مقامی ذرائع نے المرصاد کو بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے فوجی رجیم کی حالیہ وحشیانہ بمباریوں کے جواب میں ردِّ الظلم کے انتقامی حملوں کے سلسلے میں پاکستان کے حساس مقامات پر استشہادی ڈرونز کے ذریعے مہلک حملے کیے گئے ہیں۔ خطے میں جاری افغان ڈرون کارروائیوں کے خوف سے پاکستانی فوجی اپنے مراکز چھوڑ کر نکل آئے ہیں اور شہری آبادیوں، گھروں اور عوامی تنصیبات میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان دفاعی افواج کی فضائی کارروائیاں، جو زیادہ تر جدید فوجی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور جن میں ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے، نہایت اہم اور دقیق نوعیت کی حامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں، بڑے شہروں اور حتیٰ کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف فوجی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ فوجی اہداف کو دور فاصلے سے باریک بینی کے ساتھ زیرِ نگرانی رکھا جائے، تاکہ عوامی تنصیبات اور عام شہری ان مہلک ضربوں کی زد میں نہ آئیں۔
استشہادی ڈرونز کے استعمال کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی غیر معمولی دقت ہے۔ چونکہ مخصوص اہداف کا انتخاب نہایت احتیاط کے ساتھ کیا جانا ضروری ہوتا ہے، اس لیے یہ ڈرون طیارے جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے ہدف کی نشاندہی کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی دقت اس امر میں مدد دیتی ہے کہ فوجی کارروائیاں زیادہ تر محدود اور واضح اہداف تک مرکوز رہیں، جس کے نتیجے میں میدانِ جنگ میں غیر ضروری نقصانات کے امکانات کم اور غلطی کی گنجائش نہایت محدود ہو جاتی ہے۔
عسکری امور کے ماہرین کے بقول، یہ امارتِ اسلامیہ کی دفاعی افواج کی ایک مؤثر جنگی حکمتِ عملی ہے، جس کے ذریعے نسبتاً کم وسائل کے ساتھ بڑے فوجی اہداف کو اپنے مہلک واروں کی زد میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ڈرون طیاروں کو لاگت کے اعتبار سے نسبتاً مؤثر عسکری وسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ روایتی جنگی طیاروں یا بعض دیگر عسکری آلات کے مقابلے میں ڈرونز کا استعمال کم خرچ ہوتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں وہ اہم معلومات فراہم کرنے اور دقیق اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
افغان دفاعی افواج کے استشہادی ڈرون سپاہیوں کی حفاظت کے اعتبار سے بھی نہایت اہم اور قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح کہ سب سے پہلے انہی ڈرون طیاروں کے ذریعے خطرناک علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے، تاکہ فضائی قوت علاقے کی صورتحال کے بارے میں پیشگی معلومات حاصل کر سکے۔ اس عمل سے آپریشن کی منصوبہ بندی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو جاتی ہے اور فوجی دستوں کو درپیش ممکنہ خطرات کی سطح بھی کم ہو جاتی ہے۔
استشہادی ڈرونز کی اہمیت کے حوالے سے اگر پاکستانی ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ افغان دفاعی افواج کے ان ڈرونز کے خوف نے وہاں کی فضا کو بے چینی سے بھر دیا ہے۔ چنانچہ متعدد میڈیا حلقے اپنے فوجی رجیم کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے اس بات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے جنگ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک پہنچا دیا۔
یہ تمام تبصرے ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب افغان دفاعی افواج کے فضائی ونگ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع حمزہ کیمپ نامی فوجی افسران کے رہائشی کمپلیکس کے بلاک ۲۸ کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں فوجی افسران ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔




















































