مظلوم افغانوں کی چیخ و پکار آسمانوں تک پہنچ رہی ہے، مگر دنیا والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پاکستانی عسکری رجیم کے طیاروں نے فروری کے اواخر سے لے کر آج تک افغانستان کے قلب و سینے میں خنجر گھونپ رکھا ہے۔ کابل، قندھار، ننگرہار، خوست، پکتیا، پکتیکا، کنڑ، نورستان اور دیگر علاقوں میں لوگ رمضان المبارک کے ایام میں غم و اندوہ کے سائے تلے بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی ’’آپریشنز‘‘ نہیں، بلکہ بلکہ یہ عاصم منیر کے حلقے کی اقتدار کی اندھی اور سفاک بھوک ہے، جو مظلوم افغانوں کے خون سے سیر کی جا رہی ہے۔
کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے مرکز کا سب سے دل دہلا دینے والا منظر:
ذرا تصور کیجیے!
ایک ہسپتال، جہاں ایک نشے کا عادی شخص اپنی زندگی کی آخری امید لے کر اس مہلک بیماری سے نجات کی خواہش میں آیا ہو۔ وہاں بستر پر پڑے وہ لوگ، جن کی آنکھوں میں ابھی بھی زندگی کی ایک کرن باقی تھی، جن کے گھر والے ان کی صحت یابی کے لیے خدا کے حضور دعائیں کر رہے تھے کہ اچانک آسمان سے موت نازل ہو گئی۔ پاکستانی طیاروں نے کابل میں اسی علاج گاہ کو نشانہ بنایا۔
امارتِ اسلامیہ کے ترجمان کے مطابق، اس حملے میں تقریباً چار سو کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں اکثریت انہی غریب، کمزور اور نشے کی زنجیروں میں جکڑے انسانوں کی تھی، جو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ کوئی فوجی مرکز نہیں تھا، بلکہ امیدوں کا آخری سہارا تھا۔
یہاں تک کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ اسپتال، مریض اور طبی عملہ محفوظ ہیں، مگر پاکستان نے انتہائی بے باکی کے ساتھ یہ سب کچھ پامال کر دیا۔ ایک نشے کا عادی شخص، جو اپنے اہلِ خانہ کو یقین دلا رہا تھا کہ ان شاء اللہ میں ٹھیک ہو جاؤں گا، اب ایک بے جان لاشہ بن چکا ہے۔ ایک باپ، جو اپنے بچوں کو واپسی کی امید دیتا تھا، آج اس کی جلی ہوئی لاش کے ٹکڑے جمع کیے جا رہے ہیں۔ یہ خون محض خون نہیں، یہ افغان باپ و ماں کی امیدوں اور آرمانوں کا خون ہے۔
صرف کابل کے علاج گاہ پر وحشیانہ حملہ نہیں ہوا، بلکہ مارچ کی پہلی ہفتے تک خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری پاکستان کی بزدل فوج کی بمباری اور توپ خانے کے حملوں میں شہید یا زخمی ہوئے، ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، درجنوں گھر ملبے میں تبدیل ہوئے، اور متعدد دیگر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ عام سہولیات، مساجد، گاؤں اور شہر سب نشانہ بنائے گئے۔ یہ جنگ نہیں، یہ ظلم اور بربریت کی انتہائی حد ہے۔
پاکستان جو اپنے ملک کے جغرافیے میں TTP کو کنٹرول نہیں کر سکتا، جو دن دہاڑے وہاں چیک پوسٹیں قائم کرتے ہیں اور بڑے شہروں کے مرکزوں تک پہنچ جاتے ہیں، اس کے جواب میں اپنی نااہلی کا غصہ مظلوم افغان عوام پر نکالتا ہے۔ پگڑیو والے طالبان نے فرضی سرحد کے ساتھ خودمختاری کا مطالبہ کیا، تو فوجی حلقوں نے غضب للحق کا ڈرامہ شروع کر دیا۔ یہ اندھے حملے دہشت گردی پھیلانے کے لیے ہیں، نہ کہ امن و سکون قائم کرنے کے لیے۔
جیٹ طیاروں سے شہریوں اور مریضوں کو نشانہ بنانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی ہے، یہ ایک جنگی جرم اور انسانی المیہ ہے جو پاکستان کے عسکری رجیم میں عروج پر پہنچ چکا ہے، اور تاریخ اسے کبھی نہیں بھولے گی۔ اگر عالمی برادری خاموش ہے، پڑوسیوں نے سکوت اختیار کر رکھا ہے، اور اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غفلت کی نیند سو رہی ہیں، تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ افغان خون میں صبر اور انتقام دونوں پوشیدہ ہیں۔ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہ قرض کئی گنا بڑھا کر لیا جائے گا۔




















































