گزشتہ شب (۴ رمضان / ۲ حوت) رات گئے پاکستانی فوجی رجیم نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا اور ننگرہار میں پانچ شہری مقامات کو نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق، پاکستانی جنگی جہازوں نے پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقے مرغہ میں ایک دینی مدرسے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں مدرسہ تباہ ہو گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسی طرح، ضلع اورگون کے علاقے بالیشو جبار قلعہ علاقے میں ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا گیا، مگر اس میں بھی کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستانی فوجی رجیم نے گزشتہ شب سب سے المناک اور ہولناک جرم کا ارتکاب صوبۂ ننگرہار کے ضلع بہسود کے علاقے گردی کڅ میں کیا۔ اس مقام پر جہازوں نے شہاب الدین نامی ایک عام شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت سترہ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
مزید برآں، پاکستانی جہازوں نے خوگیانی کے کوز بیہار میں امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کی ایک چوکی اور غنی خیل کے علاقے گلاہی میں ایک مکان پر بھی حملے کیے، تاہم اللہ کے فضل سے دو افراد کے معمولی زخمی ہونے کے علاوہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس ظلم اور جارحیت کے بعد، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر مخصوص اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر انجام دی گئی۔ تاہم ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی معصوم شہریوں کی شہادت کی تصاویر اور ملبے میں تبدیل عمارتوں کے مناظر نے ان کے اس دعوے کو نہایت شرمناک انداز میں بے نقاب کر دیا۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان کی وزارتِ دفاع نے پاکستان کی اس جارحیت اور ظلم (جس کا اصل مقصد اپنی ناکامی کو چھپانا اور امریکہ کی توجہ حاصل کرنا ہے) پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت پر اس کا موزوں اور درست انداز سے جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل بھی پاکستان کی فوجی رجیم افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر چکی ہے اور بیرونی جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے، مگر ہر بار اس جارحیت کا نشانہ بے گناہ عام شہری ہی بنے ہیں۔




















































