غزوہ بدر سے حاصل ہونے والے اسباق کے تسلسل میں آج چند مزید اسباق اور عبرتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں:
16: کفار سے مدد مانگنا:
جب غزوہ بدر کے لیے صف بندی ہو رہی تھی، تو ایک مشرک بھی صفوں میں شامل ہو گیا تھا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس مشرک کو صف سے نکال دیا، لیکن اس نے ایمان لا کر دوبارہ صف میں شمولیت اختیار کی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ عمل واضح کرتا ہے کہ ایک مسلم حاکم کافر کو مسلمانوں کے عمومی امور میں استعمال کر سکتا ہے اور اس سے کام لے سکتا ہے، بشرطیکہ درج ذیل شرائط موجود ہوں:
اس میں مسلمانوں کی مصلحت ہو۔
کافر کی مدد دعوتی امور میں نہ ہو۔
اس پر مکمل اعتماد ہو اور اسے یقین دلایا جائے۔
کافر اسلامی قیادت کے تابع ہو۔ وہ اسلامی قیادت کے ماتحت ہو، یعنی قائد نہ ہو۔
اس مدد سے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نہ پیدا ہوں۔
کافر کی مدد کی شدید ضرورت ہو۔
ان شرائط کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مشرک کو شامل ہونے سے اس لیے روکا کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، یعنی آخری شرط موجود نہیں تھا۔ لیکن ہجرت کے موقع پر جب انہوں نے مشرک عبد اﷲ بن اُریقط کو مدد کے لیے رکھا تھا، وہ ان شرائط پر پورا اترتا تھا اور اس وقت شدید ضرورت بھی تھی۔
17: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے میدان جنگ کے کنارے ایک چھپر بنایا گیا، جس سے کچھ اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں جو امت کے قائدین اور سرداروں کے لیے مفید ہیں:
الف: میدان جنگ میں سپہ سالار کو ایسی بلند جگہ پر ہونا چاہیے جہاں سے وہ لشکر کی حرکات و سکنات پر نظر رکھ سکے، تاکہ جنگ کے دوران کمانڈ آسانی اور بہتر طریقے سے کی جا سکے۔ یہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان کے رفقاء کا طریقہ تھا۔
ب: سپہ سالار کی حفاظت پر بہت توجہ دینی چاہیے، کیونکہ سپہ سالار کی شہادت پورے لشکر کے لیے مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ لشکر کو چاہیے کہ اس کی حفاظت کے لیے ایک گروپ یا دستہ تشکیل دے، جیسے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں ایک حفاظتی دستہ بنایا گیا تھا۔
غزوہ بدر کی رات اسلامی لشکر پر ایک عجیب سی نیند طاری ہوئی، جس میں انہیں ذرا بھی خوف کا احساس نہیں ہوا۔ سیرت کے ماہرین اس نیند (نعاس) کی دو وجوہات بیان کرتے ہیں:
انہوں نے مسلسل سفر کیا تھا، اس لیے وہ قدرتی طور پر تھکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کی تاکہ ان کی تھکاوٹ دور ہو اور وہ صبح کے لیے توانا ہو جائیں۔
دشمن کے قریب ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر خوف کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس نیند نے ان کے دلوں سے یہ خوف دور کر دیا۔
باب دوم: لڑائی کے آغاز سے اختتام تک:
1: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملی بہت کامیاب تھی، جو اس سے پہلے عربوں کے جنگی طریقوں میں رائج نہیں تھی۔
مسلمانوں نے نماز کی صفوں کی طرح منظم صف بندی کی۔ پہلی صف نیزہ بازوں کی تھی، جو دشمن کے گھڑ سواروں کے حملوں کو روکتے تھے۔ دوسری صف تیر اندازوں کی تھی۔ اس حکمت عملی کے فوائد یہ تھے کہ کفار کے سامنے مسلمان نظم و ضبط کے پابند نظر آئے، جس سے ان کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ لشکر کا ایک چھوٹا حصہ رکھا تھا۔ اگر کہیں خلا پیدا ہوتا تو وہ اسی حصے سے مدد بھیجتے، یا اگر کسی خاص موقع پر کمین کی ضرورت ہوتی تو اسی حصے کو کمین کے لیے بھیجتے۔ دشمن نے اس قوت کا اندازہ نہیں لگایا تھا، اور جب ان کی نگاہ اس پر پڑتی تو ان کا حوصلہ پست ہو جاتا اور عزم کمزور پڑ جاتا۔
یہ طریقہ دوسروں سے زیادہ مؤثر تھا کیونکہ یہ صفیں دشمن کے سامنے ایک مضبوط دیوار اور بلند و بالا محل کی مانند تھیں، جنہیں توڑنا ناممکن تھا۔ اسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے صحابہ کرام کو ہدایت کی کہ جب کفار کا لشکر قریب آئے تو تیر برسائیں، اور جب وہ صفوں میں داخل ہو جائیں تو تلواروں سے وار کریں۔ اسی طرح تیر اندازی میں احتیاط برتیں، یعنی اسراف نہ کریں۔
یہ ہدایات کسی تربیت یافتہ جنرل یا جنگی افسر کی نہیں، بلکہ ایک نبی کی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بغیر رسمی تعلیم یا تجربے کے عقل و حکمت سے نوازا اور اپنے دشمن پر بے مثال فتح عطا کی۔
2: ہم نے پڑھا کہ سواد بن غزیہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نیزے سے چھوا جب وہ صفوں کو درست کر رہے تھے۔
سواد نے کہا کہ میں بدلہ لوں گا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اجازت دی، لیکن سواد نے بدلہ لینے کے بجائے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک جسم کو بوسہ دیا۔ اس واقعے اور سواد کے عمل سے امت کے لیے چند اسباق حاصل ہوتے ہیں:
الف: اسلام میں نظم و ضبط کی پابندی اسلاف سے ورثے میں ملنے والا عمل ہے، جو ہر میدان میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
ب: اسلام انصاف کا دین ہے، اشرافیہ اور غیر اشرافیہ کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ اسلام سب کو برابر حقوق دیتا ہے۔
ج: لشکر کے سپاہی کا اپنے سردار کے ساتھ معنوی رابطہ ہونا چاہیے، اور اس سے دل کی گہرائیوں سے محبت ہونی چاہیے۔ اسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مبارک جسم پاکیزہ ہے، جسے چومنے یا چھونے والوں نے عظیم سعادت حاصل کی۔
د: مرد کا ناف سے اوپر کا حصہ ستر میں شامل نہیں، ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سواد کو اپنا پیٹ چومنے کا موقع نہ دیتے۔




















































