بیسویں صدی میں مستشرقین کے طریقِ کار میں تبدیلی لائی گئی، ان کا نام بدلا گیا اور انہیں "اسلامک ایجوکیشن” کے عنوان سے مغربی یونیورسٹیز کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد مستشرقین کا پرانا منصوبہ اس لیے زیادہ مؤثر نہ رہا کہ خود مسلمانوں میں ایسے افراد کی بڑی تعداد پیدا ہو گئی جو مغرب کے مفادات کے لیے وقف تھے اور مستشرقین سے بڑھ کر اسلام کے خلاف کردار ادا کرنے لگے۔
مستشرقین نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے، ان میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا، اسلامی سلطنت کو قومیت کے نام پر تقسیم کرنا اور مسلمانوں میں قومی تعصب کو ہوا دینا۔
۲۔ مسلمانوں کے باہمی مذہبی اختلافات کو بڑھکانا اور انہیں مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا۔
۳۔ اقتدار کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور خلافت کو توڑنا، یہاں تک کہ 756ء میں مستشرقین کے فریب اور سازش کے ذریعے اندلس (موجودہ سپین) کو خلافت سے جدا کر دیا گیا، پھر اسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ کر صلیبیوں کے قبضے میں دے دیا گیا۔ اسی طرح اسی صدی کے دوران مراکش اور الجزائر کو بھی الگ کیا گیا۔ ان شیطانی چالوں کے تسلسل میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کے بیج بوئے جاتے رہے اور خلافت دن بدن کمزور ہوتی چلی گئی۔
۴۔ صلیبی قوتوں کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کرنا اور ان کی معلومات فراہم کرنا۔
۵۔ مسلمانوں کے عقیدے کو کمزور کرنے کے لیے مسلمان کے بھیس میں اسلامی فقہ اور حدیث پر شبہات پیدا کرنا اور ان پر اعتراضات اٹھانا۔
۶۔ ان سب کے ساتھ سب سے خطرناک کام یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر غلط عقائد اور افکار رکھنے والے افراد تیار کیے گئے، جو بعد میں مستشرقین سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔
۷۔ ایک اور خطرناک کام یہ تھا کہ مستشرقین نے مسلمانوں کے لبادے میں یہ نظریہ پھیلایا کہ اسلام اور سیاست ایک دوسرے سے جدا ہونے چاہئیں۔ اسلامی تاریخ میں کسی معتبر عالم نے یہ نہیں کہا کہ اسلام اور سیاست جدا ہیں، مگر مستشرقین نے یہی فکر مسلمانوں میں رائج کی۔
مسلمان نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ دین اور سیاست کو جدا کرنا خالصتاً کفار کا نظریہ اور سازش ہے، جو امت مسلمہ کے لیے زہر کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام سیاست کے بغیر ادھورا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے نزول کی ایک حکمت زمین پر عدل قائم کرنا ہے، اور عدل کا قیام حکومت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسلام کے ظہور سے قبل یہاں حکمران ظلم کرتے تھے اور زمین پر ظلم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کیا، ایک مضبوط حکومت قائم ہوئی اور عدل نافذ ہوا۔
اگر واقعی دین اور حکومت الگ ہوتے تو سرورِ کائنات ﷺ اپنی نبوت کے دوران حکومتی معاملات کسی اور بادشاہ کے سپرد کر دیتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے تمام امور خود انجام دیے۔ جب عالمِ اسلام میں دین اور سیاست کی جدائی کا نظریہ آیا تو امتِ مسلمہ زوال کا شکار ہو گئی اور آہستہ آہستہ اپنی عظمت کھو بیٹھی۔ ایک مسلمان نوجوان کو کامل مومن بننے کے لیے یہ فکر ضروری ہے کہ وہ دین، سیاست اور حکومت کو ایک دوسرے سے مربوط سمجھے۔
۸۔ مسلمانوں میں یہ تصور پھیلانا کہ اسلامی قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں، خلافت ایک پرانا نظام ہے اور اس کا وقت گزر چکا ہے، اس لیے ترقی کے لیے مغربی قوانین اور سیکولر ازم کے اصولوں کے تحت اب انسانی قوانین کو تشکیل دیا جائے۔
۹۔ مستشرقین کا منصوبہ مکمل ہو گیا، اب انہیں اس بات کی ضرورت نہ رہی کہ مغربی لوگ مسلمانوں کے بھیس میں آئیں، بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں لاکھوں شاگرد تیار کر لیے تھے جو ان کے افکار کو پھیلا سکتے تھے۔ 3 مارچ 1924ء کو مغرب نے اپنے تربیت یافتہ شاگرد کمال اتاترک کے ذریعے خلافت کا خاتمہ کر دیا اور خلافت کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا اور اس ان کی وہ دیرینہ خواہش پوری ہوئی جس کے لیے وہ صدیوں سے محنت کر رہے تھے۔ اور ان کا یہ فارمولہ کامیاب ہو گیا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کا راستہ اسلحہ کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے عقیدے اور فکر کو کمزور کرنے میں ہے۔
۱۰۔ بیسویں صدی مسلمانوں کے زوال اور ناکامی کا دور تھا مغرب نے مسلمانوں کو کمزور تقسیم کیا اور براہِ راست حکمرانی کے بجائے ایسے نام نہاد مسلمان حکمران مسلط کیے جو مغربی فکر سے تربیت یافتہ، سیکولرازم کے نفاذ اور مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے وقف تھے۔ اس پسِ پردہ مغرب ہی حکمرانی کرتا رہا، اور آج ایک صدی گزرنے کے باوجود مغرب اسی طرح مسلمانوں پر حکومت کرتا چلا آ رہا ہےاور مسلم ممالک کی معدنیات، معیشت، فکر اور مفادات کو اپنے پیروں تلے روندتا چلا آ رہا ہے۔




















































