




















































