افغانستان، جسے سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ اپنے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ اس سرزمین نے اپنے عزم و استقلال اور عظیم وقار کے تحفظ کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر قومی اتحاد، ہمآہنگی اور اپنے نظام کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہنے کو اپنایا۔ قوم اور نظام کے درمیان اس عظیم ہم فکری اور یکجہتی کا سہرا بلا شبہ منبر اور مقدس مسجد کے امام کے سر جاتا ہے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں، افغانستان میں منبر کو بیرونی تجاوزات کے خلاف عوام کو بیدار کرنے اور منظم کرنے کے ایک مضبوط وسیلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ منبر، ایک مذہبی و سماجی آلے کے طور پر، نہ صرف بیرونی حملوں کے مقابلے میں بلکہ داخلی بغاوتوں، سماجی اصلاحات اور دینی پیغامات کی اشاعت کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوا۔
غزنوی اور تیموری ادوار کی طرح تاریخ میں علماء منبر کو اس غرض سے بروئے کار لائے کہ عوام میں اسلامی اقدار اور تعلیمات کو فروغ دیں؛ یہی قدم بالواسطہ طور پر بیرونی خطرات کے مقابل قومی اتحاد کے فروغ کا باعث بنا۔
منبر کو ۱۶ء ویں اور ۱۸ء ویں صدی میں، تاتاریوں اور صفوی سلطنتوں کے دور میں، بیرونی یلغار کے خلاف مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔ پیر روشن کے ذریعے تاتاریوں کے خلاف قبائل کی تنظیم اور صفوی سلطنت کے خلاف مقامی مزاحمتوں کے دوران، مساجد میں منبر کے ذریعے لوگوں کو آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کے لیے ترغیب دینا واضح مثالیں ہیں۔
صفویوں کے خلاف ہوتکیوں کا انقلاب، جو ۱۷۰۹ء میں شروع ہوا، بھی منبر کو عوام کی وسیع پیمانے پر متحرک کرنے کرنے کی ایک مثال ہے۔ یہ تحریک، جو میرویس ہوتک کی قیادت میں شروع ہوئی، صفوی سلطنت کے ظلم و جبر اور مذہبی دباؤ کے خلاف ایک قومی اور دینی بغاوت تھی۔
اگر ہم قریبی دور پر نظر ڈالیں تو ۱۹ویں صدی کے اوائل اور وسط میں، یعنی ۱۸۴۲ء تا ۱۸۷۸ء میں، جب انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا، تو مذہبی رہنماؤں اور علماء نے منبر کے ذریعے عوام کو اس قبضے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی ترغیب دی اور انہیں مسلح تحریک کے لیے حوصلہ دیا۔ مساجد اور دیہی اجتماعات میں، علماء اور اثر و رسوخ رکھنے والے شخصیات نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور عوام کے قومی و مذہبی جذبات کو مذکورہ کئی مرحلوں پر محیط یلغار کے خلاف بیدار کیا۔
بعد میں ملا مشک عالم اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے، جن کے نام آج بھی تاریخ کے صفحات پر روشن ہیں، اپنی فکری اور عملی کوششوں کے ذریعے بدبخت انگریزوں کو ایک عبرت ناک درس دیا۔ نتیجتاً، انگریزوں کے تمام تینوں حملے علماء کرام کی قیادت اور منبر کی فکری سرگرمیوں کی بدولت ناکام ہوئے۔
بعد ازاں، جب امان اللہ خان انہی علماء کی معنوی اور عملی قربانیوں کے ذریعے تخت اقتدار پر پہنچا اور آزادی کا اعلان کیا، تو اس نے اقتدار کے تسلسل کے لیے یورپ سے چند اسلام مخالف پالیسیاں افغانستان میں نافذ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایک بار پھر منبر اور علماء ہی تھے جنہوں نے عوام کو پسِ پردہ چھپے ان مذموم منصوبوں سے آگاہ کیا اور سیکولر نظریات کے نفاذ کو ابتدائی مرحلے ہی میں ناکام بنایا۔
بعد میں، ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۹ء تک، جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، منبر ایک بار پھر مزاحمت کے لیے ایک طاقتور وسیلہ بن گیا۔ مولوی نصر اللہ منصور، مولوی محمد نبی، مولوی یونس خالص اور دیگر علماء و مجاہد رہنماؤں نے مساجد اور دیہی اجتماعات میں سوویت قبضے کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔
