چند روز قبل بعض ذرائع نے اطلاع دی کہ خیبر پختونخوا کے مرکز پشاور کے قریب، ایک مخصوص علاقے میں موجودہ دور میں اسلام کے بدترین دشمنوں کے ایک مرکز کو نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کے کئی دشمن ہلاکت خیز حملے میں مارے گئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلافت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور ان کی پوری تاریخ قرآن و سنت کے پیروکاروں کے ساتھ تصادم اور دشمنی سے بھری پڑی ہے۔
اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں انسانیت کے دشمنوں کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے، اور وہ نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں جھڑپوں اور مہلک حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثالیں کراچی، مستونگ اور باجوڑ کے حالیہ واقعات ہیں، جنہیں میڈیا نے کھل کر رپورٹ کیا اور دنیا کے سامنے آشکار کیا۔
اس کے باوجود پاکستان کی حکومت اور فوجی نظام داعش سے منسلک خوارج کی موجودگی سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں اور ہر بار ایسے حقائق کو مسترد کر دیتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے اپنے بعض نمایاں اور دین و مذہب سے وابستہ افراد کو اس کام پر مامور کر رکھا ہے کہ وہ دن رات بیانات دیں اور دیگر ہمسایہ ممالک، بالخصوص افغانستان کی امارتِ اسلامیہ پر الزامات عائد کریں، اور اپنے ریاستی معاملات کی ہر خرابی کا بوجھ انہی پر ڈال دیں۔
یہ مقرر کردہ افراد، جو دین اور سیاست دونوں سے وابستہ ہیں، اپنے موقف کے دفاع میں کبھی سیاسی زاویے سے امن کو سبوتاژ کرنے والوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور کبھی دینی و مذہبی انداز میں خوارج کی تشریح قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے دین، مذہب، شریعت اور احادیث کو بطور آلہ استعمال کرتے ہیں۔ آج بھی میڈیا میں ان افراد کی کلپس اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ خوارج کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں، ان کی خصوصیات اور علامات کو ’’خوارج کون ہیں‘‘ کے عنوان سے بیان کرتے ہیں، کبھی ’’خوارج کہاں پائے جاتے ہیں‘‘ کے عنوان کے تحت بات کرتے ہیں اور یہ سب الزامات ہمسایہ اسلامی حکومت پر تھوپ دیتے ہیں، تاہم اب تک اپنے دعوؤں کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
اگر ان مقرر کردہ افراد کے تجزیے اور آراء کو سیاسی زاویے سے پرکھا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ وہ کن لوگوں کے لیے ’’دہشت گرد‘‘ اور اس نوع کی دیگر اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، تو واضح ہوتا ہے کہ سیاسی میدان میں خود ان کے درمیان کوئی یکساں فکر موجود نہیں۔ اب تک اس حوالے سے نہ کوئی سیاسی اجماع قائم ہو سکی ہے اور نہ ہی ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔ بلوچستان کے نمایاں سیاسی رہنما اور خیبر پختونخوا کے باشعور عوام آج بھی فوجی نظام کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گردوں کے بجائے زیادہ تر حق طلب اور مزاحمتی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اگر ان مقرر کردہ افراد کے تجزیے اور آراء کو سیاسی زاویے سے دیکھا جائے، اور یہ جانچا جائے کہ وہ کن لوگوں کے لیے ’’دہشت گرد‘‘ اور اس نوع کی دیگر اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، تو واضح ہوتا ہے کہ اس حوالے سے خود ان کے درمیان کوئی متفقہ اور یکساں سیاسی تصور موجود نہیں۔ تاحال اس معاملے میں نہ کوئی سیاسی اجماع قائم ہو سکی ہے اور نہ ہی فکری ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔ بلوچستان کے نمایاں سیاست دان اور خیبر پختونخوا کے باشعور عوام آج بھی فوجی نظام کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گردوں کے بجائے زیادہ تر حق مانگنے والے اور مظلوم فریق کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سیاسی قیادت اور اشرافیہ کی بات کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ چند روز قبل بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کا شہروں میں داخل ہونا، ان کی اصطلاح میں تو ’’دہشت گردوں‘‘ کی آمد ہونی چاہیے تھی، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلتا اور شدید ردِعمل سامنے آتا، مگر دنیا نے وہ ویڈیوز بھی دیکھیں جن میں عام لوگ بلوچ علیحدگی پسند مسلح افراد کو گلے لگا رہے ہیں، شوق سے ان کے ساتھ تصاویر بنا رہے ہیں اور ان کے ہاتھ چوم رہے ہیں۔
