پاکستانی بلوچ مسلح گروہ کے ایک رہنما بشیر زیب بلوچ نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ایک علاقے سے جاری کی گئی ویڈیو میں اپنے حامیوں اور بلوچستان کے عوام کو مقامی حکومت اور پاکستان کے فوجی رجیم کی ظالمانہ سیاسی پالیسیوں کے خلاف جرأت مندانہ قیام اور مزاحمت کی دعوت دی ہے۔
ویڈیو پیغام کے دوران، جب وہ اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ ہاتھ میں وائرلیس تھامے موٹر سائیکل پر سوار دکھائی دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنی سرزمین کی آزادی اور تحفظ کے لیے سنہری موقع آن پہنچا ہے، اب لازم ہے کہ سب لوگ متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہوں اور پورے عزم کے ساتھ حساب لینے کے لیے میدان میں اتریں۔
اس رہنما کی اس پکار اور کھلے اعلان نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں افغانوں کے علاوہ دیگر حق پرست افراد کی توجہ بھی ایک تلخ حقیقت اور بارہا دہرائے جانے والے جھوٹ کی طرف مبذول کرا دی۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا فوجی رجیم مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ بلوچ مسلح عناصر کو پاکستان میں مسلح تصادم اور جنگ کے لیے افغانستان سے مدد ملتی ہے اور ان کے رہنما امارتِ اسلامی کی سرپرستی میں وہاں مقیم ہیں۔ یہ الزام بے بنیاد اور بلا ثبوت ہے۔ جیسا کہ امارتِ اسلامی اس سے قبل واضح کر چکی تھی، اب خود حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ مسلح تحریک پاکستان کی خالصتاً ایک داخلی مسئلہ ہے، جس کے اسباب اور جڑیں بھی پاکستانی ہیں اور کسی سے پوشیدہ نہیں۔
حالیہ دنوں میں بلوچ مسلح گروہوں نے شدید تشدد اور جھڑپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جو فارسی ضرب المثل ’’تنگ آمد، بہ جنگ آمد‘‘ کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ پاکستانی رجیم اپنی حکمرانی کے متعدد شعبوں میں ناکامی اور پس ماندگی کا شکار نظر آتا ہے اور اس بار بھی بلوچ مسلح تحریک کے مقابلے میں بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اسی کمزوری کو چھپانے کے لیے وہ اس داخلی بحران کو ایک خارجی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
بلوچ مسلح تحریک دراصل اُن لاکھوں بلوچوں کی پشت پناہی سے ابھرنے والی جدوجہد ہے جن کے مادی اور معاشی وسائل برسوں سے پنجاب کے کنٹرول میں ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان کے قدرتی وسائل سے انہیں محروم رکھا گیا، بلکہ ان کی عزت و آبرو بھی پاکستانی فوج کے ہاتھوں بے رحمی سے پامال کی جا رہی ہے۔ قتل، قید، جبری گمشدگیاں اور آپریشن و سکیورٹی کے نام پر جبری بے دخلی معمول بن چکی ہے۔ اسی لیے اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ بلوچ مزاحمتی مسلح جدوجہد ان تمام ظالمانہ اقدامات کے خلاف ایک فطری ردِعمل ہے۔
بلوچستان سے متعلق آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں سے اس صوبے میں پاکستانی فوج اور اس سے وابستہ ملیشیاؤں کی جانب سے بدترین لوٹ مار اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی فوجی حکام عوام کے ساتھ دشمنی اور جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اب تک سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد فوج اور خفیہ اداروں کے احکامات پر لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ روزانہ ’’امن و استحکام‘‘ کے نام پر لوگ قتل کیے جاتے ہیں، بنیادی انسانی اور شہری حقوق کو روند ڈالا گیا ہے، اور پنجاب مرکزیت پر مبنی پالیسیوں کے تحت مقامی آبادی اپنے ہی مفادات سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
