تہذیب ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان کی حیثیت کو آشکارا کرتی ہےـ یہ وہ ہنر ہے جو بے مایہ کو سب سے بڑا سرمایہ دار بنادیتا ہےـ اس فن سے وابستہ لوگ دنیا بھر میں اپنی ساکھ کا لوہا منوالیتے ہیں ـ اس مہارت سے بہرہ ور افراد عالمِ لاہوتی میں چھا کر خودی کو ہی بسالیتے ہیں ـ برعکس جو لوگ تہذیب کے آب پارہ سے تہی دامن ہوتے ہیں، وہ چاہے دیگر علوم وفنون اور مادیات کی کسی بھی ثریا سے لگاؤ رکھتے ہوں یا پھر کسی اور پیشہ یا مادی قوت سے مالا مال ہوں ایک آنکھ نہیں بھاتےـ وہ کچھ بھی کہے ـ کسی بھی موضوع پر لب کشائی فرمالےـ ان کی دریدہ دہنی سمجھی جاتی ہےـ ان کی ہر ہر حرکت قابلِ ننگ وعار ہوتی ہے اور وہ اپنی ذات میں ننگ خلائق کا مجسمہ ہوتے ہیں ـ اس تہی دامنی کی بدولت وہ پھر فحش گفتگو، گالم گلوچ، بد اخلاقی اور بے حیائی کے پیکر بنے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ ہر ایک پر عیاں بھی ہوتے ہیں ـ
تہذیب کے کوچہ سے نا آشنا یوں ہی نہیں ٹھرتےـ اس کے کچھ اسباب ومحرکات بھی ہوتے ہیں ـ اس حوالہ سے زیادہ فلسفی موشگافیاں بھنبھوڑنے کی حاجت نہیں ـ ایک سادہ سی مثال سے سمجھ لیجئےـ کسی چھوٹی سی برادری میں کوئی ایک آدھ شخص اپنے آپ کو اپنی چالاکی اور مکاری کی وجہ سے بڑا تیس مارخان سمجھتا ہےـ اسی مکاری کے بدولت وہ اکڑ میں مبتلا رہتا ہے اور جدھر اس کا سامنا ہوتا ہے وہ اسی مکاری کے بدولت جادو ٹونے بھی دکھاتا رہتا ہےـ اکثر اوقات اس کی مکاری کام بھی کر جاتی ہے اور سادہ لوح افراد یا پھر مجبوری کے تلاطم میں پھنسے افراد کو شکار بھی بنا لیتی ہےـ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کا سامنا کسی بڑے گھرانے کے بہت ہی بامروت بندے سے ہوجاتا ہےـ وہ مکاری پر مسلسل تحمل کا مظاہرہ بھی کرتا ہے لیکن جب تمام راستے بند پڑجاتے ہیں تب وہ بڑے سلیقہ.مند انداز سے کچھ ایسا ٹکر لے لیتا ہے جس سے مکار بندے کی ساری مکاری اکارت چلی جاتی ہےـ اس وقت یہ مکار جب اپنے مکر کو بے سود دیکھ کر ردعمل دیتا ہے تو ظاہر ہے اس کے پاس یہی مکاری ہی سب کچھ تھی اور جب وہ کارگر نہ بنی اب وہ بدتہذیبی پر اتر آتا ہے اور بدتہذیبی کے وہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ضمیر بھی دیکھ کر بدمزہ ہوجاتا ہےـ
تہذیب سے تہی دامنی کبھی لوکل سطح پر ہوتی ہے اور کبھی پوری ریاست اور اس کے رکھوالے اس عذاب کے شکار بن جاتے ہیں ـ کبھی کسی دین اور مذہب سے وابستہ پوری کمیونٹی اس جھنجھٹ کا شکار ہوتی ہےـ اسلام کے اوائل میں قرآن نے یہودیت کے نام نہاد منتسبین کو اس تہی دامنی کا مجرم ٹھرادیاـ یہ وہ بدبخت لوگ تھے جو صدیوں سے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کررہے تھے مگر جب وہ اپنی موعود پر تشریف لے آئے تو انہوں نے اس سے دشمنی شروع کردی ـ دشمنی کا انداز بھی نرالا تھاـ ہمیشہ اپنی خوبیاں جتاتے تھے مگر ملامت پھر بھی ان کے گلے کا ہار بن کر لٹک جاتی تب یہ رسول، ان کے ساتھیوں اور یہاں تک کہ خداوند متعال کی طرف اوٹ پٹانگ قسم کی نسبتیں کرتے تھے کہ وہ بالآخر تہذیب کے دامن سے عاری ہوچکے تھے اور سنجیدہ مزاج ان کی سرشت سے نکل چکا تھا۔
