پاکستان خطے میں دہشت گردی کا ایک بڑا اور ماہر منصوبہ ساز رہا ہے۔ اپنے ناجائز مفادات کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے پراکسی گروہوں کی تشکیل اور استعمال اس کی سرشت میں شامل ایک مستقل وصف بن چکا ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم کو ازسرِنو منظم اور فعال کرنے کی راہ اپنائی ہے، جبکہ اسی کے ساتھ پاکستان کے بڑے شہر اور فوج کے زیرِ کنٹرول پہاڑی علاقے داعش کے متعدد مراکز کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔
افغانستان، خطے اور دیگر ممالک میں ہونے والے حملے انہی مراکز سے منظم اور انجام دیے جاتے ہیں۔ افغانستان میں قندھار کا حملہ، روس میں کنسرٹ پر ہونے والا حملہ، اور ایران کے شہر کرمان میں پیش آنے والا واقعہ۔ یہ سب ایسے واقعات ہیں جن کے مرتکبین کی شناخت کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ انہیں پاکستان میں موجود مراکز سے تربیت دی گئی اور وہیں سے روانہ کیا گیا۔
مثال کے طور پر: بلوچستان میں قائم وہ مراکز جو بعد ازاں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں تباہ کیے گئے؛ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں جبار میلہ کا اہم مرکز جو ڈرون حملوں کے ذریعے ختم کیا گیا؛ عبدالمالک، داعش کا مقامی ذمہ دار، جو خیبر کے علاقے سورغر میں مارا گیا؛ برہان، ایک اور داعشی کمانڈر، جو بعد میں پنجاب کے ضلع قصور میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہوا؛ بلوچستان میں خراسانی داعش کا اہم پاکستانی شہری ذمہ دار عاصم بلوچ، جو ضلع مستونگ کا رہائشی تھا اور بعد ازاں اپنے تاجک ساتھی کے ہمراہ بلوچستان ہی میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیا؛ اسی طرح محمد گورن، ترک داعشی جس کا عرفی نام ’’یحییٰ‘‘ تھا، جسے ترک خفیہ اداروں نے افغانستان پاکستان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا اور جس نے بلوچستان میں ایسے داعشی مراکز کی موجودگی کا اعتراف کیا جہاں مختلف ممالک کے شہریوں کو مختلف ممالک میں حملوں کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔
یہ وہ زندہ اور مستند مثالیں ہیں جنہیں معتبر ذرائع نے شائع کیا ہے، اور جنہیں پاکستانی نظام نے خاموشی کے ساتھ تسلیم بھی کیا ہے۔ مزید برآں، المرصاد کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جس میں باڑہ کے علاقے میں گیارہ داعشی عناصر کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں داعش کے مراکز نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں، اور پاکستان اب بھی خطے میں داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت اور تنظیم نو میں مصروفِ عمل ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے داعشی عناصر غیر ملکی شہریت رکھتے تھے۔ یہ کارروائی بھی اُن حملوں کے تسلسل میں انجام دی گئی ہے جو اس سے قبل بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے داعش کے ٹھکانوں اور ذمہ داران کے خلاف کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان میں داعش کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے، اور مقامی عناصر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی داعشیوں کی ہلاکت، اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں داعش کے جمع ہونے کا آخری محور ومرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ داعش کے مقامی اور غیر ملکی عناصر کو یکجا کر کے ازسرِنو منظم کیا جائے، تاکہ انہیں خطے میں ہمسایہ ممالک کے خلاف اور اندرونِ ملک عوامی تحریکوں کے مقابل دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے، خطے کے امن کو سبوتاژ کیا جائے، اور اسی راہ سے اپنے مذموم اسٹریٹجک منصوبوں اور اہداف کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے تربیتی مراکز کی موجودگی، داعش کی تنظیم نو اور اس کی تقویت کے لیے پاکستانی نظام کی کوششوں کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے، اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر داعشی مراکز کے وجود کی ایک مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کی ازسرِنو تشکیل کے لیے پاکستانی نظام کی کاوشیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ خطے اور دنیا کے تمام ممالک کو مشترکہ طور پر پاکستانی نظام کی ان خطرناک اور فتنہ انگیز سرگرمیوں کا سدِّباب کرنا چاہیے، اور اسے اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے ناجائز مفادات کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگائے؛ ورنہ بعید نہیں کہ خطہ اور دنیا ایک بار پھر داعش جیسی خونخوار تنظیم کے مظالم کا سامنا کریں۔




















































