امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی سفارت کاری ایک بار پھر متحرک دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا اچانک ایک ممکنہ اہم ثالث کے طور پر سامنے آنا بظاہر ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتی ہے؛ تاہم جب اس عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں؛ کچھ حقیقت پر مبنی اور کچھ محض پروپیگنڈا اور مخصوص بیانیوں کی تشکیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
پاکستان کے ریاستی اور عسکری رجیم میں موجود تضادات کو مدنظر رکھا جائے تو اس بار بھی صورتِ حال ماضی سے مختلف نہیں دکھائی دیتی۔ اسی تناظر میں، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میز سجانے کو محض ’’امن کی کوشش‘‘ قرار دینا اور اس کی تعریف کرنا شاید حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہو۔ عالمی میڈیا پاکستان کے اس متضاد کردار کو جس انداز میں پیش کرتا ہے، وہ بظاہر سخت معلوم ہو سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر رد کر دینا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کیوں کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے حساس مواقع پر ہی کیوں متحرک ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا ماحول خود پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ اس متضاد پالیسی کے پس منظر میں پاکستان کی اصل ترجیحات کیا ہیں؟
اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنا ہی کافی ہے، کیونکہ یہ محض ایک عمومی تاثر نہیں بلکہ واضح تاریخی حقائق پر مبنی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سوویت۔افغان جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ کے ساتھ قریبی اتحاد قائم کیا اور خود کو اس جنگ میں ایک فرنٹ لائن اتحادی ریاست کے طور پر پیش کیا۔ اس اتحاد کے نتیجے میں پاکستان کو وسیع مالی اور عسکری امداد حاصل ہوئی، تاہم اسی پالیسی کے اثرات بعد میں خطے میں شدت پسندی اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہوئے، جن کی قیمت خود پاکستان کو بھی چکانی پڑی۔
اسی طرح، گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر پاکستانی فوج نے ایک بار پھر امریکہ کا ساتھ دیا اور اپنے ہمسایہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں کے لیے عملی سہولتیں فراہم کیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود کو طالبان حکومت کا قریبی ترین حامی قرار دیتا رہا تھا۔ گیارہ ستمبر کے بعد یہ اچانک تبدیلی محض نظریاتی نہیں تھی، بلکہ بین الاقوامی دباؤ اور مفادات کے تحت اپنائی گئی وہی پرانی حکمتِ عملی تھی جس کی بنیاد عالمی غالب طاقت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے پر ہے۔
اس طرح پاکستان نے اس یوٹرن کے بدلے ایک جانب اربوں ڈالر کی امداد حاصل کی، لیکن دوسری طرف اپنے پڑوسی افغانستان کے حوالے سے اسی پالیسی کے فطری نتائج داخلی بدامنی، دہشت گردی اور سماجی تقسیم کی صورت میں بھی بھگتے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تعلقات میں ایک اور نمایاں رجحان چین کی جانب جھکاؤ کی صورت میں سامنے آیا ہے، خصوصاً چین–پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، بلکہ حالات کے مطابق دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ طرزِ عمل بظاہر سفارتی مہارت کا مظہر معلوم ہوتا ہے، مگر ناقدین اسے ایک واضح اور مستقل پالیسی کے فقدان کی علامت قرار دیتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ چین–پاکستان اقتصادی راہداری بھی اب تک مطلوبہ انداز میں مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔
اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر ریاست اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے؛ تاہم اصل فرق تسلسل اور شفافیت کا ہوتا ہے۔ بہت سے کمزور ممالک بھی مفادات کی سیاست کرتے ہیں، مگر ان کے پاس ایک واضح حکمتِ عملی اور طویل المدتی اہداف ہوتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اکثر یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ اس کی علاقائی پالیسی پیشگی منصوبہ بندی کے بجائے فوری ردِعمل کے طور پر تشکیل پاتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان کی داخلی بے ثباتی بھی ’’موقع پرست ریاست‘‘ کے اس تصور کو تقویت دیتی ہے۔ سیاسی عدم تسلسل، سول و عسکری قیادت کے درمیان اختیارات کا توازن، اور کمزور معیشت؛ یہ تمام عوامل ایک مستحکم خارجہ پالیسی کی تشکیل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں وقتی مواقع سے فائدہ اٹھانا پاکستان کے لیے ایک مجبوری بن جاتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ایک غیر سنجیدہ عادت کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے۔
اگرچہ یہ کہنا آسان ہے کہ مغربی میڈیا پاکستان کا تعصب کے ساتھ جائزہ لیتا ہے، مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا خود پاکستان نے اپنے طرزِ عمل کے ذریعے اس تاثر کو تقویت نہیں دی؟ جب کوئی ملک بار بار محض طاقت کی بنیاد پر اتحاد بناتا اور توڑتا ہے، تو اس پر ’’موقع پرستی‘‘ کا الزام لگنا کوئی حیران کن بات نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کا فقدان اور قلیل مدتی مفادات کو ترجیح دینا اسے بار بار اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اس کے ارادوں پر سوال اٹھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر پاکستان واقعی عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد اور سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے دور دراز تنازعات میں ثالثی کے بجائے ایک واضح، مستقل اور اصولی خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی، اور سب سے پہلے اپنے ہمسایہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، پاکستان کی ہر نئی سفارتی کوشش، خواہ وہ کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھی جائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں اس ملک کی ساکھ اور اعتبار مزید کمزور ہوتا جائے گا۔




















































