Site icon المرصاد

عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! ساتویں قسط

۵- استعمار، سیکولرزم اور فکری یلغار

مغربی ممالک کی جانب سے کمزور، بالخصوص اسلامی ممالک پر کیا جانے والا سب سے سخت، گہرا اور تباہ کن تاریخی، ثقافتی، معاشی اور دینی حملہ استعمار تھا۔ اس استعماری طاقتوں نے مختلف شکلوں میں یہ کوشش کی کہ زیرِ تسلط اقوام کے فکری افق کے ساتھ ساتھ ان کی عسکری، معاشی، دینی اور ثقافتی صلاحیتوں کو اپنے مقاصد کی طرف موڑ دے اور انہیں اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے۔

اس یلغار نے زیرِ تسلط ممالک پر نہایت منفی اثرات مرتب کیے، جن کی علامات اور نتائج برسوں بلکہ صدیوں تک ان اقوام کی زندگی پر باقی رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں استعمار اور سیکولرزم کا نفوذ، عصرِ حاضر کے مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔

ابتدا میں استعماری طاقتیں معاشی مقاصد کے نام پر اسلامی سرزمینوں میں داخل ہوئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے استعماری عزائم کھل کر سامنے آ گئے۔ اسی طرح سیکولرزم نے بھی شروع میں اُن طلبہ کے ذریعے مسلم خطوں میں نفوذ حاصل کیا جو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور دیگر ممالک گئے تھے۔

گزشتہ ایک صدی کے دوران استعماری طاقتوں اور سیکولر عناصر نے پوری قوت کے ساتھ مسلم اقوام کی ترقی اور بیداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ مغرب کی ہمہ جہت حمایت کے بل پر انہوں نے اپنے مہرے مسلم ممالک کے اہم سرکاری عہدوں پر بٹھا دیے اور مخلص اور دین دار قیادت کو اقتدار تک پہنچنے نہیں دیا۔ سیکولر عناصر نے بھی ان مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں کہ اسلام کو معاشرے اور حکومت سے بے دخل کر کے اسے صرف انفرادی زندگی تک محدود کر دیا جائے۔

اسی طرح فکری یلغار نوآبادیات کے اُن نرم اور پوشیدہ ہتھیاروں میں سے ہے جو بغیر عسکری حملے کے اقوام کے عقائد، اقدار اور فکری شناخت کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس قسم کی یلغار میں ذرائع ابلاغ، تعلیمی نظام، صارفیت پر مبنی ثقافت اور درآمد شدہ فکری پیداوار کو استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ نسل در نسل ذہنوں کو آہستہ آہستہ ان کی دینی اور ثقافتی جڑوں سے کاٹ دیا جائے۔

مسلم ممالک، خصوصاً جب وہ ترقی، طاقت اور خودمختاری کی طرف گامزن ہوتے ہیں، ہمیشہ مغربی ممالک اور کفر کی دنیا کی یلغاروں اور حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ یہ حملے کبھی زمینی اور عسکری افواج کے ذریعے کیے گئے اور کبھی کافر ممالک نے حربے اور طریقۂ کار بدل کر خیرخواہی کے نعروں اور “نیو کلونیل ازم” جیسے رنگین اور پر فریب الفاظ کے پردے میں مسلم ممالک پر قبضہ کیا۔

حقیقت میں استعمار ممالک پر قبضے کا سب سے تلخ اور خطرناک راستہ ہے، جس کے منفی اثرات اور نتائج برسوں اور صدیوں تک زیرِ استعمار اقوام کی مختلف نسلوں پر سایہ فگن رہتے ہیں اور انہیں اپنے اثر میں جکڑے رکھتے ہیں۔

ماضی میں استعمار زیادہ تر عسکری اور معاشی چہرہ رکھتا تھا، مگر موجودہ دور میں اس نے فکری اور ثقافتی شکل اختیار کر لی ہے۔ استعماری قوتیں مغرب نواز فکری رہنماؤں کی ترویج کے ذریعے ذہنی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی وابستگی جو زمینی قبضے سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ اقوام کی ارادی اور فکری خودمختاری کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔

اسی طرح فکری یلغار سیکولرزم کے دائرے میں، جو اس کے اہم تصورات میں سے ہے، پھیلائی جاتی ہے۔ یہ سوچ سماجی، سیاسی اور علمی زندگی سے دین کو الگ کر کے اس کے کردار کو صرف انفرادی دائرے تک محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فکری یلغار کا اثر بہت سے مسلمانوں پر پڑا ہے جو محض اسلام کے نام پر اکتفا کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا نظام ہے جس کا تعلق صرف مسجد تک محدود ہے۔

ان چیلنجز کے مقابلے کے لیے فکری شعور کی بیداری، اسلامی اقدار کی بنیاد پر تعلیمی نظام کی مضبوطی، اور درآمد شدہ افکار کا تنقیدی جائزہ، فکری یلغار اور استعمار کے اثرات کے خلاف جدوجہد کے اہم ترین ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ دینی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ معاشرے کے باخبر طبقے کی مسلسل توجہ اور علمی و فکری کاوشوں سے وابستہ ہے۔

Exit mobile version