درج ذیل نکات نوٹ کرلیں:
۱۔ جب تک مغرب ہتھیار بناتا رہے گا، دنیا میں جنگیں جاری رہیں گی۔
۲۔ جب تک مغربی کمپنیاں تیل پر قابض رہیں گی، دنیا میں جنگیں جاری رہیں گی۔
۳۔ جب تک مغربی معیشت جنگی شکل میں قائم رہے گی، دنیا میں جنگیں جاری رہیں گی۔
۴۔ جب تک سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جنگ کو ایک پلیٹ فارم بنایا جاتا رہے گا، دنیا میں جنگیں جاری رہیں گی۔
۵۔ جب تک جنگوں کے بعد تعمیرنو کو ایک معاشی عنصر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا، دنیا میں جنگیں جاری رہیں گی۔
امریکہ کے معروف تاریخ دان ہاورڈ زِن کہتے ہیں: جنگ امریکہ کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ہر امریکی کے لیے روزگار پیدا ہوا اور امریکہ کی معیشت عالمی جنگوں کے دوران اور ان کے بعد دوگنا بلکہ تین گنا بڑھ گئی، جبکہ یورپ اور دیگر علاقے جنگوں کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔
۱۹۴۵ء سے اب تک دنیا میں ۲۴۸ سے زائد بڑی یا چھوٹی جنگیں ہو چکی ہیں، جن میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ مارے گئے، زخمی ہوئے اور بے گھر ہوئے۔
یہ جنگیں دوسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں کے بعد شروع ہوئیں، وہ جنگ جس نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو ہلاک کیا، لاپتہ کیا، زخمی اور بے گھر کردیا اور دنیا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی۔
اس پورے عمل میں مغربی اور کفری طاقتیں جنگجو ریاستوں کو ہتھیار فراہم کرتی رہیں اور اپنی اسلحہ سازی کی مارکیٹ قائم رکھنے کے لیے زیادہ تر جنگوں کو اپنی شیطانی سازشوں کا نتیجہ بنایا۔
دوسری طرف ایک جنگی طیارہ ایک گھنٹے میں اتنا تیل جلا دیتا ہے جتنا ایک الیکٹرک کار پورے سال میں استعمال کرتی ہے، اور آج دنیا بھر کی فوجیں اور پینٹاگون تیل کے سب سے بڑے صارف ہیں۔
جب تین لاکھ امریکی فوجی کسی علاقے میں جاتے ہیں، تو وہ اپنے ساتھ ۹۰۰,۰۰۰ برگر، ۹۰۰,۰۰۰ سافٹ ڈرنکس کی بوتلیں اور سینکڑوں دیگر سامان لے جاتے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔
اب تک یوکرین کی جنگ پر ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور شام کی خانہ جنگی پر ۱۵۰ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا، ان جنگی اخراجات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں مغربی کمپنیاں کئی گنا زیادہ منافع کماتی ہیں، جیسا کہ امریکی اور مغربی کمپنیوں نے عراق کی جنگ کے بعد حاصل کیا۔
اگر واقعی امریکی دنیا میں مستقل امن چاہتے ہیں، تو ٹرمپ کو مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس کے تحت ان کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو شہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور وہ کھربوں ڈالر جنہیں مختلف ممالک ہتھیاروں اور جنگوں پر خرچ کرتے ہیں، بھوک اور غربت کے خاتمے اور عوامی معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔
لیکن نہیں! ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے نعرے محض فریب اور کھوکھلے دعوے ہیں، امن کا مطلب امریکہ کے لیے موت ہے، کیونکہ ایک طرف ٹرمپ امن کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف ہتھیاروں اور تیل کی کمپنیوں کے فروغ کی حمایت کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ جنگیں ختم ہوں اور کیسے دنیا بھر میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے؟




















