یہ جنگ کسی بیرونی حمایت یا خارجی ایجنڈے کی پیداوار نہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ خود پاکستانی فوج ہے، جس نے جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر بے شمار افراد کو اغوا کیا، قتل کیا یا آج تک لاپتہ رکھا ہوا ہے۔ ان وسیع فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں مقامی سماجی ڈھانچہ اور طرزِ زندگی تباہ ہو چکا ہے، اور ایک نئے انسانی بحران کی لہر جنم لے رہی ہے۔
بلوچستان میں اقتدار سے بلوچ قوم کو عملاً بے دخل کرنا عدم مساوات کی ایک اور شکل اور اس تنازعے کو بھڑکانے کا ایک بڑا سبب ہے۔ سیاسی بے دخلی اور مرکزیت نے مقامی بلوچ آبادی کو اپنے ہی وطن میں اجنبیت کے احساس سے دوچار کر دیا ہے۔ فوجی رجیم نے نہ بلوچ عوام کو اور نہ ہی ان کی قیادت کو سیاسی ڈھانچے میں کوئی حقیقی مقام یا اختیار دیا ہے؛ انہیں صرف ’’پاکستان‘‘ اور ’’استحکام‘‘ کے نعروں کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ سیاسی بے اختیاری کو یقینی بنانے کے لیے ان کے قتل اور صفائے تک کی پالیسیاں عملی جامہ پہنائی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی فوجی رجیم نے طویل عرصے سے قدرتی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے، جن کے ثمرات صرف پنجاب اور اسلام آباد تک محدود ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے کے معاشی اور سماجی حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، اور یہی ناانصافی اور محرومی بلوچ مسلح تحریک کے احتجاج اور بغاوت کا ایک بڑا محرک بنی ہے۔
پاکستان جو خود کو وسیع عوامی حمایت یافتہ جمہوریت قرار دیتا ہے، اس دعوے کی حقیقت خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی آشکار ہے، جہاں عوام کو کسی قسم کا حقیقی سیاسی اختیار حاصل نہیں اور وہ تاریخی محرومی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاسی اور جماعتی رہنما باری باری نقاب پوش مسلح افراد یا بم دھماکوں کے ذریعے قتل کیے جاتے ہیں، اور مجرموں کو اس لیے سزا نہیں دی جاتی کہ وہ خود فوج اور خفیہ اداروں کے سرپرست عناصر یا اصطلاحاً کرائے کے قاتل ہوتے ہیں۔
اب وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان دنیا کی آنکھوں میں مزید دھول جھونکنے کے بجائے بعض سیاسی حقائق کو تسلیم کرے اور یہ مان لے کہ اس کے داخلی تنازعات میں نہ افغانستان ملوث ہے اور نہ کوئی دوسرا ملک۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود فوجی حکومت کی ناکام اور ظالمانہ پالیسیاں اور بیرونی مفادات پر مبنی منصوبے ہیں جنہوں نے پاکستان میں سول حکومت کی ساکھ اور حیثیت کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اب واحد راستہ یہی بچتا ہے کہ الزام تراشی ترک کر کے دنیا کے سامنے حقیقت کے ساتھ کھڑا ہو، اپنے عوام کے ساتھ انسانی اور منصفانہ سلوک اختیار کرے، ورنہ عوامی طاقت اسے اقتدار کی کرسی سے اتار دے گی اور یہ صورتِ حال کسی کے بھی حق میں بہتر نہ ہوگی۔
اپنی انہی ناکام پالیسیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستانی رجیم حسبِ عادت ایک بار پھر الزام دوسروں پر دھر رہا ہے، اور اس ضمن میں بارہا انگلی افغانستان کی جانب اٹھائی جا چکی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان نہ اس معاملے میں ملوث ہے، نہ کسی قسم کی حمایت فراہم کرتا ہے، اور نہ ہی بلوچ قیادت افغان سرزمین سے سرگرمِ عمل ہے۔ افغان حکومت اس اصول پر قائم ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی تنازعات میں مداخلت نہیں کرتی، اور اس مؤقف کو اس نے اپنی دوبارہ حکمرانی کے بعد عملاً ثابت بھی کر دکھایا ہے۔




















































