بستی میں کوئی ایک کمینہ پڑوسی ہوتا ہےـ بدبخت غریب بھی آخری درجہ کا ہوتا ہےـ لیکن اکڑ میں بلاوجہ اتراتا رہتا ہےـ ادھار بھی لیتا ہے اور آنکھیں بھی اپنے محسنوں کو دکھاتا ہےـ جدھر دیکھو اس کے لڑائی جھگڑے چل رہے ہوتے ہیں مگر وہ کبھی بھی اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتا ـ کبھی اگر کوئی بڑا گاؤں محلے کا اس کے پاس جا کر، پیار سے محبت سے گال پر تھپکی دے کر، ایک ایک کرکے غلطیاں سمجھائے اور سلجھانے کی نصیحت کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے میں ابن ابی کے پیروکاروں کا وہ تاریخی جملہ دہراتا ہے کہ جی ہم تو بڑے مصلح واقع ہوئے ہیں ـ خود ہی دیوار شریک پڑوسی کو تنگ کرکے اسے بائیکاٹ پر مجبور کرتا ہے اور جب اپنے ہی بچے پڑوسی کے ہاں جانے اور اس سے کچھ مانگنے پر اصرار کریں اور اپنی حالت زار دکھا کر اس کے احمقانہ کارناموں کا نتیجہ دکھلائیں تو اب کے وہ جناب مسجد میں سب کے سامنے کہتا جائے کہ ہم بڑے انسان دوست لوگ ہیںـ ہمیں پتہ ہے کہ پڑوسی سے ہم نے تعلقات بند کر رکھے ہیں مگر ان کی اولاد کی خاطر پھر سے بحال کرتے ہیںـ گویا محتاج پھر بھی یہ کمینہ نہیں، پڑوسی ہےـ مگر حقیقت تو وہی ہے کہ یہ کمینہ نت نئے ناز نخرے دکھا کر اصل کام بھیک اور دست درازی کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہےـ
دیکھا جائے تو اس وقت روئے زمین پر عالمِ کفر میں اسرائیل اور دوسرے نمبر پر اسلامی دنیا میں پاکستان وہی کمینے پڑوسی کا کردار ادا کررہا ہےـ چار ہمسایوں سے واسطہ ہےـ جس میں بھارت سے تو شروع سے ہاتھا پائی ہےـ اور اپنی ناقص پالیسی کی بدولت اپنے جسم کا سب سے بڑا آبادیاتی حصہ بنگلہ دیش بھارت کے پنجہ میں ڈال کر آیا ہےـ ساتھ میں اپنے ایک لاکھ فوجی بھی زندہ سلامت حوالے کئے ہیں ـ دوسرا پڑوسی ایران ہےـ ستر سال سے زائد عرصہ میں اپنے لئے نہ سہی اپنے عوام کے لئے کبھی اس سے استفادہ کیا ہے اور نہ ہی اسے کوئی فائدہ پہنچایا ہےـ شر ہی اس سے کھینچا ہے اور شر ہی پہنچایا ہےـ تیسرے نمبر پر اس کا پڑوسی چین ہےـ جس کی کمزوری یہ ہے کہ وہ مغرب تک رسائی کا راستہ نہیں رکھتاـ اس کو لے کر بھائی لوگوں نے خوب لوٹ مار کیـ بیس سال سے اس کی.مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس سے سب کچھ وصول کرتا رہا ہے مگر کام آج تک کوئی ایک اس کے لئے نہیں کیاـ اسی لئے وہ پڑوسی بھی کبھی یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے شر سے بچنے کے لئے اور اس کے دھوکہ سے جان چھڑانے کے لئے سیدھا سادہ یا تو افغانستان اور ایران کو ہی چن لے اور یا پھر کوئی روٹ اختیار کرلےـ چوتھے نمبر افغانستان ہےـ یہ سچ ہے کہ افغانستان کے مہاجرین کے نام پر اس نے دنیا بھر سے جی بھر کر رقوم بٹوری ہیں مگر ان مہاجرین کو بسایا بھی ہےـ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ ان مہاجرین کو ان کھٹن مراحل سے گزارا ہے کہ وہ آخرت تک قبر میں بھی ان مراحل کو بھولیں گے نہیں ـ جن کیمپوں میں انہیں ٹھہرایا گیا تھا وہاں وہ تمام انسانی حقوق سے محروم تھےـ بجلی اور گیس کی سہولت تو درکنار، پانی اور صحت جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں تھیںـ بہرحال مہاجرین کو تو چھوڑئیے خود داخل افغانستان میں جہاں تک ان کا بس چلا ہے ہر طرح کی دراندازی کی ہےـ انہیں مہاجرین کو آڑ بنا کر افغانستان کے خلاف دباؤ کا ایک ذریعہ بنایا اور شریف پڑوسی کی عزتِ نفس کا استحصال کرکے ہر طرح کے مطالبات منواتے رہےـ
