اسلامی لشکر کی جنگی حکمت عملی:
اسلامی لشکر نے شیخین کے علاقے میں رات گزاری، فجر کے وقت یہیں سے احد کی طرف روانہ ہوا، صبح کی نماز احد کے قریب شوط کے علاقے میں ادا کی، نماز کے بعد احد پہنچے، احد کا پہاڑ پیچھے چھوڑا اور مدینہ کی طرف منہ کیا، اس سے کافروں کا لشکر ان کے اور مدینہ کے درمیان آ گیا۔ اسلامی لشکر نے فوجی حکمت کے مطابق ایک بہت اچھی جگہ منتخب کی، کیونکہ پیچھے اور دائیں جانب احد کا پہاڑ تھا۔
شمالی جانب ایک چھوٹی پہاڑی تھی، جو اس غزوہ کے بعد جبل الرماۃ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس پہاڑی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پچاس صحابہ کرام کو تعینات کیا تاکہ دشمن کے گھوڑوں کو پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ نہ کرنے دیں اور ان کا مقابلہ کریں۔ انہیں سخت تاکید کی کہ کسی صورت اپنی جگہ نہ چھوڑیں، فرمایا: "اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں، تب بھی تم اپنی جگہوں سے اس وقت تک نہ ہٹو جب تک میری طرف سے پیغام نہ آئے۔” یعنی شکست اور فتح دونوں صورتوں میں اپنی جگہ پر قائم رہنا۔ اس سے مسلمانوں کا شمالی رخ بھی محفوظ ہو گیا، نیز اسلامی لشکر کی جگہ کافروں کے لشکر سے نسبتاً بلند تھی۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صف بندی کی، دائیں جانب (میمنہ) منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور بائیں جانب (میسرہ) زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، جن کے نائب مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، اور لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا:
1. مہاجرین کی ٹولی، جن کا جھنڈا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو دیا۔
2. قبیلہ اوس کی ٹولی، جن کا جھنڈا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو دیا۔
3. قبیلہ خزرج کی ٹولی، جن کا جھنڈا خباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا۔
اس کے بعد لشکر سے فرمایا کہ میرے حکم کے بغیر جنگ شروع نہ کرنا، جب میں حکم دوں تب جنگ شروع کرنا۔
جہاد کی ترغیب:
صف بندی کے بعد، اسلامی لشکر کے دونوں کنارے محفوظ ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو کفار کے سامنے جہاد کی ترغیب دی، جنگ کے میدان میں صبر اور استقامت کی نصیحت کی۔ ایک طویل خطبہ میں صحابہ کرام کے حوصلے بلند کیے، استقامت اور ثبات کی تلقین کی۔ یہی نصیحتیں ہیں جو سپاہیوں کے حوصلے برقرار رکھتی ہیں، جنگ کے میدان میں ان کے پاؤں مضبوط کرتی ہیں، اور دشمن کے سامنے انہیں پہاڑ کی طرح ثابت قدم رکھتی ہیں۔
اسی اثناء میں اپنی تلوار نکالی اور فرمایا: "کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے؟”
ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ اس سے دشمن کو اس وقت تک مارا جائے جب تک یہ ٹیڑھی نہ ہو جائے۔
ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے لیتا ہوں اور اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر آپ ﷺ نے انہی کو دے دی۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ایک بہادر صحابی تھے، ان کے پاس ایک سرخ پٹی تھی، جب اسے سر پر باندھتے تو صحابہ سمجھ جاتے کہ اب موت تک لڑیں گے۔ جب تلوار لی تو سرخ پٹی باندھی اور صفوں کے درمیان نہایت ناز و نخوت سے چلے۔
رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا: "یہ چال ایسی ہے جسے اللہ تعالیٰ اس جگہ (دشمن سے مقابلہ کے وقت) کے سوا کسی اور وقت میں پسند نہیں کرتا۔”
*قریش کے لشکر کی تنظیم:*
قریش کا لشکر پہلے سے احد میں ڈیرہ ڈال چکا تھا، انہوں نے بھی اپنا لشکر منظم کیا۔ مجموعی کمانڈر ابو سفیان تھا جو لشکر کے مرکز میں تھا، دائیں جانب خالد بن ولید اور بائیں جانب عکرمہ بن ابی جہل کو مقرر کیا۔ پیادہ فوج کا کمانڈر صفوان بن امیہ، تیر اندازوں کا کمانڈر عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ مقرر ہوئے۔
جھنڈا بنو عبد الدار کے پاس تھا، بدر میں بھی انہی کے پاس تھا۔ ابو سفیان نے ان کے جذبہ کو ابھارنے کے لیے کچھ طعنے دیے کہ بدر کے دن بھی جھنڈا تمہارے پاس تھا اور ہم ہار گئے، یا تو اپنی بہادری دکھاؤ یا جھنڈا ہمیں دے دو۔ اس پر بنو عبد الدار غصے میں آ گئے اور سخت مزاحمت کا حلف اٹھایا، جو کہ ابو سفیان کا مقصد بھی تھا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ قریش نے بدر میں مسلمانوں کے لشکر کی تنظیم اور ترتیب سیکھ لی تھی، اسی طرح صف بندی کی اور ایک ہی قائد مقرر کیا۔ بدر میں ہم نے کہا تھا کہ نہ صف بندی تھی نہ متحد قیادت؛ بلکہ قیادت قریش کے سرداروں میں تقسیم تھی۔ لیکن اس بار قریش نے مسلمانوں کی لشکر کی تنظیم سے مکمل طور پر متاثر ہو کر بالکل ویسے ہی اپنا لشکر منظم کیا۔




















































