اسلام عدل، امن، جان کی حفاظت اور انسانی زندگی کے تحفظ کا دین ہے؛ وہ دین جس نے پوری دنیا کے انسانوں پر رحمت و شفقت کا سایہ پھیلایا ہے، اور اپنے پیروکاروں کو بھی اسی اصول پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دینِ اسلام کسی کو بھی کسی بے گناہ مسلمان یا انسان کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا﴾(سورۃ المائدہ: ۳۲)
ترجمہ: جس شخص نے کسی انسان کو ناحق قتل کیا، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد پھیلایا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔
اسی طرح جو لوگ اس عظیم گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب کا ذکر فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا﴾(سورۃ النساء: ۹۳)
ترجمہ: اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
خوارج اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی اور خطرناک وبا ہیں؛ ایسی وبا جو اسلام کے مقدس نام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے نعرے کو استعمال کر کے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے، تباہ کرنے اور دنیا سے مٹانے کی قسم کھا چکی ہے۔
یہ وہی خوارج ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عدل پر بھی اعتراض کیا جسے مشرکین بھی عادل تسلیم کرتے تھے؛ وہ خوارج جن کے ہاتھ اسلام کے دو عظیم خلفاء، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے پاکیزہ خون سے رنگے ہوئے ہیں؛ وہی خوارج جو عبداللہ بن خباب بن الارتؓ کے معصوم بچے اور ان کی مظلوم اہلیہ کے قاتل ہیں۔
اس گمراہ فتنے نے اسلام کی شاندار تاریخ کے ہر دور کو اپنی مکروہ حرکات اور درندگی سے داغدار کیا ہے۔ یہ فتنہ بتدریج عصرِ حاضر تک پہنچا اور بالآخر مغرب اور کفری یلغار کے ایک بڑے منصوبے کی شکل اختیار کر گیا؛ ایسا منصوبہ جس کا بنیادی فریضہ اور اسٹریٹجک ہدف مسلم ممالک، جہادی تحریکوں، علما اور امت کے اہلِ فکر و قیادت کا خاتمہ تھا۔ اسی منصوبے کو داعش کا نام دیا گیا اور ’’اسلامی ریاست‘‘ کے عنوان سے اس کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، مگر اس کی سیاہ فطرت بدستور سیاہ ہی رہی۔
انہوں نے شام کی مقدس سرزمین پر عام مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، لوگوں کو گلیوں اور سڑکوں میں لٹکایا اور موت کے گھاٹ اتارا، قاعدۃ الجہاد کو تقسیم کرنے اور بدنام کرنے کی کوششیں کیں، امتِ اسلامی کے عظیم رحماء اور ربانی علما کو غائب کیا، افغانستان میں جاری جہاد اور عظیم تحریک امارتِ اسلامیہ کے خلاف صف آرا ہوئے، اور ننگرہار، جوزجان، کنڑ اور اس اسلام پرور سرزمین کے متعدد علاقوں کو اپنی خون آشام گرفت میں لے کر بے شمار عام شہریوں کو شہید کیا۔
یہ کون سا اسلام ہے جس کا یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں؟
اس انتہاپسند فکر کا سب سے بڑا دعویٰ اور بظاہر اس کی ترجیح اسلام ہے؛ ہر بیان میں سب سے پہلے اسلام کا نام لیا جاتا ہے، مگر یہ کون سا اسلام ہے؟ یہ کیسا دین ہے جس پر یہ ایمان لانے اور اسے نافذ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ اگر یہ واقعی اسلام کا مبارک دین ہے تو اس کے احکام اور ارکان میں مسلمانوں کے قتل کی کوئی اجازت نہیں؛ بلکہ اس جرم کے مرتکبین کے لیے ہمیشہ جہنم کی وعید ہے۔ اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں:
﴿ ولَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ (سورۃ الفرقان: ۶۸)
اسلام کے پاکیزہ دین نے ایک بے گناہ مؤمن کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، حتیٰ کہ کفار کے ساتھ جنگ اور قتال میں بھی اعتدال اور حد سے نہ بڑھنے کی تلقین کی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾(سورۃ البقرہ: ۱۹۰)
ترجمہ: حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اگر داعشی واقعی اسلام کے پیروکار ہیں تو پھر ان واضح احکام اور ہدایات کی پابندی کیوں نہیں کرتے؟ کیا اسلام میں دینی شعائر کی توڑ پھوڑ، بچوں، عورتوں، بزرگوں، علماء اور مجاہدین کے قتل کی اجازت ہے؟
افغانستان میں انہوں نے امت کے عظیم محسن، عزیمتوں اور عظمتوں کے امام، شہید رحیم اللہ حقانیؒ کو اس حال میں شہید کیا کہ وہ احادیث کا درس دے رہے تھے؛ شہید مجیب الرحمن انصاریؒ کو اس وقت شہید کیا جب وہ لوگوں کو اللہ جل جلالہ کی طرف بلا رہے تھے؛ اسلامی و جہادی انقلاب کے مردانِ حر، مجاہدین اور غازیوں کو جہاد کے میدانوں سے اٹھا کر شہادت کے گھاٹ اتارا؛ کیا یہ درندگیاں اسلام میں جائز ہیں؟
ان کی نام نہاد خلافت کے سنہری دعوے کہاں گئے؟ ان اعمال سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعوے باطل تھے اور محض لوگوں کو دھوکہ دینے کی ناکام کوششیں۔ پردے کے پیچھے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ غیر مسلموں اور منافقین کے ہاتھوں کے آلے اور اسلام کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہیں؛ مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں اور امت کے اصل تصور خلافت کو بدنام کرتے ہیں۔ کل کی طرح ایک بار پھر انہوں نے کابل میں چینی مسلمانوں اور بے گناہ شہریوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا، جس کے پس منظر میں متعدد سیاسی عوامل کارفرما تھے۔




















































