قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان، خان آف قلات کے نام سے ایک خودمختار ریاست تھا، جس کے پاس اپنی انتظامیہ، عدالتی نظام اور دارالعوام کے نام سے ایک باقاعدہ اور جائز پارلیمان موجود تھی، اور اس کے برطانوی حکومت کے ساتھ معاہدات بھی تھے۔ برطانوی حکام نے تحریری طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد قلات کے مستقبل کا فیصلہ الگ سے کیا جائے گا۔
لیکن جب برصغیر کو مسلم اور ہندو آبادی کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ریاستوں میں تقسیم کیا گیا، تو اگرچہ ریاستوں کو مکمل خودمختاری نہیں دی جا رہی تھی، قانونی لحاظ سے پاکستانی حکمرانوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ ریاستِ قلات کو پاکستان کا حصہ قرار دیں، کیونکہ قلات نہ تو برطانوی ہند کا حصہ تھا اور نہ ہی برطانوی استعمار کی کالونی، یہ منصوبہ صرف اُن علاقوں پر لاگو ہوتا تھا جو براہِ راست برطانوی ہند یا انگریزوں کی نوآبادیات تھے۔
ریاستِ قلات نے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کو، کسی بھی قسم کے برطانوی اثر و رسوخ یا تسلط کے بغیر، اپنی مکمل اور ہمہ جہت آزادی کا اعلان کیا اور خود کو ایک باضابطہ، جائز اور داخلی و خارجی امور میں مکمل خودمختار ریاست قرار دیا۔
پاکستان، قلات کی آزادی کے اعلان کے تین دن بعد وجود میں آیا۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح، جو اس سے قبل ریاستِ قلات کے قانونی وکیل رہ چکے تھے اور اس کی آئینی و قانونی حیثیت سے بخوبی واقف تھے، نے نہ تو قلات کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور نہ ہی اس کی صریح تردید کی، بلکہ خانِ قلات میر احمد یار خان کو الحاق کی ایسی تجویز دی جس کے تحت قلات کو صوبائی خودمختاری کے ساتھ پاکستان میں شامل ہونا تھا۔
ریاستِ قلات کی دارالعوام، جو پارلیمان کا درجہ اور اختیار رکھتی تھی، نے درج ذیل متعدد وجوہات کی بنا پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی تجویز مسترد کر دی:
۱۔ قلات برطانوی ہند کا حصہ نہیں تھا اور اس کے برطانوی حکومت کے ساتھ معاہدات موجود تھے۔
۲۔ یہ ایک قدیم ریاست تھی اور پاکستان سے پہلے اپنی آزادی کا اعلان کر چکی تھی۔
۳۔ دارالعوام پاکستان کو ایک حقیقی خودمختار ریاست کے بجائے برطانوی مفادات کا وارث اور محافظ سمجھتی تھی۔
۴۔ دارالعوام بلوچ قبائل کی حقیقی نمائندہ تھی اور اس کا خیال تھا کہ پاکستان میں شمولیت سے بلوچ قوم کی شناخت، حیثیت، معیشت، وسائل، سیاسی خودمختاری، دولت اور ثقافتی تشخص کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
جب دارالعوام نے مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی تجویز مسترد کر دی، تو پاکستان نے سازشوں اور عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے پہلے قلات کے چند علاقوں کو الگ کرکے پاکستان میں شامل کرلیا، اور بعد ازاں مارچ ۱۹۴۸ء میں اپنی فوجیں قلات میں داخل کر دیں۔ میر احمد یار خان کو شدید سیاسی اور فوجی دباؤ میں رکھا گیا، اور بلوچوں کے قتلِ عام اور بھاری جانی نقصانات کے اندیشے کے باعث خان کو الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنا پڑے۔ یوں قلات کی عسکری اور سیاسی قوت کو تحلیل کر دیا گیا اور قلات پاکستان کا حصہ بنا؛ حالانکہ اس اقدام کی کوئی ٹھوس سیاسی، قانونی یا منطقی بنیاد موجود نہ تھی۔
پہلا مزاحمتی مرحلہ: ۱۹۴۸ء
جب الحاق بزورِ قوت نافذ کیا گیا، تو ۱۰۴۸ء ہی میں قلات کے شاہی خاندان کے ایک رکن، خان کے چھوٹے بھائی عبدالکریم خان بلوچ نے اس الحاق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ چند سو افراد کے ساتھ پہاڑوں میں چلے گئے اور پاکستان کے خلاف بلوچستان کی آزادی کی مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے فوجی قافلوں، چوکیوں اور اہلکاروں پر گوریلا حملے شروع کر دیے۔
تاہم عبدالکریم خان کو اس وجہ سے کامیابی نہ مل سکی کہ انہیں خانِ قلات احمد یار خان کی سرکاری حمایت حاصل نہ تھی اور نہ ہی بلوچ قبائلی سرداروں کے درمیان کوئی مؤثر اتحاد موجود تھا۔ بعض قبائل غیر جانب دار رہے اور بعض خاموشی اختیار کیے رہے، اس طرح تحریک کو مطلوبہ عوامی پشت پناہی نہ مل سکی۔ اس کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود کی شدید قلت تھی، اور مجموعی طور پر بلوچ قوم اپنے آئندہ مستقبل کے بارے میں واضح شعور نہیں رکھتی تھی۔ بالآخر عبدالکریم خان نے ہتھیار ڈال دیے، انہیں قید کر دیا گیا، اور اس کے بعد وہ پاکستان کے خلاف کسی عملی جدوجہد میں دوبارہ سامنے نہ آ سکے۔
اگرچہ عملی طور پر عبدالکریم خان کی بغاوت اپنے اختتام کو پہنچ گئی، مگر اس نے پاکستان کے خلاف بلوچستان کی آزادی کے لیے ایسی مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھ دی جو بلوچ قوم کے لیے نسل در نسل ایک مقدس ورثے کی حیثیت اختیار کر گئی۔




















































