داعش کی شکست اور اس کے مکمل خاتمے کے اسباب کے جائزے کے تسلسل میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اس گروہ کے تیز رفتار زوال کے پیچھے ایک بڑے اور بنیادی سبب سے چشم پوشی ممکن نہیں، اور وہ ہے ان کا وسیع، منظم اور بے رحم ظلم و استبداد، جسے انہوں نے نہ صرف امت مسلمہ بلکہ غیر مسلموں پر بھی روا رکھا۔ جی ہاں! ظلم دو دھاری تلوار کی مانند ہے، ایسی تلوار جو نہ صرف اپنے شکار کو ختم کرتی ہے بلکہ آخرکار خود ظالم کو بھی ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔
داعشی خوارج، جو خلافت اسلامیہ کے قیام اور امت کی نجات کے نعرے کے تحت سامنے آئے تھے، عملی طور پر ایسے مظالم کے مرتکب ہوئے کہ اسلام کے دشمن بھی حیران رہ گئے، ایسے مظالم جنہوں نے بھڑکتی آگ کی طرح ان کی خیالی حکومت کی بنیادوں کو راکھ بنا دیا
۔
اگر ہم قرآنِ عظیم الشان کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کریں تو واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ظلم پر قائم حکومتیں کبھی بقا کی اہل نہیں ہوتیں اور جلد یا بدیر زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتے ہیں:
«وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَبَقُوا إِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُونَ» (انفال: ۵۹)
یہ مقدس آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ظالم کبھی بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور ان کا انجام یقینی ہلاکت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل جلالہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
«إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ» (یونس: ۸۱)
یعنی ہر وہ عمل جو فساد اور ظلم پر مبنی ہو، نہ اصلاح پاتا ہے اور نہ ہی دوام۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی مبارک احادیث میں اسی حقیقت پر زور دیا اور فرمایا:
«الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (بخاری و مسلم)
یعنی ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے؛
یہ حدیث نہ صرف آخرت کی سزا کو بیان کرتی ہے بلکہ اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ظلم اسی دنیا میں بھی ظالم کو تباہی اور تاریکی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے:
«إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ خَيْرًا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى حُلَمَائِهِمْ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ شَرًّا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى سُفَهَائِهِمْ» (ابوداؤد)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جب اقتدار نادانوں اور ظالموں کے ہاتھ میں چلا جائے تو اس معاشرے کی تباہی اور شر یقینی ہو جاتا ہے۔
اہل سنت کے اکابر علماء نے بھی اپنے آثار میں اس اصول پر زور دیا ہے کہ کوئی حکومت ظلم کے بل پر قائم نہیں رہ سکتی، کیونکہ ظلم امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیتا ہے اور الٰہی نصرت کو سلب کر لیتا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے "احیاء علوم الدین” میں لکھا ہے کہ ظلم ہر سلطنت کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور اسے زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
لیکن داعشی خوارج کے اعمال ان مقدس اسلامی ہدایات کے سراسر خلاف تھے۔ انہوں نے بے شمار مظالم ڈھائے؛ مساجد اور بازاروں میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل سے لے کر مسلم شہروں کی تباہی، لوگوں کے اموال کو غصب کرنا، حتیٰ کہ عورتوں اور بچوں پر تشدد اور ظلم تک۔
یہ گروہ جو خود کو اسلام کا مدافع کہتا تھا، درحقیقت انہی مظالم کے ذریعے امت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بنا اور اسلام کے رحمانی چہرے کو عالمی سطح پر بدنام کیا۔ یہ وسیع مظالم نہ صرف اہل سنت کے عقیدے سے متصادم تھے بلکہ اس کا سبب بھی بنے کہ عام مسلمان عوام ان سے دور ہو گئے، حقیقی جہادی تحریکیں ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں، اور عالمی طاقتوں کو ان کی تباہی کا بہانہ مل گیا۔
بالآخر، جیسا کہ قرآنِ عظیم الشان اور سنت نے پیش گوئی کی تھی، ان کی خیالی حکومت بہت جلد سقوط کا شکار ہو گئی اور ان کے تمام دعوے خاک میں مل گئے۔
کیونکہ ہر وہ نظام جو ظلم کی بنیاد پر قائم ہو، لازماً زوال پذیر ہوتا ہے۔




















