پھر جب اللہ تعالی نے افغانستان کو چالیس سالہ صبر آزما جد وجہد کے بعد اس کے حقیقی بیٹوں اور لائق فرزندوں کی صورت میں حقیقی وارث عطا کئے اور انہوں نے ماں جیسے وطن سے اسلام کے جذبہ سے سرشار ہوکر اسے آزادی عطا کی اور شرعی اصولوں اور محکم دینی بنیادوں پر استوار امارتِ اسلامیہ قائم کرلی تو کمینغ کے پیٹ میں مروٌ اٹھنے لگے اور اس جستجو میں لگ گیا کہ کسی طرح سے اسے زچ کیا جائےـ بالآخر یہ سمجھ کر کہ یہ ابھی نیا ہے اور کمزور ہے موقع پرست بن کر حملہ کرلیا اور جنگ چھیڑ دیـ جنگ میں اس کی توقعات کے برخلاف شریف پڑوسی نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ اب کی بار اس کی کمینگی کا جواب دینا ہی پڑے گاـ چنانچہ جنگ بھی لڑی اور بھرپور سبق بھی سکھایا جس سے اس کمینے کو علاقائی سطح پر کئی بڑے اور طاقتور محلے داروں کو دہائی دینی پڑیـ انہوں نے سخت حالات میں دیکھ کر شریف پڑوسی سے درخواست کی کہ چلئیے ہم یہ گتھی سلجھا دیں گےـ مگر کمینہ کمینہ جو ٹھہراـ بات باہر نکلی، ناز نخرے دکھائے کہ جی ہم تو روکنے والے نہیں تھے مگر فلاں نے اور فلاں نے کہا تو ان کے کہنے پر ہم آمادہ ہوئےـ
ترکی اور قطر کی کوششوں سے اس قدر ہوا اور بات بن پڑی کہ افغانستان کے غیور اور دلپذیر حکمرانوں نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیاـ اب انسانیت کا تقاضہ یہ تھا کہ جب افغانستان نے تجاوز سمیت ہر قسم کی کمینگی برداشت کر ہی لی تو کچھ اعتماد سازی کے لئے اپنی طرف سے بھی خیر خواہی کے اقدامات اٹھالئے جاتےـ مگر اپنی اصل فطرت کے مطابق اسے شرارت سوجھی کہ چونکہ اس وقت افغانستان کے انگور اور انار کا موسم ہے اور وہ تازہ پھل ہیں ـ جلد ہی خراب ہونگےـ اس لئے اس پر دروازہ بند کرکے تجارت بندش کی آڑ میں پڑوس کی مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست چمکائی جائےـ چنانچہ دروازہ بدستور بند رکھاـ نہ خدا سے شرم آئی نہ تاجر اور زمیندار برادری کی سال بھر محنت اسے نظر آئی اور نہ ہی انسانی حقوق کا اسے خیال آیاـ مگر اس دفعہ افغانستان کے باشرف اور باوقار لوگوں نے اس عقیدہ پر کہ روزی رساں ذات خدا کی ہے اور اس طرح کمینگی سے یہ ہمیں دق کرنا چاہتا ہے تو اعلان کیا کہ دروازہ اب بند ہے اور ہماری طرف سے کچھ زیادہ ہی بند سمجھ لےـ اور اب کے جب کھلے گا تو شرائط ہماری ہونگی ـ یہ اعلان کیا تھا؟ اعلان نہیں ایٹم بم تھا جو مجبوری کا فائدہ اٹھانے والوں کی قلمرو میں رو برو پھٹنے لگاـ افغانستان نے صبر کے ساتھ متبادل راستوں کی تلاش شروع کردی ـ ظاہری نقصانات بھی بڑے ہوئے مگر انحصار کی جو سوچ تھی اسے واقعی معنوں میں مات دے دی ـ لیکن اگلی جانب چونکہ فیصلہ ساز قوتیں عوام کو بقول وہاں کے ایک وزیر اعلی کے کتوں جیسے سلوک کے مستحق سمجھتی ہیں تو انہیں ان کے نقصان سے کیا سروکار؟ اس لئے کوئی متبادل روٹ تلاش کیا ہے اور کم سے کم نہ ہی کوئی اطمینان بخش جواب دیا ہےـ جس پر عوام دن بدن نقصانات دیکھ کر مشتعل ہوتے گئےـ رفتہ رفتہ فیصلہ ساز قوتوں نے دیکھ لیا کہ اب کے اگر عوام نے ہمارا پیچھا کیا تو بات اس حد تک بگڑے گی کہ ہر کوئی اسے سنبھالنے سے عاجز رہے گاـ اس لئے پھر سے دنیا کے سامنے جھولی پھیلائی ـ گھر گھر جا کر ایک ایک بڑے کے پاؤں پکڑ بیٹھاـ کبھی روس تو کبھی ایران، کبھی سعودی عرب اور قطر تو کبھی ترکی، اور یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ سے بھی رجوع کیاـ لیکن فولادی عزم سے آراستہ امارتِ اسلامیہ نے کسی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو یار لوگوں نے اپنے گھرانہ کے ایک معزز بندے اسحاق ڈار کو ایک کاغذ تھمایا اور اسے پڑھنے کا کہاـ اسحاق ڈار بڑے معزز آدمی ہیں مگر بیچارے فوج کے ہاتھوں یرغمال ہیںـ لطیفہ سنارہے تھے کہ اقوامِ متحدہ نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم انسانی حقوق کی بنیاد پر دروازے کھول دیں ـ ظاہر ہے یہ لطیفہ تو اسے تھمایا گیا ہےـ اور اس کے معزز ہونے کی حیثیت سے جب وہ اسے پڑھ رہا تھا تو میرے اندازے کے مطابق وہ شرم کے پسینہ سے شرابور ہوگا اور اپنی فیصلہ ساز قوتوں کے بارے میں کسی سیاسی آدمی کے کہنے کے مطابق یہ سوچ رہا ہوگا کہ خیرات بھی مانگتی ہیں اور بدمعاشی سے مانگتی ہیں ـ یا بہ الفاظ دیگر خیرات بھی مانگتی ہیں اور دہشت گردی سے مانگتی ہیں ـ ملامت بھی یہ ہیں اور انسانی حقوق کا بھاشن بھی دیتی ہیں ـ انسانیت کا تو اس نے قتل کر ڈالا ہے مگر خود کو انسانی حقوق کا علمبردار بھی کہتی ہیںـ وہ سوچ رہا ہوگا کہ کس ماڈرن دور میں جی رہے ہیں ـ بھیک کے کیا نت نئے نخرے ایجاد ہورہے ہیںـ
اور میں یہ اندازہ کیوں لگارہا ہوں؟ اس لئے کہ انسانی حقوق تو تب تھے جب یہ فیصلہ ساز قوت تجارت کو سیاست سے بالائے طاق رکھتے ہوئے انار اور انگور کو حسب معمول اجازت دیتی ـ لیکن وہ تازہ پھل ان کی آنکھوں کے سامنے گل رہے تھے اور سڑ رہے تھے اور یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہورہے تھےـ مگر اب جب ان پر اپنی عوام کی طرف سے پریشر بڑھا اور مالٹوں کا سیزن سر آیاـ آلو کی بوریاں نالیوں میں ڈھیر بنتی جارہی ہیں تو انسانیت یاد آگئی ـ واہ رے کیا جذبہ ہےـ یہ انسانیت ہے کہ دوسروں کا جینا جہنم بنادو اور اپنی باری آئے تو اس سے سینہ تان کر اپنی دوا مانگ لیا کروـ پھر کس ڈھٹائی سے اقوام متحدہ کا حوالہ دے کر احسان جتایا جارہا ہےـ مجھے تو اس پر بالکل وہ کمینہ پڑوسی یاد آتا ہےـ لیکن ایک چیز ان لوگوں نے اپنی نظروں سے اوجھل بنادی ہےـ وہ یہ کہ ٹھیک ہے کہ ان کی کمینگی سر چڑھ کر بولتی ہے لیکن حوصلہ مند لوگ بھی جب اپنی شریفانہ چلن سے باہر آتے ہیں تو کمینوں کی کمینگی پر ٹھپہ لگائے بغیر اپنا شریفانہ لباس زیب تن نہیں کرتےـ اس لئے یہ ناز ونخرے اور بھیک کے نت نئے نقشوں کا دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے اور کچھ ان سے بن نہیں پارہا کہ اب کی بار شریف پڑوسی کچھ کر آیا ہےـ




















































