کیا ہم آج کے مسلمان، عمر، علی، خالد، طارق، سعد رضی اللہ عنہم اور دیگر جری و بہادر انسانوں کے جانشین اور پیروکار نہیں ہیں؟ پھر وہ غیرت کہاں چلی گئی؟ اور یہ آج کی ذلت کہاں سے آ گئی؟ کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ پہلا سبب جس نے ہماری اسلامی سوسائٹی کو نقصان پہنچایا، امت کو کمزور کیا اور ہمارے اتحاد و یگانگت کو پارہ پارہ کیا، وہ مقصد اور ہدف کا مٹ جانا ہے؛ وہی مقصد جس کے حصول کے لیے یہ امت وجود میں آئی تھی۔
اسلامی امت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ کی عبادت کرے اور انسانوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر بندوں کے رب کی بندگی کی طرف لے آئے۔ امت کا اتحاد اور اجتماع عقیدے اور دعوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ رنگ، نسل، وطن، سرزمین، قوم اور قبیلے کی بنیاد پر۔
مگر افسوس کہ وہ امت جو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کی گئی تھی، دنیاوی، کمزور اور بے وقعت مقاصد کا شکار ہو گئی اور یہی مقاصد اس عظیم ہدف کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب اسلامی ممالک کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر خطے میں کمزور اور بے اختیار حکمران مسلط کر دیے گئے، جن کی تمام تر فکر اقتدار، بادشاہت اور تخت تک محدود ہو گئی، اور جن کا واحد مقصد مادی مفادات اور طویل زندگی تھا۔
یہی وہ ہدف ہے جس کے ساتھ نوجوان بوڑھے ہو جاتے ہیں اور بچے اسی سوچ کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا سبق جو ہمیں بچے کو سکھانا چاہیے، یہ ہونا چاہیے کہ اپنا مقصد مت بھولو! تم اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔
مختصر یہ کہ امت کے موجودہ دور کا مرض بھی یہی ہے اور اس کا علاج بھی یہی کہ ہم دوبارہ پہلی راہ کی طرف لوٹ آئیں، قرآنِ عظیم الشان، یعنی اللہ کی مضبوط رسی کو تھام لیں اور افرادِ امت کو اس حقیقی مقصد کی طرف متوجہ کریں جس کے لیے اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس حصے اور آئندہ حصوں میں میں کوشش کروں گا کہ مسلمانوں کی کمزوری کے اسباب کو اختصار کے ساتھ بیان کروں۔
مسلمانوں کی کمزوری کے چند اسباب درج ذیل ہیں:
۱- عقیدے اور عمل کی کمزوری:
سب سے پہلا سبب جو مسلمانوں کی کمزوری کا باعث بنا، وہ عقیدے اور عمل کی کمزوری ہے۔ بعض مسلمان اپنی عزت مادی چیزوں اور کفار کی رفاقت میں تلاش کرتے ہیں۔ جو شخص اپنا وقار اور قوت مخلوق اور کفار سے چاہتا ہے، درحقیقت اس کا عقیدہ کمزور ہو چکا ہوتا ہے، اور جس کا عقیدہ اور عمل کمزور ہو جائے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکام رہتا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اعمال کس قدر کمزور ہو چکے ہیں۔ مساجد آباد ہیں مگر نمازیوں سے خالی ہیں۔ قرآنِ عظیم الشان موجود ہے مگر اس کی تلاوت اور اس میں تدبر ناپید ہو چکا ہے۔ مال و دولت ہے مگر اللہ کی راہ میں خرچ اور صدقہ نہایت کم ہے۔ مختصر یہ کہ ساری توجہ نفسانی خواہشات کی تکمیل پر مرکوز ہو گئی ہے، اور دلوں میں ایمان، محبت اور عبادت کی جگہ دنیا کی محبت اور چھوٹی چھوٹی خواہشات نے لے لی ہے۔
جب مسلمانوں کا عقیدہ اور عمل کمزور ہو جاتا ہے تو وہ عالمی سطح پر بھی کمزور نظر آتے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں خود کو کفار کا محتاج سمجھتے ہیں، کفری دنیا کی غلامی اور اطاعت قبول کر لیتے ہیں، اور معاشی و علمی میدانوں میں مادی اعتبار سے دوسری قوموں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے قدرتی وسائل پر بھی اختیار کھو بیٹھتے ہیں، اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ہمیشہ کے لیے ظالموں کے تسلط میں آ جاتے ہیں۔
آج مسلمان اپنا تقریباً سارا اختیار کھو چکے ہیں، اور جو لوگ کفار کے ساتھ نام نہاد عالمی اداروں میں بیٹھے ہیں، وہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور جرائم کو بیان اور ظاہر کرنے کی جرأت تک نہیں رکھتے۔




















































