داعش کس طرح لوگوں کو انتہاپسندی کی طرف کھینچتی ہے؟
عصرِ حاضر کے خوارج یعنی داعش کی انتہاپسند تنظیم نے مختلف نفسیاتی، سماجی اور معاشی عوامل کو استعمال میں لا کر ہزاروں افراد کو اپنی شدت پسندانہ نظریاتی گرفت میں جکڑ لیا۔ یہ گروہ، جو اپنے آپ کو اسلام کا حقیقی محافظ قرار دیتا تھا، درحقیقت دین کے پاکیزہ مفاہیم کو کمزور اور مسائل سے دوچار لوگوں کو بہکانے کا ایک ذریعہ بنا چکا تھا۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ داعش میں شامل ہونے والے اکثر افراد کو اسلام کی مکمل اور عمیق سمجھ بوجھ حاصل نہیں تھی، بلکہ وہ زیادہ تر معاشی وعدوں یا احساسِ ناانصافی سے متاثر ہوئے تھے۔ کیونکہ جو شخص حقیقی اسلام کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھ لے، وہ کبھی بھی افراط و تفریط کے جال میں نہیں پھنس سکتا۔
داعش نے فکری اور شناختی خلاؤں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مایوس نوجوانوں کے سامنے دین کا ایک بگڑا ہوا تصور پیش کیا، ایسا تصور جس میں تشدد اور خونریزی کو نہ صرف جائز بلکہ مقدس عمل قرار دیا جاتا تھا۔ ان خوارج نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے، جن میں سب سے مؤثر اور فیصلہ کن ذریعہ سوشل میڈیا اور مجازی دنیا کا استعمال تھا۔
داعش نے نہایت پیشہ ورانہ اور چالاکی سے پروپیگنڈا مواد تیار کیا اور ٹیلیگرام، فیس بُک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنا انتہاپسندانہ پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ وہ خفیہ اور رمزآلود گروہ بنا کر نہ صرف پروپیگنڈہ کرتے تھے، بلکہ قتل و غارت اور تخریبی حملوں کے منصوبے بھی انہی ذرائع کے ذریعے ترتیب دیے جاتے تھے۔
مثال کے طور پر کچھ ایشیائی ممالک جیسے انڈونیشیا میں، تنہا اور کمزور خواتین محض ’’بہتر زندگی‘‘ اور ’’وابستگی‘‘ کے وعدوں کے باعث اس گروہ کے جال میں پھنس گئیں۔ بعض خواتین تو اس حد تک آگے بڑھ گئیں کہ اجتماعی قتل عام کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگیں۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ داعش کس چالاکی سے تنہائی، محرومی اور بے بسی کو اپنے فریب اور بھرتی کے وسائل کے طور پر استعمال کرتی رہی۔
مجازی دنیا کے علاوہ داعش نے سماجی اور معاشی بحرانوں سے بھی فائدہ اٹھایا۔ محروم علاقوں جیسے تاجکستان یا بعض افریقی ممالک میں بے بس، بیروزگار اور مایوس نوجوان، جن کے پاس اپنے مستقبل کا کوئی واضح تصور نہ تھا، دولت اور طاقت کے وعدوں کے سامنے جھک گئے اور اس گروہ کا حصہ بنے۔ ان نئے خوارج نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر، نفرت اور دشمنی کی فضا پیدا کر کے ان نوجوانوں کے دلوں میں انتقام کا جذبہ بھڑکا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش میں شامل ہونے کے بعد اکثر افراد کو احساس ہوا کہ نہ صرف ان کے ساتھ کیے گئے معاشی وعدے پورے نہیں ہوئے، بلکہ وہ ایک خونریز جال میں بھی پھنس چکے ہیں۔
تاہم داعش کی سب سے خطرناک حکمتِ عملی یہ تھی کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو ایک نیا اور متبادل شناختی احساس دیا۔ اس گروہ نے اپنے حامیوں کو یہ یقین دلایا کہ گویا وہ ایک ’’عظیم اسلامی امت‘‘ کا حصہ ہیں اور خدا کے سپاہی ہیں۔ یہی تصور انہیں اس بات پر قائل کرتا رہا کہ تشدد نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک الٰہی ذمہ داری ہے۔
یہ نفسیاتی حکمتِ عملی بالخصوص ان نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالتی تھی جو زندگی کے معنی، شناخت اور قدر کی تلاش میں تھے۔ داعش نے حتیٰ کہ قیامت کی نشانیوں، مذہبی علامتوں اور نعروں تک کو استعمال کیا تاکہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا سکے کہ وہ ایک ’’عالمی مقدس جنگ‘‘ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
آخرکار داعش کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ صرف عسکری کارروائیوں سے حل نہیں ہوسکتی۔ اس کے سدباب کے لیے اس کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی جڑوں کو سمجھنا اور ختم کرنا ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، امید اور حقیقی مواقع فراہم کرنے چاہئیں، نہ یہ کہ خوارج کا گروہ انہیں دین کے نام پر اپنے شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔




















































