مشرقی افریقہ میں داعش کی صومالیہ کے لیے شاخ، جسے “ابناء الخلافہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اکتوبر 2015ء میں جہادی تحریک الشباب کے ایک رکن عبدالقادر مؤمن کی قیادت میں وجود میں آئی۔ عبد القادر مؤمن کو اپنی صفوں میں ایک متشدد اور اختلاف پیدا کرنے والا شخص سمجھا جاتا تھا۔ وہ پُنٹ لینڈ (Puntland) کے نیم خودمختار علاقے میں سرگرم تھا اور اپنے جاہل اور احمق ساتھیوں کے ساتھ علیحدہ ہوا اور ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اُس وقت کے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی سے بیعت کا اعلان کیا۔
یہ بیعت صومالیہ میں داعش کی شاخ کے قیام کا آغاز تھی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، اُس وقت صومالیہ میں الشباب کی جہادی تحریک عروج پر تھی، اس لیے مرکزی حکومت اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں نے باہمی ہم آہنگی اور مشاورت کے بعد، اس ملک میں جہادی تحریک کی روک تھام کے لیے عبدالقادر کی قیادت میں اس گروہ کو طویل المدت منصوبے کے تحت ابھارا اور اسے داعش کے مرکز شام سے رابطے میں رکھا۔
اس بیعت کے بعد، ابتدا میں یہ شاخ چھوٹی تھی۔ اس نے الشباب کی جہادی تحریک اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ شدید لڑائیاں کیں، تاہم دسمبر 2017ء میں داعش کی مرکزی قیادت نے اس گروہ کو باضابطہ طور پر اپنی ایک ولایت کے طور پر تسلیم کیا اور اسے "ولایۃ الصومال” کا نام دیا۔
یہ گروہ بنیادی طور پر پنٹ لینڈ (شمال مشرقی صومالیہ) میں، خاص طور پر باری کے پہاڑی علاقوں میں سرگرم ہے۔
صومالیہ میں داعش کی شاخ گزشتہ برسوں میں نسبتاً کمزور رہی؛ مگر 2024ء اور 2025ء میں اس نے دوبارہ طاقت حاصل کی اور اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں۔ اس دوبارہ ابھرنے کی بنیادی وجوہات نہایت اہم ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
اول: صومالیہ کی کمزور مرکزی حکومت اور مسلسل سیاسی عدم استحکام داعش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر پنٹ لینڈ میں، جو نیم خودمختار علاقہ ہے، حکومتی کنٹرول کمزور ہے، قبائلی تنازعات زیادہ ہیں اور معاشی مسائل نے لوگوں کو مایوسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ داعش اس خلا کو اپنے لیے موقع سمجھتی ہے، لوگوں کو بھرتی کرتی ہے اور اپنی موجودگی مضبوط بناتی ہے۔
دوم: صومالیہ میں داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 60 فیصد جنگجو غیر ملکی ہیں، جو افریقہ کے دیگر ممالک اور خطے کے مختلف ممالک سے آتے ہیں، اور یوں داعش کے لیے ایک مضبوط اور منظم قوت تشکیل دیتے ہیں۔ اسی طرح داعش کا سربراہ عبدالقادر مؤمن، جو طویل عرصے سے صومالیہ میں موجود ہے، عالمی داعش کی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے اس شاخ کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ ملتی ہے۔
سوم: داعش نے پنٹ لینڈ میں اکسٹورشن (جبری ٹیکس) اور حتیٰ کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے مضبوط مالی وسائل حاصل کیے ہیں۔ یہ گروہ تاجروں اور کمپنیوں سے ماہانہ رقوم وصول کرتا ہے، جو نہ دے، اسے دھمکاتا ہے یا اس پر حملہ کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، 2024ء میں بوصاصو شہر میں بعض بڑے اسپتال اور کمپنیاں اسی وجہ سے بند ہو گئی تھیں کہ وہ رقوم ادا نہیں کر رہی تھیں۔ مغربی اداروں اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، داعش صومالیہ میں تاجروں، کمپنیوں، درآمدات، مویشیوں اور زراعت سے جبری ٹیکس یا زکوٰۃ کے نام پر لاکھوں ڈالر جمع کرتی ہے، جو جنگجوؤں کی تنخواہوں، اسلحے اور بھرتی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
چہارم: الشباب کی جہادی تحریک کے ساتھ قیادت کی مسابقت اور اسی وقت خطے کی بدامنی (جیسے مغربی افواج کی کم موجودگی اور اَٹمیس مشن میں تبدیلی) نے داعش کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے۔ اگرچہ داعش، الشباب کی جہادی تحریک کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیتی ہے، لیکن عالمی داعشی نیٹ ورک سے وابستگی کے باعث اسے مالی اور عملی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جس سے اس کی ترقی میں تیزی آئی ہے۔




















































