چند روز پیشتر آنے والا تباہ کُن زلزلہ، جس نے افغانستان کے مشرقی صوبے، بالخصوص کنڑ کو لرزا دیا، حالیہ برسوں میں سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفات میں شمار ہوتا ہے۔ اس غمناک سانحے نے ہمارے بہت سے ہم وطنوں کی جانیں لے لیں اور ہزاروں دیگر زخمی ہوئے، لیکن اس تباہی اور درد کے ساتھ ساتھ، قومی یکجہتی کی داستانیں اور امارتِ اسلامی کے مجاہدین کی بے لوث خدمت اور قربانی کے دلگداز مناظر سامنے آئے۔
زلزلے کے فوراً بعد، امارتِ اسلامی نے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تیز اور منظم ردِعمل دکھایا۔ متعلقہ حکام کے حکم پر تمام سیکیورٹی، خدماتی، طبی، ٹرانسپورٹ اور خوراکی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کی گئیں۔ آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ ذمہ داران خود، منظم ٹیموں اور ضروری سامان کے ساتھ متاثرہ مقامات پر پہنچے۔
امریکی قبضے کے خاتمے کے بعد امارتِ اسلامی کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک پورے ملک میں پائیدار امن قائم کرنا اور امن کے دشمنوں، خصوصاً داعش کو ختم کرنا ہے۔ ماضی میں یہ شرپسند گروہ اکثر انسانی امداد کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے سے روکتا تھا۔ وہ راستے بند کرتے، امدادی قافلوں پر حملے کرتے اور امدادی وسائل لوٹ لیتے۔
لیکن آج امارتِ اسلامی کی حاکمیت اور مکمل امن کی برکت سے، ملک کے کونے کونے سے، حتیٰ کہ دُور دراز صوبوں سے، بغیر کسی رکاوٹ کے امداد متاثرہ عوام تک پہنچ رہی ہے۔ اگرچہ زلزلے کی وجہ سے بعض متاثرہ علاقوں میں رابطے منقطع ہوچکے تھے، تاہم امدادی ٹیمیں کوشاں رہیں کہ مکمل تحفظ کے ساتھ اور داعش کے خطرات سے بے نیاز، دور افتادہ علاقوں تک رسائی حاصل کریں۔
امن وامان برقرار رکھنے کے حوالے سے یہ نمایاں کامیابی امارتِ اسلامی کے سیکیورٹی دستوں کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اپنی قربانیوں سے ملک کو داعش کی دہشت گردانہ سازشوں سے پاک کر دیا۔
مشرقی افغانستان میں حالیہ سانحے کے انتظامی تجربے نے یہ واضح کیا کہ امارتِ اسلامی کی مساعی سے قائم پائیدار امن نہ صرف سکون اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے بلکہ بحران کے وقت مؤثر انسانی خدمات کی فراہمی کو بھی ممکن بناتا ہے۔ آج ملک کے اندر ہر قسم کی امداد بنا کسی دہشت و خوف کے ضرورت مندوں تک پہنچ رہی ہے، اور یہ خود اس نظام کی قوت و وقار کی جھلک ہے جس نے پورے ملک میں امن قائم کرنے میں کامیابی پائی ہے۔
امارتِ اسلامی کے مجاہدین کی ان قربانیوں اور مسلسل خدمات نے نہ صرف ہزاروں ہم وطنوں کی زندگیاں بچائیں بلکہ عوام کا حکومت پر اعتماد بھی بڑھ گیا اور امن کے ذریعے سکون اور ترقی میں ان کے کردار کو واضح طور پر ظاہر کر دیا۔ اس قدرتی آفت کے انتظامی امور میں امارت کی کامیاب کارکردگی ایک ذمہ دار اور مہربان حکمرانی کی مثال بن چکی ہے جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔




















