قوم کے مجموعی بغاوت کے بعد، سوویت قوتیں شکست کھا گئیں اور اپنے اندرونی حصے میں بھی منتشر ہو گئیں۔
۲۰۰۱ء کے بعد، جب امریکہ اور نیٹو کی مسلح افواج نے افغانستان پر بھرپور حملہ کیا اور امارت اسلامیہ افغانستان کے شرعی نظام کو ختم کردیا، ایک بار پھر علماء عوامی تحریک کے ساتھ ابھرے اور اس غیر ملکی قبضے کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا۔ تقریباً بیس سال کی مسلسل مزاحمت اور شدید مظالم کے بعد، امریکہ اپنے تمام بیرونی سہولت کاروں اور داخلی حامیوں کے ساتھ امن کے نام پر مذاکرات کرنے اور افغانستان سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔
لیکن پاکستانی حکومت کے خلاف، منبر اس بار ایک منفرد اور علیحدہ تاریخی مرحلے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ پڑوسی ریاست و حکومت، جس کی بنیاد امریکی حمایت کے سہارے قائم ہے، عوامی سطح پر وہی وسیع پذیرائی نہیں رکھتی جو امریکہ، سوویت یونین، انگریزوں وغیرہ کے پاس تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ریاست ملت کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ امریکہ کے مفادات کے تحفظ اور ایک خفیہ حکمران حلقے کی طاقت کی بقا کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اس بار منبر ایسے موقع پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے جب سرحد کی دونوں جانب بسنے والے لوگ بیک آواز اس ریاست اور وہاں کے حکمران حلقے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
اب پڑوسی ملک میں تمام سیاسی اور قومی، اپوزیشن، معروف شخصیات اور عام عوام اپنے اس مستبد وظالم حکمرانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ کچھ نرم انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد نے مسلح جہاد کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ کابل اور چند صوبوں پر پڑوسی حکومت کے حملے کے بعد، آج پورے افغانستان میں منبر سے ایک آواز بلند ہوئی، جس میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے حق میں اور ظالموں کے خلاف اتحاد کا پیغام دیا گیا ہے؛ یہ آواز بلاشبہ اس حکومت کی بقاء کے لیے علاقے میں خطرے کی ایک بڑی گھنٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔
پڑوسی ملک میں حکمران حلقے کے خلاف افغان مساجد کے منبر و محراب سے بلند ہونے والی اس منظم آواز کے بعد، ان کی تنہائی یقینی اور ناکامی میں شاید صرف چند دن باقی ہوں۔
آخر میں:
اسی منبر سے جب انگریزوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی، تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سوویت یونین اور امریکی قبضے کے خلاف بھی جب صدا بلند کی گئی؛ تو وہ شکست وریخت سے دوچار ہوئے اور اب پڑوسی ریاست کے زوال کے لیے چند دن ہی باقی ہیں۔
قارئین ایک بات یاد رکھیں کہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ افغان سرزمین پر پاکستان کے قاتل جاسوس موجود نہیں ہیں، اور یہ افغان قوم کے اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔
پاکستانی فوج کے براہ راست زمینی اور اندھے فضائی حملے، آئی ایس آئی اور حاکم فوجی ٹولے کی مکمل ناکامی و شدید بوکھلاہٹ کے واضح ثبوت ہیں۔
اگر پاکستان کے پاس امارت اسلامیہ افغانستان کی مدبر قیادت کے مقابلے میں کوئی اور راہ ہوتی، تو وہ پہلے ہی عملی طور پر اسے اختیار کر چکا ہوتا۔
پاکستان، جس نے دونوں حملوں کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کی، یہ امارت اسلامیہ افغانستان کی برتری اور فوقیت کا واضح ثبوت ہے۔
یاد رکھیں؛ پڑوسی ملک میں حکمران حلقے کے پاس نہ عوامی حمایت ہے اور نہ عوام میں کوئی ہمدردی۔ چاہے امریکہ سرمایہ کاری کرے یا مغرب اپنے مفادات کے لیے اسے صرف ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرے، نقصان آخرکار انہی کا ہوگا۔ ان شاء اللہ




















































