داعش محض ایک دہشت گرد تنظیم نہیں؛ بلکہ یہ ایک خونریز، تکفیری اور اسلام دشمن منصوبہ ہے، جس کے سب سے زیادہ شکار خود مسلمان بنے ہیں۔ جہاں جہاں داعش نے قدم رکھا، وہاں مساجد، مدارس اور بازار قتل و ہراس کے میدان بن گئے۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسی خطرناک تنظیم کس طرح پاکستان کی سرزمین پر ٹھکانہ بنانے، منظم ہونے اور اپنا آپریشنل نیٹ ورک قائم و فعال کرنے میں کامیاب ہو گئی؟
پاکستان کی خیبر ایجنسی میں داعش کے گیارہ ارکان کے مارے جانے کی خبر نے ایک بار پھر ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے؛ اور وہ یہ کہ پاکستان محض اس تنظیم کے لیے گزرگاہ نہیں، بلکہ اسے بطور رہائشی اور آپریشنل پناہ گاہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی جذباتی یا بے بنیاد الزام نہیں، بلکہ سیاسی حقائق، زمینی تحقیقات اور مسلسل سیکیورٹی رپورٹس کا نچوڑ ہے۔
اگر پاکستان کی حکومت واقعی داعش کی مخالف ہے تو پھر یہ سوالات تشنۂ جواب کیوں ہیں؟
داعش کو اس ملک کے قلب میں پناہ گاہیں کیسے میسر ہیں؟ اس تنظیم کے غیر ملکی عناصر بلوچستان سے خیبر ایجنسی تک کس طرح مکمل آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کرتے ہیں؟
اور اب تک کوئی فیصلہ کن، شفاف اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والا اقدام کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ داعش جیسی تکفیری تنظیموں کے بارے میں پاکستان کی پالیسی برسوں سے دوغلی، فریب پر مبنی اور مفاداتی رہی ہے۔ ایک طرف تشدد کے خلاف نعرے بلند کیے جاتے ہیں، اور دوسری طرف بعض نہایت خطرناک اور خونخوار گروہوں کے ساتھ مفاہمت، برداشت یا خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اسی مبہم اور دو رُخی پالیسی نے داعش کو مزید جری اور دلیر بنایا ہے۔
داعش کسی حمایتی ماحول کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ کوئی بھی تنظیم پناہ گاہ، تحفظ، نیٹ ورک اور خفیہ اداروں کی چشم پوشی کے بغیر دوام نہیں پا سکتی۔ اگر آج داعش پاکستان میں موجود ہے تو یہ یا تو حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے، یا پھر جرم کو بطور آلہ استعمال کرنے کی دانستہ پالیسی کا۔ اور یہ دونوں صورتیں پورے خطے کے لیے تباہ کن ہیں۔
داعش مسلمانوں کے قتل کا ایک آلہ ہے۔ اس تنظیم کی ہر کارروائی؛ چاہے وہ مسجد میں ہو، مدرسے میں یا بازار میں، مسلمانوں ہی کو نشانہ بناتی ہے۔ اگر پاکستان نے اس گروہ کو جگہ دی ہے تو اس نے عملاً مسلمانوں کے قتل کے لیے زمین ہموار کی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی غلطی نہیں؛ بلکہ جرم کے ساتھ بالواسطہ تعاون ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں برسوں سے ’’بلی اور چوہے‘‘ کے کھیل کے الزامات کی زد میں رہی ہیں، اور داعش کو اس کی نمایاں مثال قرار دیا جاتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ دہشت اور خونریزی کو سیاست کا ہتھیار بناتے ہیں، ایک دن خود بھی اسی ہتھیار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر پاکستان واقعی خود کو بے قصور سمجھتا ہے تو اسے تین واضح اقدامات اٹھانے ہوں گے:
۱۔ اپنی سرزمین پر داعش کی موجودگی کا علانیہ اعتراف کرے؛
۲۔ اس تنظیم کے تمام ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو فیصلہ کن اور مکمل طور پر ختم کرے؛
۳۔ تکفیری گروہوں کے ساتھ ہر قسم کی دوغلی پالیسی اور خفیہ کھیل ہمیشہ کے لیے بند کرے۔
جب تک یہ اقدامات عملی شکل اختیار نہیں کرتے، کوئی بھی اس بات پر یقین نہیں کرے گا کہ پاکستان واقعی داعش کا مخالف ہے اور اس کے ساتھ خفیہ تعاون نہیں رکھتا۔
ماضی میں افغانستان، عراق، شام اور دیگر ممالک داعش کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اگر آج پاکستان اس تنظیم کو جگہ دیتا ہے تو کل خود بھی دھماکوں کا میدان بن سکتا ہے۔ دہشت اور تکفیر وفادار مہمان نہیں ہوتیں؛ جہاں پناہ پاتی ہیں، میزبان کو بھی جلا ڈالتی ہیں۔ آخر میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ داعش اسلام کی دشمن ہے، اور جو حکومت اسے پناہ دے، وہ امن اور انسانیت کی دشمن سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کو یا تو خلوصِ نیت سے داعش کے خلاف لڑنا ہوگا، یا پھر اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی جو اس نے اپنی سرزمین پر جگہ دے کر خود پیدا کیے ہیں۔ یہاں کسی درمیانی راستے کی گنجائش نہیں۔




















































