سقوطِ کابل، جو اگست ۲۰۲۱ء میں پیش آیا، یہ امریکہ کے لیے کوئی اچانک ناکامی نہیں تھی؛ بلکہ یہ اس طویل سانحے اور المیے کا آخری پردہ تھا، جو اُس غلط فہمی کے زخم سے جنم لے چکا تھا، جو امریکہ کو اُس دنیا کے بارے میں لاحق تھی جس پر وہ حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔
میں نے کئی سال خفیہ اداروں کے درمیان گزارے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ اندھا پن دن بدن کیسے بڑھتا گیا۔ پالیسیوں کی بنیاد حقائق پر نہیں، بلکہ دِل کو بہلانے والے خیالات پر رکھی گئی تھی۔ ہمیں یقین تھا کہ ہم طاقت سے عقائد کو توڑسکتے ہیں اور انسانوں کے ایمان کو بمباری کی آگ تلے جھکا سکتے ہیں، مگر ہم غلط تھے؛ بہت، بہت زیادہ غلط!
۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد، ہم خود کو تسلی دیتے رہے کہ یہ حملے بے وجہ نفرت کا نتیجہ تھے۔ ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے کہ ۱۱ ستمبر کے منصوبہ سازوں کو نہ صرف یہ احساس تھا کہ وہ حق کے راستے پر ہیں، بلکہ انہوں نے اسے اپنے اوپر فرض بھی سمجھا تھا۔ وہ ایک دفاعی جہاد کا فریضہ ادا کر رہے تھے، جو دہائیوں پر محیط امریکی فوجی جارحیت، اقتصادی پابندیوں اور مسلمانوں کی مقدس سرزمین کی توہین کے خلاف ایک لازم ردعمل تھا۔
وہ نائن الیون کے واقعے کو محض ایک اتفاقی تشدد نہیں سمجھتے تھے؛ بلکہ اسے مزاحمت کی ایک اور شکل کا تسلسل قرار دیتے تھے۔ چاہے ہم اس منطق کو سمجھتے یا نہیں، اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
ہم اگر اس بات سے انکار کریں کہ ان کے نقطۂ نظر کو سنجیدگی سے دیکھیں، تو یہ یقین کر لینا چاہیے کہ ہم وہی غلطیاں بار بار دہراتے رہیں گے جنہوں نے اس ردعمل کو جنم دیا تھا۔
میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب میری آنکھوں کے سامنے امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کو یہ خبر دی گئی کہ ملا محمد عمر نے اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رمزفیلڈ غصے سے سرخ ہو گیا؛ اس نے اپنی کہنی میز پر ماری اور غصے سے بھرپور چیختے ہوئے کہا:
’’یہ آدمی اتنا ضدی کیوں ہے؟ یہ لوگ عقل کیوں نہیں رکھتے؟‘‘
پھر اُس نے میری طرف دیکھا، میں ایک نوجوان افسر تھا اور ابھی تک اس اہم اجلاس میں شمولیت پر حیرت زدہ خاموش کھڑا تھا۔ اُس نے مجھے گھور کر دیکھا اور زور سے چلّایا:
’’اچھا، تم بتاؤ! کتنے بم اُن پر گرانے پڑیں گے تاکہ عمر اس نافرمان کو ہمارے حوالے کر دے؟‘‘
میں خوف اور احترام کے جذبات میں کھڑا تھا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر سانسیں سمیٹ کر میں نے صرف وہی ایک بات کہی جو مجھے سمجھ میں آئی:
’’صاحب، جتنے زیادہ بم اُن پر گرائیں گے، اُن کا عزم اُتنا ہی مضبوط ہوگا۔‘‘
