مزاحمت کی داستان
صہیونی حملے اور آگ نے گھروں کو جلا رکھا ہے اور دنیا کی خاموشی کی فضا مزید گھٹن زدہ ہو چکی ہے؛ مگر ان سب کے بیچ جو قوت ایک نہ جھکنے والے ستون کی مانند ڈٹی ہوئی ہے، وہ مزاحمت کی حماسی داستان ہے۔ غزہ میں مزاحمت محض ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں؛ بلکہ ایک مشترکہ روح ہے، ایک وجودی انتخاب ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ذلت آمیز زندگی کے مقابلے میں باعزت موت کو ترجیح دی ہے۔
مزاحمت نے اپنی جڑیں فلسطینی جدوجہد کی گہری تاریخ میں پیوست کر رکھی ہیں اور دنیا کی سب سے زیادہ مسلح اور طاقت ور افواج میں سے ایک کے مقابلے میں اس نے افسانوی اور حماسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہادر مجاہدین کی ایک غیر متوازن جنگ ہے—کم وسائل کے ساتھ خون کے آخری قطرے تک مسلح قوت کے سامنے ڈٹ جانا؛ یہ ارادے اور جدید ہتھیاروں کے درمیان آزمائش ہے۔
بادی النظر میں مزاحمت کو شاید صرف فوجی کارروائیوں اور کھنڈرات سے اُٹھتے سادہ راکٹوں تک محدود سمجھا جائے؛ مگر حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ مزاحمت سب سے پہلے ایک نفسیاتی قلعہ تعمیر کرتی ہے—ایسا قلعہ جو اُن دلوں سے خوف نکال دیتا ہے جو روزانہ موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں۔ یہی بےخوفی صہیونی جنگی مشین کے مقابلے میں سب سے بڑی کامیابی ہے؛ وہ مشین جو رُعب اور دہشت کے ذریعے عوامی ارادے کو توڑنا چاہتی ہے۔
مزاحمت کمزوری کو طاقت میں بدلنے کا فن ہے؛ جب دشمن فضا، سمندر اور زمین پر حاوی ہو، تو مزاحمت لڑائی کو سرنگوں کی گہرائیوں، تنگ گلیوں اور قابضین کی بستیوں کے قلب تک لے جاتی ہے—وہاں جہاں برتر ٹیکنالوجی اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے اور جنگ جرأت، قربانی اور ایثار کی کسوٹی بن جاتی ہے۔
مزاحمتی قوتوں کی سرگرمیاں محض دفاعی ردِعمل نہیں؛ بلکہ جدّت اور اچانک حملوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے محاصرے اور قلت کے سائے میں سیکھ لیا ہے کہ محدود وسائل سے زیادہ سے زیادہ اثر کیسے پیدا کیا جائے۔ غزہ سے داغا جانے والا ہر سادہ میزائل محض ایک دھماکہ نہیں، بلکہ محصور انسانوں کی وہ پکار ہے جو دنیا کے کانوں تک پہنچتی ہے۔ ہر اچانک کارروائی صرف ایک عسکری جھڑپ نہیں، بلکہ دشمن کی ناقابلِ شکست دکھاوٹی ہیبت کو چکناچور کرنا ہے۔ یہ اقدامات زیرِ قبضہ عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ سر جھکا دینا اور تسلیم ہونا کوئی انتخاب نہیں۔
یہ ماننا ہوگا کہ مزاحمت کی روح، خود عمل سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ یہ روح اُس ایمان سے جنم لیتی ہے جو راہ و مقصد کی حقانیت اور کامیابی تک جدوجہد کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔ اسی یقین نے ایسی نسل کی پرورش کی ہے جو نہ صرف بموں سے نہیں ڈرتی، بلکہ کھنڈرات کے درمیان عارضی اسکول قائم کرتی ہے اور زندگی کا سفر جاری رکھتی ہے۔
ان کے لیے مزاحمت ایک طرزِ زندگی بن چکی ہے؛ اُس ڈاکٹر سے لے کر جو بے بس ہسپتال میں لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی ذات قربان کرتا ہے، اُس بچے تک جو اپنے منہدم گھر کا ایک پتھر پرچم کی طرح بلند کرتا ہے۔ یہ روح ناقابلِ مثال ہے؛ فرد سے معاشرے تک پھیلتی ہے اور ایک ایسی ناقابلِ شکست جال بُن دیتی ہے جسے توڑنا شہروں کی مادی تباہی سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے۔
آخرکار، غزہ کی مزاحمت کی یہ حماسی داستان حق کی باطل پر اور معنویات کی مادیات پر فتح کا بیان ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جو کبھی خاموش رہتی ہے اور کبھی سرد سیاسی حساب کتاب کی گرفت میں جکڑ جاتی ہے، فلسطینی مزاحمت تمام مظلوموں کو یاد دلاتی ہے کہ چھوٹی اور کمزور اقوام بھی بڑی جنگی مشینوں کے مقابل تاریخ رقم کر سکتی ہیں اور دنیا کو عظمت کا درس دے سکتی ہیں۔ یہ مزاحمت وہ شعلہ ہے جس نے نہ صرف غزہ بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی روشن کیا ہے—ایسا شعلہ جسے نہ صہیونی رجیم کی طاقت بجھا سکتی ہے اور نہ ہی دنیا کی خاموشی۔




















































