باخبر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پشاور میں زلمی بدخشی کے نام سے وہ اہم داعشی ہلاک ہوا ہے جس نے گذشتہ سال ۲۰۲۵ء ماہ فروری کی ۱۱ تاریخ کو قندوز شہر کے مرکز میں کابل بینک کی برانچ پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ نہ صرف اس حملے کا منصوبہ ساز تھا بلکہ داعش خراسان شاخ کا اہم آپریشنل منصوبہ ساز بھی تھا اور داعش خراسان شاخ کے نام نہاد رہنما شهاب المهاجر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس واقعے کے بعد امارتِ اسلامی افغانستان کے انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی سے بچنے کے لیے وہ پاکستان کے خیبرپختونخواہ صوبے فرار ہوگیا تھا۔
یہ واقعہ خود ان رپورٹس کی تصدیق ہے جن پر کئی باخبر ذرائع کافی عرصے سے زور دیتے رہے ہیں کہ داعش کی تبلیغاتی اور عسکری قیادت افغانستان سے فرار کے بعد پاکستان کی قبائلی علاقوں میں پناہ لے چکی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی دیگر واقعات اس بات کی تصدیق کے لیے کافی تھے کہ داعش خراسان کے اہم افراد زیادہ تر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقیم ہیں اور وہاں اپنے آپریشنز انجام دے رہے ہیں، جن میں کئی بار نامعلوم افراد کی جانب سے انہیں ہدف بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ، توردرہ، اورکزئی اور شلمان طویل عرصے سے داعش کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر زیرِ ذکر آتے رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے سمجھے جاتے ہیں جو پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی کے دائرے میں آتے ہیں۔
اسی بنا پر بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ داعش کوئی مکمل طور پر خودمختار اور آزاد تنظیم نہیں، بلکہ پاکستان کی خفیہ چالوں میں استعمال ہونے والا ایک پراکسی نیٹ ورک بن چکی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان، خطے بلکہ دنیا میں بدامنی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی تنظیموں کا وجود ایک بڑے خطرے اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستان کے فوجی رجیم کے بعض حلقے داعش کے رہنماؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، جہاں سے وہ اپنی سرگرمیوں کو منظم کرتے ہیں۔
زلمی بدخشی کا واقعہ بھی اسی معما کی ایک اور کڑی دکھائی دیتا ہے۔ وہ افغانستان سے فرار ہونے کے بعد سیدھا خیبر پختونخوا کے انہی علاقوں میں پہنچ گیا تھا، جنہیں داعش کے دوبارہ منظم ہونے کے مراکز کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس احتمال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ داعش خراسان محض چند باغی افراد کا اتفاقی ڈھانچہ نہیں، بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے پاکستان میں تربیت، مالی معاونت اور محفوظ ٹھکانے حاصل ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ داعش کو مالی اور سیاسی پشت پناہی فراہم کرنے والے بعض ممالک خطے کی فضا کو جان بوجھ کر بدامنی کی لپیٹ میں رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ یہی صورتِ حال بعض محققین کو اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ داعش دراصل ایک پراکسی گروہ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بعض ریاستیں اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کے حصول کے لیے پراکسی مسلح گروہوں کو استعمال کرتی رہی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پشاور کا واقعہ محض ایک منصوبہ ساز کی ہلاکت کی خبر نہیں، بلکہ اس بڑے معما کی ایک کڑی ہے جو داعش خراسان کے اصل سرپرستوں اور اس کی سرگرمیوں کے جغرافیے کے بارے میں سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جب تک دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت، تربیت اور محفوظ پناہ گاہوں کے اصل منابع کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ایسی تنظیموں کا مکمل خاتمہ ایک مشکل امر ہی رہے گا۔




















































