گزشتہ جمعہ، عین جمعے کی نماز کے دوران، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں اہلِ تشیع کی ایک امام بارگاہ میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعے کی نماز جاری تھی، ایک رکعت مکمل ہو چکی تھی اور دوسری رکعت شروع ہو چکی تھی۔
واقعے کے بارے میں تاحال عینی شاہدین کے بیانات منظرِ عام پر نہیں آئے اور صرف سرکاری بیانات سامنے آئے ہیں۔ البتہ غیر سرکاری بیانات میں ایک دوسرے سے بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اکثر صارفین اور معروف شخصیات نے زیادہ تر علاقے کے لوگوں اور عینی شاہدین کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ واقعہ کئی مسلح افراد کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ مذکورہ مسلح افراد نے نماز کی دوسری رکعت کے دوران بے گناہ نمازیوں پر اپنے ہتھیاروں کے دہانے سیدھے کیے اور اس طرح درجنوں افراد کو قتل کیا اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا۔
تاہم بعض دیگر افراد کا کہنا ہے کہ پہلے فائرنگ ہوئی اور اس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا، لیکن یہ دھماکہ کس چیز کا تھا؟ اس بارے میں ان کے پاس بھی کوئی واضح معلومات نہیں اور محض قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ سرکاری حکام ابتدا سے اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ حملہ ایک خودکش حملہ آور نے کیا اور اس نے نمازیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اسی طرح داعشی خوارج کی جانب سے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی اور ایک داعشی خارجی کا ذکر کیا گیا جس نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔
اس واقعے پر اب تک مختلف ممالک کی جانب سے مذمتی بیان سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں مذمت امارت اسلامیہ افغانستان کی جانب سے سامنے آئی، جس نے نہایت واضح الفاظ میں اس واقعے کی مذمت کی اور متاثرین کے ساتھ کھلے دل سے اظہارِ تعزیت و ہمدردی کیا۔
لیکن افسوس کہ پاکستان کے موجودہ حکمران حلقوں نے، اس مذمت کا خیر مقدم کرنے کے بجائے، ہمیشہ کی طرح بے جا الزامات اور بہتان تراشی کا راستہ اختیار کیا۔ وزارتِ دفاع جیسے اہم منصب پر فائز شخص نے نہایت غیر سنجیدہ لہجے میں، کسی بھی ثبوت یا دلیل کے بغیر، ردِعمل میں کہا کہ اس واقعے کا تعلق افغانستان سے ہے اور یہ حملہ افغانستان میں پلان کیا گیا۔ حملہ آور کی نسبت بھی افغانستان کی طرف کی گئی، تاہم بعد میں اسی ملک کے وزارتِ داخلہ نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ حملہ آور افغانی نہیں بلکہ پاکستانی تھا۔ اس کے ساتھ ہی دیگر حکام اور بعض دین سے منسوب سرکاری علماء نے بھی میدان میں آ کر اس واقعے کے حوالے سے افغانستان پر الزامات عائد کیے۔
اس واقعے میں حملہ آور کا ایک شناختی کارڈ بھی میڈیا میں گردش کرتا رہا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ آور سے برآمد ہوا ہے، اور اس پر سخت ردِعمل بھی سامنے آئے ہیں۔ ان ردِعمل کی وجوہات بالکل واضح ہیں، کیونکہ مذکورہ شناختی کارڈ بظاہر بالکل صحیح حالت میں نظر آتا ہے، البتہ ایک جگہ سے تھوڑا سا خراب یا بالکل کٹا ہوا ہے، اور جو جگا کٹی ہے، وہاں سم کارڈ جیسی چھوٹی فولادی چیز موجود ہوتی ہے، اور ماہرین کے مطابق اسی میں تمام ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے تو حملہ آور شناختی کارڈ اپنے ساتھ جائے وقوعہ پر کیوں لے گیا؟ ٹھیک ہے، ممکن ہے اس کی کوئی ضرورت ہو، لیکن جب دھماکہ ہوتا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے کہ درجنوں افراد زخمی اور درجنوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، تو ایسی صورت میں شناختی کارڈ مکمل طور پر مکمل طور پر سلامت کیسے رہ سکتا ہے؟، اور اگر کسی جگہ سے نقصان ہوا بھی تو وہی جگہ جہاں تمام معلومات محفوظ ہوتی ہیں، یہ سب کیا معنی رکھتا ہے؟
کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ یا تو یہ کارڈ حملہ آور کا نہیں ہے اور محض قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے دکھایا گیا ہے، یا پھر یہ کارڈ واقعی حملہ آور ہی کا ہے، مگر حملہ آور کو اس حملے کے لیے حکمران حلقوں کی جانب سے تیار کیا گیا، اور کارڈ اس سے لے لیا گیا، اور عین حملے کے وقت صرف کارڈ دکھایا گیا، مگر ڈیٹا والے حصے کے بغیر، تاکہ حملہ آور اور مجرمانہ حلقوں کے درمیان تمام راز محفوظ رہیں؟
مبصرین کے مطابق، حکام کے متضاد بیانات، غیر منطقی اقدامات، اور ابتدائی مرحلے ہی میں کسی بھی تحقیق کے بغیر دوسروں پر الزامات عائد کرنا، صاف طور پر ذمہ داری سے فرار کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ دفاع ایک بات کہتے ہیں اور وزیرِ داخلہ دوسری بات۔ وزیرِ دفاع سمیت بیشتر حکام الزامات کے تیر افغانستان کی طرف چلاتے ہیں، لیکن دوسری جانب پاکستان کے معزز اور حالات سے باخبر سیاست دان کھل کر کہتے ہیں: اگر اتنے دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں، تو پھر آپ نے جو دفاع کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے، اسے کہاں تک نبھایا ہے؟
اسلام آباد سے فرضی لکیر تک سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، درجنوں چیک پوسٹیں، مختلف خفیہ ادارے اور بے شمار تلاشی کے مقامات موجود ہیں، پھر حملہ آور تمام ہتھیاروں اور وسائل کے ساتھ اپنے ہدف تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟ بعض سیاست دانوں نے تو طنزاً یہ بھی کہا ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے بڑے صوبے کا وزیرِ اعلیٰ تمہارے ہوتے ہوئے اپنے پارٹی لیڈر عمران خان سے کم از کم ایک ملاقات بھی نہیں کر سکتا، مگر یہاں حملہ آور نہایت آسانی سے اپنے ہدف تک پہنچ جاتا ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔ پھر تم خود کو کیسے بری الذمہ قرار دیتے ہو اور الزام دوسروں پر کیوں ڈالتے ہو؟
مبصرین مزید کہتے ہیں کہ اپنے ہی عوام کے خلاف فوجی حکمران حلقوں کی ناکام اور جبر پر مبنی پالیسی نے ان کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے اور دنیا کے سامنے ان کی حقیقت آشکار کر دی ہے، کہ نہ ان کے پاس طاقت ہے اور نہ ہی خفیہ مہارت۔ کیونکہ چند دن قبل بلوچ علیحدگی پسندوں نے بلوچستان میں ایک ہی وقت میں اس صوبے کے درجن بھر بڑے شہروں پر حملے کیے اور دارالحکومت کوئٹہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ حکام نے اپنے بچاؤ کے لیے اسلام آباد حملے کا راستہ ہموار کیا، تاکہ الزام افغانستان اور دیگر ممالک پر ڈال سکیں اور بلوچستان میں اپنی ناکامی پر پردہ ڈال سکیں۔
مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی میدان میں اپنے عوام پر ظلم اور ان کے ووٹ کے حق کو فوجی حکمران حلقوں نے دو سال قبل پامال کر دیا۔ عوام نے بھاری اکثریت سے عمران خان اور اس کی پارٹی کو ووٹ دیا تھا، مگر اسے قید کر دیا گیا اور اس کی جگہ موجودہ ناکام حکومت مسلط کر دی گئی۔ کیونکہ عمران خان عوام کا نمائندہ تھا اور عوام کے حقوق کے لیے کام کر رہا تھا، جو فوجی حکمران حلقوں کے مفادات سے متصادم تھا۔
اب جبکہ پاکستان کے عام عوام عمران خان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے فروری کی آٹھ تاریخ کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا دن قرار دیا تھا، اور توقع کی جا رہی تھی کہ یہ مظاہرے ایک مسلسل تحریک کی صورت اختیار کریں گے اور موجودہ حکومتی نظام کے خاتمے کا سبب بنیں گے، تو حکمران حلقوں نے دیگر منصوبوں کے ساتھ اس منصوبے کو بھی عملی جامہ پہنایا، تاکہ عوام کو گمراہ کیا جائے اور ان کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا دی جائے۔
اس رائے کی ایک دلیل یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ داعشی خوارج مکمل طور پر پاکستانی حکام کے زیرِ کنٹرول ہیں، ان کے ٹھکانوں کا بندوبست پاکستانی فوجی رجیم کے ذریعے کیا جاتا ہے، حملوں کے مقامات ان کے لیے متعین کیے جاتے ہیں اور انہیں اپنے شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں یہ بات کئی بار ثابت ہو چکی ہے، اسی لیے مبصرین کی یہ رائے خاصی وزن رکھتی ہے۔




















































