گزشتہ قسط میں ہم نے یہودیوں کی پہلی صفت کا ذکر کیا تھا۔ اس قسط میں ان شاء اللہ ہم یہودیوں کی ایک اور صفت بیان کریں گے، تاکہ ان کے گھناؤنے افعال واضح ہوں اور ان کا حقیقی چہرہ دنیا والوں کے سامنے بے نقاب ہو جائے۔
۲: قساوت اور سنگ دلی
یہودیوں کی دوسری بڑی صفت، جس میں وہ مبتلا ہیں اور روزانہ اس کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ قساوتِ قلب، تشدد اور ظلم و زیادتی ہے۔ اللہ جل جلالہ نے قرآنِ عظیم الشان میں ان کی اسی صفت کے بارے میں فرمایا:
﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴾
البقرہ، آیت ۷۴
ترجمہ:
"اس سب کے بعد تمہارے دل پھر سخت ہو گئے، یہاں تک کہ وہ ایسے ہو گئے جیسے پتھر! بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی زیادہ۔ کیونکہ پتھروں مٰں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں، اور انہی میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جو خود پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور انہی میں وہ پتھر بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے لڑھک جاتے ہیں۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔”
اس آیت میں اللہ جل جلالہ نے ایک خوبصورت مثال کے ذریعے یہودیوں کے دلوں کی سختی اور قساوت کی حد بیان فرمائی ہے۔ یعنی کچھ دل اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ سخت ترین پتھروں سے بھی بڑھ جاتے ہیں؛ نہ اُن سے محبت اور نرمی کا کوئی قطرہ نکلتا ہے، نہ رحم کا کوئی احساس، اور نہ ہی وہ اللہ کے خوف سے لرزتے ہیں۔
یہ بنی اسرائیل کے لیے، اور اُن سب کے لیے جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں، ایک واضح تنبیہ ہے۔
صہیونی دہشت گرد تنظیم کے ایک سرکردہ لیڈر اور لیکود پارٹی کے رہنما مناخیم بیگن نے اپنی کتاب "The Revolt” میں لکھا:
We fight therefore we are!
"ہم لڑتے ہیں اسی لیے ہم ہیں (موجود ہیں).”
یہ بات بتاتی ہے کہ صہیونی انتہاپسند نظریے کی بنیاد ہی زور، تشدد، جارحیت اور جنگ پر رکھی گئی ہے۔
جو شخص بھی قابض صہیونی ریاست کی معاصر تاریخ اور فلسطینیوں و عربوں کے ساتھ ان کے رویّے کا جائزہ لے، وہ بخوبی سمجھ جاتا ہے کہ یہ ریاست طاقت، جبر، اور ظلم و زیادتی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے، اور یہ عمل ان کی سرکاری پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔
اس تشدد اور قساوت کی واضح مثالیں وہ بار بار کے حملے ہیں جو یہودی فلسطینیوں کو خوفزدہ کرنے، بےدخل کرنے اور اُن کی زمینیں خالی کرانے کی غرض سے کرتے ہیں۔ اسی طرح فلسطینی زمینوں کا غصب اور انہیں قابض ریاست میں شامل کرنا بھی اسی پالیسی کا ایک واضح ثبوت ہے۔
غزہ اور بیت المقدس میں بستیوں کی وسیع تباہی، رمضان المبارک کی سحری کے وقت مسجدِ الخلیل پر حملہ اور عبادت کرنے والوں کی شہادت، اور "طوفان الاقصیٰ” کے بعد اب تک لگ بھگ ۷۰ ہزار شہداء اور تقریباً ۱,۸۰ ہزار زخمی، یہ سب واقعات اس قابض ریاست کے سخت، ظالمانہ، بےرحم اور بےپروا رویّے کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ تمام شواہد دنیا کے سامنے یہ حقیقت رکھ دیتے ہیں کہ یہ قابض ریاست منطق یا امن کی زبان نہیں سمجھتی، بلکہ صرف طاقت، تشدد اور عسکری دباؤ کی زبان سمجھتی ہے۔
سب سے دردناک بات یہ ہے کہ ان کے بعض انتہاپسند رہنما اپنے سپاہیوں سے یہ کہتے ہیں کہ "غیر مسلح اور بے گناہ شہریوں کو قتل کرنا تمہاری شرعی ذمہ داری ہے”، چاہے وہ بے گناہ اور معصوم ہی کیوں نہ ہوں۔




















































