اکثر اوقات باطل اور جاہلانہ دعوے اپنے شور و غل اور طاقت کے زور پر ابھرتے ہیں، اپنے طاغوتی اور اسلام مخالف افکار کو حق کا نام دیتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہیں کہ امت میں بیدار احساس اور اسلامی فکر کے حامل لوگ غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ایک محدود مدت تک ان کا یہ ہنگامہ اور ان کی غیر منصفانہ کارروائیاں کچھ نتیجہ بھی دے دیتی ہیں، مگر پھر وہ ہمیشہ کے لیے اس طرح نیست و نابود ہو جاتے ہیں کہ تاریخ کے اوراق میں صرف غداروں کے نام سے ہی یاد کیے جاتے ہیں، اور بس۔
بالکل اسی طرح کل داعشی خوارج کا ظہور ہوا۔ انہوں نے بڑے زور و شور کے ساتھ متعدد علاقوں پر قبضہ کیا اور انہیں اپنی نام نہاد خلافت کے زیرِ تسلط لے آئے۔ اپنی خود ساختہ دعوت کے مطابق وہاں کے باسیوں پر ظلم و ستم اور قتلِ عام کا آغاز کیا۔ لیکن جب امت کے بیدار اور باشعور نوجوانوں نے اس فتنے کا تعاقب کرتے ہوئے ان کی حقیقت جانچنی شروع کی تو یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ یہ گروہ درحقیقت امت کی تباہی کی ایک بڑی تمہید ہے۔
اسی طرح، گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی جہاد کے ثمرات شعوری یا غیر شعوری طور پر دشمن کی کارکردگی کے کھاتے میں درج کیے جا رہے ہیں، لوگوں کو جہاد اور اسلامی نظام سے متنفر کیا جا رہا ہے، اور عدل و انصاف کے عنوان کے تحت ایسے اعمال انجام دیے جا رہے ہیں جنہیں کھلا بے انصاف بھی ناجائز اور غیر مشروع قرار دیتا ہے۔ اسی تناظر میں ہم داعشی خوارج کے کل اور آج کا جائزہ لیں گے کہ ان کا زوال کس طرح شروع ہوا اور ان کے زوال کے اسباب کیا تھے؟
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آج کے خوارج بھی کل کے خوارج ہی کی پالیسی، طرزِ فکر اور راستے پر گامزن ہیں اور انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جتنے بے ادب اور گستاخ گزشتہ خوارج تھے، آج کے خوارج ان سے کئی گنا زیادہ بے ادب اور بدزبان ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ امت کے بڑے بڑے علماء میں شاید ہی کوئی ایسا عالم ہو جسے انہوں نے طاغوتی یا ناکارہ عالم کہہ کر نہ پکارا ہو۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے حقانی اور ربانی علماء کی، اور بالخصوص ان علماء کی جو کفر و الحاد کے خلاف جہاد اور جدوجہد کرتے رہے، بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے اور انہیں امت کا عظیم فخر قرار دیا ہے۔ یہی بے ادبی اور گستاخی اس بات کا سبب بنی کہ آج کے خوارج بھی اپنے پیش روؤں کی طرح زوال کی دہلیز پر آخری قدم رکھ چکے ہیں اور اپنے انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
معاصر خوارج کے زوال کا ایک اور سبب یہ ہے کہ انہوں نے صرف اپنی ہی جماعت کو پوری امت کا نمائندہ اور خلیفہ قرار دے رکھا ہے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ دعوے میں تو خود کو پوری امت کا نمائندہ کہتے ہیں، مگر حقیقت میں امت کے خون کے پیاسے بنے بیٹھے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ تمام اسلامی سرزمینوں میں، اور بالخصوص وہاں، فتنہ، بغاوت اور انتشار پیدا کریں جہاں عملاً اسلام کے بہت سے احکام نافذ ہیں اور کچھ دیگر نافذ ہونے کے مراحل میں ہیں۔ یہی رویہ اس بات کا سبب بنا کہ وہ اپنے سابقہ زور و قوت کو برقرار رکھنے کے بجائے زوال کی راہ پر گامزن ہو گئے ہیں، اور قریب ہے کہ آخری خوارج بھی اپنے ناجائز اعمال کی سزا پا لیں۔
موجودہ خوارج کے زوال کا ایک اور بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے شرعی حدود، احکام اور شرعی اصطلاحات کو بری طرح بدنام کیا، جس کے نتیجے میں عام لوگ انہی شرعی حدود، احکام اور اصطلاحات سے نفرت کرنے لگے۔ یہ ایک تاریخی جرم ہے جسے داعشیوں نے اپنے نام لکھوایا، کہ وہ شرعی اصطلاحات کو مسخ کرتے اور انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے نام نہاد نظام کے سوا تمام نظاموں کو طاغوتی اور کافرانہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان کے مخالف نظاموں میں بعض ایسے نظام بھی موجود ہیں جو نہایت پاکیزہ اور بابرکت ہیں، جن کی ہر چھوٹی بڑی کارروائی شرعی نصوص سے ماخوذ ہوتی ہے، جیسے افغانستان کی جغرافیائی حدود میں قائم شرعی نظام۔
اسی بنیاد پر وہ اپنے مخالف نظاموں کے ماننے والوں کی تکفیر کے معاملے میں شدید تذبذب اور اختلاف کا شکار ہیں؛ کچھ ان میں سے شہریوں اور فوجیوں سب کو کافر قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض شہریوں اور فوجیوں کے درمیان تکفیر کے مسئلے میں فرق کرتے ہیں۔ اس طرح کے اختلافات ان کے درمیان ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ خود ساختہ اور بے اصول اختلافات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ان کے پاس کوئی متعین شرعی منہج موجود نہیں، بلکہ ہر داعشی کا اپنا الگ منہج ہے اور شرعی احکام و اصطلاحات کے بارے میں اس کی اپنی من مانی تعریفیں ہیں۔ یہی تیسرا بڑا سبب ہے جس نے انہیں طاقت اور غلبے کے بجائے تباہی اور فنا کی راہ پر ڈال دیا ہے، اور وہ اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔




















































