مسلمان معاشرے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ سے ایسے نظام کی تلاش میں رہے ہیں جو دینی اقدار، سماجی انصاف اور سیاسی آزادی پر قائم ہو، اور جہاں وہ اسلامی شریعت کے زیرِسایہ اُس عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں جس کی انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے۔
امارتِ اسلامی افغانستان، ایک ایسے نظام کے طور پر جو اس سرزمین کی اسلامی، ثقافتی اور تاریخی روح سے ابھری ہے، اپنی قربانیوں اور جانفشانی کے سبب ملتِ اسلامیہ کے کئی دیرینہ خوابوں کو حقیقت کا روپ دے چکی ہے۔
اس مضمون کا اصل سوال یہ ہے کہ میں امارتِ اسلامی کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟ اور افغانستان کی امارتِ اسلامی کو ایک معتدل، افراط و تفریط سے پاک نظام کے طور پر کیوں مانتا ہوں؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک صحیح فطرت رکھنے والا انسان ہر معاملے میں حق و انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ میں یہ سوالات کسی منصب یا ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ صرف سچائی اور حقیقت کو واضح کرنے کے لیے قلم اُٹھا رہا ہوں۔
جیساکہ سب پر ظاہر ہے، جب نیٹو اور امریکی قابض افواج نے اپنے تمام تر فوجی سازوسامان اور مقامی ایجنٹوں کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا، انہی دنوں مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے ایمان و یقین کے ساتھ وہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے جو سنہری حروف میں رقم ہوگئے۔ انہوں نے ریڈیو خطاب میں کہا:
’’امریکا ہمیں شکست کی دھمکی دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں نصرت و فتح کا وعدہ کررکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کا وعدہ سچا نکلتا ہے۔‘‘
یقیناً ایسے امراء کا وجود، جو اس مقدس قافلے کے بانی تھے، اس نظام کی حقانیت کی روشن دلیل ہے۔ قابضین کے باضابطہ داخلے کے بعد ایک دیندار، غیرتمند اور مجاہد قوم ۔۔ جو پاک دامن ماؤں کی گود میں پلی، تقویٰ شعار اساتذہ کے زیرِتربیت پروان چڑھی، اور جہاد و آزادی کی روح کے ساتھ جوان ہوئی ۔۔ میدانِ قربانی میں اُتری۔
بے شک جہاد کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مصلحین اور فاسدین کے درمیان فرق نمایاں ہوجائے۔ افغانستان کے بیس سالہ جہاد میں ہم نے دیکھا کہ سب سے مخلص، دین دار اور غیرتمند لوگ ۔۔ علماء، حفاظ، قراء اور مخلص عوام ۔۔ اسی کارواں کے ہمسفر تھے۔ انہوں نے شوق سے جہاد کے تپتے محاذوں کا رخ کیا، کئی نے شہادت پائی، بعض قید ہوئے، ہزاروں گھرانے بے گھر ہوئے، اور ہزاروں علماء و حفاظ صرف جہاد کے فتویٰ اور وطن کی آزادی کی پکار کی وجہ سے لاپتہ ہوگئے۔ مختصر یہ کہ افغان قوم نے ایک ایسا پاکیزہ اور بے مثال جہاد کیا جس کی نظیر معاصر تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔
اکیس برس کی جدوجہد کے بعد، اللہ تعالیٰ نے وہی وعدہ پورا فرمایا جو ہمیشہ اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ فرمایا ہے۔ شہداء کے خون، مظلوموں کی دعاؤں، ماؤں کی مامتا اور یتیموں کے آنسوؤں کا ثمر ملا اور واضح نصرت افغان مجاہد قوم کے حصے میں آئی۔ ہم نے اسلام دشمنوں کو ذلت آمیز شکست اور رسواکن فرار کی صورت میں دیکھا۔ یہ دن افغانستان اور دنیا کی تاریخ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بدترین شکست کے طور پر ثبت ہوا، اور آنے والی آزاد نسلیں ہمیشہ اس پر فخر کریں گی۔
امارتِ اسلامی کی کامیابی اور اسلامی نظام کے قیام کے بعد، جب مکمل امن اور ایسا نظام قائم ہوا جس میں مسلمانوں کا دین، عزت اور وقار محفوظ ہے، کچھ لوگ اسلام کے حلفی دشمنوں کے ہمنوا بنے اور طرح طرح کے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈے کرنے لگے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے کھوکھلے پروپیگنڈے کے ذریعے امارتِ اسلامی کے خلاف عوام کے اذہان مسموم کریں۔
آج جبکہ افغانستان کے مجاہد عوام کی کامیابی کو تقریباً چار برس گزر چکے ہیں، کافر اور منافقین، جو ہر تدبیر کے باوجود اسلامی نظام کو توڑنے میں ناکام رہے، اب بے بنیاد اعتراضات اور شبہات کے ذریعے لوگوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام کی روح اور فلسفے یعنی تعامل، عہد اور شرعی تعلقات سے ناآشنا ہیں، اور رسولِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے ناواقف ہیں، وہ شکوک و شبہات پھیلا کر بعض عوام کو امارتِ اسلامی کے بارے میں بدگمان کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
حقیقت میں، ہر دیندار اور آزاد انسان کو ایسے نظام کا خواہاں ہونا چاہیے اور اس کی حمایت کو اپنے اوپر لازم سمجھنا چاہیے۔
۱۔ امارتِ اسلامی کی حمایت کی بنیادی وجوہات یہ ہیں:
۲۔ اسلامی شریعت کا نفاذ: یہ سب سے بڑی اور روشن دلیل ہے۔
۳۔ حجاب، نماز اور دیگر دینی احکام پر عمل کی تاکید: غیر ملکی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں دینی اقدار کا تحفظ۔
۴۔ غیر ملکی تسلط کا خاتمہ: امارت نے مزاحمت کے ذریعے آزادی بحال کی۔
۵۔ امن و استحکام کا قیام: جو علمی، معاشی اور ثقافتی ترقی کی راہیں ہموار کرتا ہے اور معاشرے کو انتشار سے بچاتا ہے۔
۶۔ سماجی انصاف اور کرپشن کے خلاف جدوجہد۔
۷۔ قانون کی بالادستی۔
۸۔ ثقافتی یلغار کے مقابل ڈھال بننا: امت کو مغربی میڈیا اور ثقافت کی یلغار سے بچانا۔
خلاصہ یہ کہ امارتِ اسلامی کی حمایت محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک گہرا دینی و ایمانی عقیدہ ہے۔ یہ نظام اسلامی اقدار، آزادی، سماجی انصاف اور اسلامی تہذیبی شناخت کے تحفظ پر قائم ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ امارتِ اسلامی کی حمایت دراصل دین، وطن، عزت اور آئندہ نسلوں کے ایک آزاد و اسلامی مستقبل کی حمایت ہے۔




















































