پاکستان کی تباہی کا پانچواں سبب جو نظرا آرہاہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا حقیقی دینی علماء کے ساتھ مسلسل ٹکراؤ اور دشمنی رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، پاکستان کی بنیاد اسلام کے نام پر رکھی گئی تھی اور پاکستان کے عوام مجموعی طور پر مسلمان ہیں، لیکن انگریزوں نے یہاں غیر اسلامی قوانین نافذ کیے اور انہی قوانین کے نفاذ کے لیے ایسے افراد کو فوج اور حکومت میں سرفہرست بٹھایا جن کے نظریات اسلام دشمنی پر مبنی تھے۔
اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو شاید کفار کے بعد دنیا میں واحد حکومت وہ ہے جس نے سب سے زیادہ علماء دین کو شہید کیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ پچاس برسوں میں، اسرائیل کے بعد شاید واحد ملک پاکستان کی فوج ہے جس نے براہِ راست مساجد پر حملے کیے۔ مثال کے طور پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعات۔ یہ دونوں صرف بطور مثال ہیں، ورنہ اس جیسے درجنوں مدرسے اور مساجد پاکستان کی فوج نے بمباری میں تباہ کیے ہیں۔
آج بھی یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں کسی مدرسے کے کم عمر طلباء کو اجتماعی طور پر شہید کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں پاکستانی فوج کے افراد مسجد کے اندر نعوذباللہ کتے گھماتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی طرح پاکستانی فوج نے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں مولانا حسن جانؒ سمیت درجنوں ممتاز دینی شخصیات کو پراسرار طریقوں سے شہید کیا۔ ابھی کچھ روز قبل ہی پنجاب میں درجنوں دینی مدارس کو بند کردیا گیا ہے۔
ان اقدامات نے فوج کے پالتو علماء کی ساکھ بھی بری طرح متاثر کی ہے، کیونکہ عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ حقیقی دینی علماء کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مگر بعض علماء جو خود کو حق کے ترجمان کہتے ہیں، فوج کی حمایت میں فتوے دیتے نظر آتے ہیں۔
چونکہ اصل علماء کو یا تو شہید کر دیا گیا، یا پابندِ سلاسل کرکے خاموش کرایا گیا، یا وہ ناراض ہو کر الگ ہو گئے، اور سرکاری علماء کی وقعت عوام میں ختم ہو چکی ہے؛ لہٰذا اب پاکستانی فوج کا وہ بھیانک جھوٹ بے نقاب ہو چکا ہے کہ پاکستان ’’اسلام کا قلعہ‘‘ ہے۔ آج ہر شخص جانتا ہے کہ یہ نعرہ محض فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طاقت اور اقتدار قائم رکھنے کا ایک حربہ تھا، ورنہ عملی طور پر یہی نظام اسلام کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔
اسلامی معاشرے میں مسجد اور مدرسہ شعائراللہ میں سے ہیں، اور مسلمان بحیثیت مجموعی علماء دین کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ علماء کا قتل، ان کی بے عزتی اور مدارس و مساجد کی تباہی ایسے اعمال ہیں جنہیں عوام کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ ایسے اعمال اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ چنانچہ پاکستانی فوج کے یہ اقدامات ملک کی تباہی اور زوال کو مزید قریب لے آئے ہیں۔




















