البتہ پاکستان کی حکمران قوتوں نے بہت جلد سوشل نیٹ ورکس پر پابندیاں عائد کر دیں، ورنہ دنیا بہت کچھ اور بھی دیکھ لیتی۔ متعدد علاقوں سے یہ خبریں بھی موصول ہوئیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے مقابلے میں سرکاری تنصیبات کو عام لوگوں نے لوٹا اور نقصان پہنچایا۔ کیا سرکاری املاک کی لوٹ مار، علیحدگی پسند مسلح افراد کے ہاتھ چومنا اور ان کے ساتھ شوقیہ تصاویر بنوانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی طور پر ان علیحدگی پسندوں کو نفرت انگیز اور ہولناک بیانیے کا سامنا کرنا پڑے؟
اور اگر اس معاملے کو دینی و مذہبی زاویے سے پرکھا جائے، تو خوارج کے اطلاق کے حوالے سے فوجی نظام کے مقرر کردہ افراد کے ساتھ نہ عام علمائے کرام متفق ہیں اور نہ ہی پاکستان کے معتبر مشائخ۔ پاکستان کے معزز علماء متعدد مرتبہ اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں، اور آج بھی یہ سب ریکارڈ پر موجود ہے، کہ بلوچستان اور پختونخوا کے مسلح افراد کا معاملہ خارجیت کے بجائے حقانیت سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ لہٰذا بے جا تمثیلات پر اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے اس مسئلے کا کوئی صحت مند اور حقیقت پسندانہ حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
لیکن دوسری طرف وہ لوگ جنہیں انہی کی تشریح کے مطابق خوارج کہا جاتا ہے، عالمی سطح کے علماء نے بالفعل ان پر خوارج کی مہر ثبت کر دی ہے۔ یہ گروہ اپنے وجود کے آغاز سے لے کر آج تک اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں۔ انہوں نے معصوم بچوں، عزت و عصمت کے حامل افراد، باوقار شہریوں اور دینِ اسلام کے مقدس علما کو نہایت وحشیانہ انداز میں شہید کیا ہے۔ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کرنے والے جان نثار مجاہدین کو انہوں نے اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے سوا ہر مخالف کو مرتد قرار دیا اور ارتداد کے نام پر واجب القتل ٹھہرایا۔
آج یہی خوارج پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، کراچی، پشاور اور خیبر جیسے اہم مراکز میں ان کے ٹھکانے پائے جاتے ہیں، اور وہ اس حد تک بے نقاب ہو چکے ہیں کہ نامعلوم افراد کے حملوں میں نشانہ بنتے ہیں، ایک ہی مقام پر درجنوں افراد مارے جاتے ہیں، اور علاقے کے تمام لوگ کھلے عام کہتے ہیں کہ یہاں داعشی خوارج آباد تھے۔
مگر نہ پاکستان کی حکومت، نہ فوجی نظام، اور نہ ہی ان کے مقرر کردہ افراد اس پر کوئی مؤقف اختیار کرتے ہیں؛ سب نے گویا اپنے منہ پر بھاری تالے لگا رکھے ہیں۔ تو کیا یہ تمام حقائق پاکستانی حکام، خصوصاً فوجی نظام، کے اس رویے کو بے نقاب نہیں کرتے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے مذموم مقاصد کے لیے دنیا، انسانیت اور اسلام کے دشمنوں کی سرپرستی کرتے ہیں؟ کیا یہ سب اس امر کی واضح دلیل نہیں کہ پاکستانی فوجی نظام پردے کے پیچھے عالمی دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے اور خطے، دنیا اور ہمسایہ ممالک کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے لیے انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کرتا ہے؟
بلکہ ایسے واقعات کو دیکھ کر یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ داعش جیسی خبیث اور تباہ کن تنظیمیں پاکستانی نظام اور اسی طرز کے دیگر نظاموں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں، اور آج وہ انہی کی دی ہوئی منصوبہ بندی کے تحت اپنے اہداف آگے بڑھا رہی ہیں۔ مبصرین آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی فوجی نظام اپنی بقا اور دوام کے لیے اپنے ہی شہریوں کو قتل کرتا ہے، ان کے حقوق پامال کرتا ہے، خطے اور دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالتا ہے، اور اس مقصد کے لیے داعشی خوارج جیسے مظاہر کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے؛ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا اصل چہرہ پاکستان کے عوام، خطے اور پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔




















