حالیہ دنوں پاکستانی ریاست اور عوام پر مسلط ٹولہ کچھ ایسی بھونچال سے دوچار ہےـ تہذیب ان میں تھی یا نہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ قابل غور ہےـ مگر اس وقت یہ ٹولہ جن افعال وکردار کی رونمائی کررہا ہے وہ بجا طور پر ان کی بدتہذیبی کو نمایاں کررہی ہےـ وزیرِ دفاع کے جلیل القدر مسند پر جو شخص براجماں ہے اور صبح شام اس کی زبان طوطے کی چل رہی ہوتی ہے وہ تہذیب کا ایسا بستر گول کرچکا ہے کہ باقاعدہ سمیٹ کر بھی اس جیسا ریکارڈ کوئی نہیں بنا سکتاـ وہ جناب جو کل تک اپنی فوج پر کیا کیا الزامات لگاتا تھا آج اس کی خوشنودی کے لئے دوسروں پر ہر طرح کے الزامات کی پوجھاڑ کردیتا یےـ یہود کی طرح اسے بھی طالبان آمد کا بڑا انتظار تھا مگر جب وہ آئے تو یہ جناب دن بھر ہر طرح کی غلاظت پھینکتا رہتا ہےـ طالبان نے ایک معزز مہمان کی حفاظت کے لئے ننگرہار کے تورا بورا میں عزیمت کی جو مثال پیش کی ـ جس کی اسلامی تاریخ میں مقام ہی کچھ اور ہے، اسے یہ جناب عار بنا کر طالبان کو دے رہا ہے اور دھمکی کچھ یوں دے رہا ہے کہ تمھیں اس عزیمت میں پھر سے دھکیل دیں گےـ ظاہر ہے بدتہذیبی کی جال نے اس کی مت ماردی ہےـ ورنہ یہ تو خوبی ہےـ جو اس کی آنکھوں پر پردہ آنے کی وجہ سے اسے بدی نظر آتی ہےـ طالبان کی وہ ایمانی قوت جس نے فقر وفاقہ، سفر وہجرت، جیل اور کوٹھری سمیت سب کچھ برداشت کرکے کفر کو اپنا تھوک چاٹنے پر مجبور کیا تھا اور جس سے پوری دنیا سمیت یہ وزیر دفاع بھی سخت متاثر ہوکر اپنے صفحہ پر لکھ بیٹھے تھے کہ طاقتیں تمھاری ہیں، خدا ہمارا ہےـ مگر آج اسی ایمانی قوت کو یہ ایک قسم کی کمزوری بنا کر عار دلارہا ہے اور طالبان سمیت پوری افغان قوم کو بھوکڑ اور بھکاری جیسے غلیظ الفاظ سے پکارتا ہےـ ان الفاظ سے معزز قوموں کی ساکھ کو کچھ ہوتا نہیں ہے مگر جو استعمال کرتا ہے اس کی حیثیت نکھر سامنے آتی ہے اور بچہ بچہ اس کی بدتہذیبی کا عینی گواہ بن جاتا ہےـ
دوسری طرف مسلط ٹولے کا فوجی ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کے بانی چئیرمین اور پاکستان کے سب سے بڑے پاپولر لیڈر کو ذاتی چشمک کی بنیاد پر کچھ ایسے نازیبا الفاظ اور القاب سے نوازتا ہے جس کی ایک مہذب لغت میں گنجائش نہیں ہےـ یہود کی طرح یہ ٹولہ دس سال سے قوم کو یہ باور کراتا تھا کہ عمران خان ہی قوم کا نجات دہندہ ثابت ہوگاـ عمران خان ہی اس قوم کی تقدیر بدلے گاـ عمران خان ہی چوروں اچکوں سے قوم کو بچا کر رکھے گاـ اور اس مقصد کے لئے اسی ٹولہ نے میڈیا سمیت ہر آلہ بروئے کار لایا تھاـ مگر جب عمران خان واقعی معنوں میں قوم کو نجات دینے لگا اور جس جس شخص اور ٹولے کی جانب سے قوم پر ڈاکہ ڈالا جاتا تھا یا پھر ملک کے باسیوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جاتا تھا انہین رسوا کرنے لگاـ تب یہ ٹولہ حرکت میں آیا اور عمران خان کو جھوٹے کیسز میں جیل کے اندر ڈال دیاـ پھر جب پوری قوم اس کی آزادی کے خاطر یکجا ہوکر سڑکوں پر آئی تب اس ٹولے نے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ بانٹنا شروع کردیاـ اور جب اس سے بھی بات بن نہ پڑی تو تہذیب کی رسی کو ڈھیل دے کر گویا بدتہذیبی کی ایک مشین لگادی ـ اور ملک وعوام سے کھلواڑ کے نتیجہ میں کھلم کھلا گالیوں اور فحش کلامی کا استعمال شروع کیاـ وطن کی لاج رکھی اور نہ ہی وطن کے معزز باسیوں کیـ سیاست میں دخل اندازی کو ملحوظ رکھا اور نہ ہی اپنی کرسی کی حیثیت اسے یاد آئی اور نہ ہی تہذیب اور وقارـ
الغرض آج کل اس ٹولے کی گفتگو سن کر جی چاہتا ہے کہ وہ جو مثل مشہور ہے کہ ’’جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے” کو کچھ اس طرح سے رقم کرلیا جائے:
’’بدتہذیبی وہ جو سر چڑھ کر بولےـ‘‘




















































