تاریخ کے اوراق ایک دائمی حقیقت بیان کرتے ہیں: کوئی سلطنت، کوئی قوت اور نہ ہی کوئی حکمتِ عملی کبھی اس قابل ہوئی ہے کہ ایک زندہ قوم کے عزم کو توڑ سکے۔ طاقتیں آتی ہیں، نقشے بناتی ہیں، جنگیں چھیڑتی ہیں اور پھر شکست کے بعد تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں، مگر قومیں باقی رہتی ہیں؛ کیونکہ قوم مٹی، عقیدے، عزت اور شناخت کی وہ طاقت ہے جو جبر، سازش اور خفیہ کھیلوں کے باوجود ٹوٹتی نہیں۔
معاصر تاریخ میں بھی یہی حقیقت دوبارہ سامنے آئی۔ جب امریکہ کی قیادت میں عالمی اتحاد نے ۲۰۰۱ء میں افغانستان کی جنگ کا آغاز کیا تو دنیا کے بہت سے اسٹریٹیجک مراکز کا خیال تھا کہ طاقت کا توازن طویل عرصے کے لیے بدل جائے گا۔ جدید ترین اسلحہ، بڑے لشکر اور عالمی دباؤ سب اسی مقصد کے لیے جمع کیے گئے تھے کہ افغان قوم کو جھکا دیا جائے؛ مگر جنگ کے انجام نے ثابت کر دیا کہ جب کوئی قوم اپنی شناخت اور آزادی کے لیے کھڑی ہو جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی قوتیں بھی اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکتیں۔
اسی تجربے کے بعد عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ فوجی موجودگی کم ضرور ہوئی، مگر سیاسی اور خفیہ نوعیت کی رقابتیں مزید گہری ہو گئیں۔ وہ قوتیں جو میدانِ جنگ میں کامیاب نہ ہو سکیں، اب اثر و نفوذ کے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں؛ ایسے راستے جو خطوں کے درمیان بے چینی اور عدمِ استحکام پیدا کریں اور علاقائی حلقوں کے ذریعے اپنی حکمتِ عملی کو آگے بڑھائیں۔
اسی تناظر میں جنوبی ایشیا کا جغرافیہ ایک بار پھر سیاسی رقابتوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ بالخصوص پاکستان کے عسکری ڈھانچے کے بعض حلقوں پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ عالمی کشمکش کے ایک نازک مرحلے میں انہیں بیرونی مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان الزامات کے مطابق کوشش یہ ہے کہ خطے کو مسلسل دباؤ اور بے یقینی کی فضا میں رکھا جائے، تاکہ اسٹریٹیجک معاملات کا توازن اپنے حق میں بدلا جا سکے۔
سیاسی ملاقاتوں اور سفارتی دوروں کا ایک طویل سلسلہ بھی اسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر متعدد بار واشنگٹن کے سیاسی حلقوں سے رابطے استوار کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے کی سلامتی کے بارے میں دیے گئے بیانات بھی تجزیہ کاروں کے لیے بحث و گفتگو کا موضوع بن گئے ہیں۔
اسی دوران خطے کا وسیع جغرافیہ نئے ممکنہ تصادم کے سائے میں دکھائی دیتا ہے۔ ایران پر بڑھتے ہوئے دباؤ، مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں اور عالمی طاقتوں کی مقابلہ بازی نے اس پورے خطے کو ایک بڑی اسٹریٹیجک بساط کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم ان تمام معاملات میں سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر پھر بھی قوموں کا اجتماعی عزم و ارادہ ہی ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حکمتِ عملیاں اکثر کاغذ پر بہت طاقتور دکھائی دیتی ہیں، مگر جب وہ قوموں کے عزم سے ٹکراتی ہیں تو بکھر جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمتِ عملی چند سیاست دانوں کا منصوبہ ہوتی ہے، جبکہ ارادہ ایک پوری قوم کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ منصوبے دفتروں کی میزوں پر تیار ہوتے ہیں، مگر ارادہ قربانی، جدوجہد اور ایمان کے راستے میں پروان چڑھتا ہے۔
قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب ان پر جنگ مسلط کر دی جائے؛ قومیں اس وقت ٹوٹتی ہیں جب وہ اپنی ارادہ کھو بیٹھیں۔ لیکن جب ارادہ زندہ و قوی ہو تو دنیا کی پیچیدہ ترین سیاسی بساطیں بھی کسی قوم کے مستقبل کو بدل نہیں سکتیں۔
اسی لیے آج خطے کی سیاسی فضا میں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے:
کیا وہ حکمتِ عملیاں جو غیروں کے مفادات کے لیے ترتیب دی جاتی ہیں، قوموں کے عزم کے سامنے طویل عرصے تک قائم رہ سکتی ہیں؟
تاریخ اب تک ایک واضح جواب دیتی ہے: سلطنتیں تباہ ہوگئیں، حکمتِ عملیاں بدلتی رہیں، قوتیں مٹتی گئیں؛ مگر وہ قومیں جو اپنے عزت اور آزادی کے تحفظ کو اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہیں، ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہیں۔ آخرکار فیصلہ نہ ہتھیار کرتے ہیں، نہ خفیہ ادارے اور نہ ہی حکمتِ عملیاں؛ آخری فیصلہ قوموں کے اس عزم کا ہوتا ہے جو کبھی شکست نہیں کھاتا۔




















