رمزفیلڈ، جس نے پیٹھ پھیر لی تھی، اچانک بجلی کی طرح پلٹا اور فائلوں سے بھرا ایک بھاری فولڈر کمرے کے ایک کونے کی طرف اچھال دیا؛ اگرچہ اُس کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں تھا، مگر مجھے جھکنا پڑا تاکہ اس ضرب سے بچ سکوں۔ اُس لمحے یہ سب کچھ اُن بہت سے سخت مناظر میں سے ایک لگ رہا تھا جن سے ہم پہلے بھی آشنا تھے، مگر بعد میں، جب جنگ سال بہ سال ہمارے قابو سے باہر ہوتی گئی اور حقائق سامنے آنے لگے، تب مجھے اندازہ ہوا کہ اُس لمحے نے ایک عظیم راز بے نقاب کیا تھا۔
اُس عمارت میں، جہاں دنیا کی سپر پاور اور طاقتور لوگ بیٹھے تھے، ہمیں اُس جنگ کی نوعیت کا کوئی اندازہ نہیں تھا، جس کی طرف ہم بغیر کسی تدبیر کے بڑھ چکے تھے۔ ملا عمر کا انکار کوئی دیوانگی نہیں تھی، بلکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک فرضی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر افغان ثقافت میں اُس مہمان کے ساتھ خیانت جسے پناہ دی گئی ہو، ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی جہاد کسی بیرونی جارح کے خلاف کوئی اختیاری عمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک فرض ہوتا ہے۔ اور جب امریکی فوجیوں نے افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا، تو پھر مزاحمت محض ایک انتخاب نہیں رہا، بلکہ ایک ناگزیر امر بن گیا۔
ہم جب بھی جنگ کو مزید وسعت دیتے، جب بھی کوئی نیا بم گراتے، افغان عوام کے دینی فرض کا شعور مزید گہرا ہوتا اور مزاحمت کی آگ اور بھی بھڑک اٹھتی۔
سی آئی اے(CIA) کے اندر ہم اعداد و شمار گنتے تھے کہ کتنے مارے گئے؟ کتنے صوبے محفوظ ہوئے؟ کتنے ڈالر خرچ ہوئے؟ لیکن طالبان نہ زمین کے لیے لڑ رہے تھے، نہ مال کے لیے، نہ اقتدار کے لیے؛ وہ وفاداری کے لیے لڑ رہے تھے؛ خدا کے لیے، عزت کے لیے، اور اپنے وطن کے لیے۔
وہ اس لیے لڑ رہے تھے کیونکہ ان کا ایمان انہیں اس کا حکم دیتا تھا۔ اور صبر کا تسلسل بذاتِ خود کامیابی کی ایک شکل ہے۔ ہم نے غلطی سے ان کے نظم و ضبط کو سخت گیری سمجھا۔ ہم نے سوچا کہ اگر ہم زور بڑھائیں، زیادہ اسلحہ استعمال کریں، اور اربوں ڈالر خرچ کریں، تو بالآخر وہ ہماری بات مان لیں گے۔ لیکن ہم سنگین غلطی پر تھے؛ جتنا ہم نے دباؤ بڑھایا، اتنا ہی ان کا عزم اور پختہ ہوتا گیا۔
افغانستان یہ تمام مصائب اس لیے برداشت کرتا رہا اور بالآخر کامیاب ہوا؛ کیونکہ وہ صرف طاقتور نہیں تھا، بلکہ ان لوگوں کے دلوں میں آج بھی ایسے عقائد زندہ ہیں جن کے لیے زندگی صرف بقا کا نام نہیں، بلکہ کچھ چیزیں بقا سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
امریکہ اس لیے ناکام ہوا کیونکہ وہ یہ بھول گیا تھا کہ ایسے عقائد آج بھی زندہ ہیں۔ اور کوئی بھی سلطنت، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ان عقائد کو نہ بموں کے ذریعے مٹا سکتی ہے، نہ پیسوں کے ذریعے، نہ نعروں کے ذریعے۔
جب تک امریکہ اس حقیقت کو تسلیم نہ کرے، اُس کی ہر آئندہ مداخلت بھی اسی طرح شرمندگی، تھکن اور شکست پر منتج ہوگی۔




















































