جنگ اور قبضے کے دہکتے دنوں میں، جب صہیونی دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ سب کچھ اس کے مکمل کنٹرول، جاسوسوں اور ڈرون طیاروں کی سخت نگرانی میں ہے، غزہ کے قلب میں ایک دلیر مجاہد سانس لے رہا تھا۔ قابض اسے دیکھ نہیں پاتے تھے، مگر اپنے وجود پر اس کے حملوں کی ضرب ضرور محسوس کرتے تھے۔ عزالدین حداد، جو “ابوصہیب” کے نام سے معروف تھے، وہ شخصیت تھے جس نے دشمن کو مجبور کیا کہ وہ اس کا نام “قسام کا سایہ” رکھ دے۔ یہ طنز نہیں بلکہ اس خوف اور بے بسی کا اظہار تھا جو انہیں ایسے نہ دکھائی دینے والے کمانڈر کے سامنے محسوس ہوتی تھی۔
لیکن جمعہ پندرہ مئی کی شب، یہ سایہ آسمان کی طرف اٹھ گیا اور اپنی روح اپنے خالق کے سپرد کر دی، تاکہ ان شہداء کی صف میں شامل ہو جائے جنہوں نے کبھی ذلت قبول نہیں کی۔ عزالدین حداد، غزہ کے وہ فرزند، جو 1970ء میں اس سرزمین کے ایک غریب علاقے میں پیدا ہوئے، پوری زندگی خاموشی اور گمنامی میں گزارتے رہے۔ وہ ان کمانڈروں میں سے تھے جو نہ انٹرویوز میں دکھائی دیتے تھے اور نہ عوامی تقاریب میں نظر آتے تھے۔ ان کی پوری جدوجہد جنگ کے دہکتے میدان کے پسِ پردہ جاری رہی۔ وہ مزاحمت کی نہایت حساس عسکری یونٹ کے سربراہ تھے۔ شہید عزالدین قسام بریگیڈز کے تحت “غزہ بریگیڈ” کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
غزہ شہر کے قلب میں عزالدین کی موجودگی، شہری جنگ، زیرِ زمین سرنگوں اور پیچیدہ سکیورٹی کارروائیوں کے انتظام میں ان کی مہارت نے انہیں صہیونی رجیم کے لیے مستقل خوف کی علامت بنا دیا تھا۔ قابض رجیم، جس کے لیے جنگ بندی توڑنا ایک پرانی اور دہرائی جانے والی عادت بن چکی ہے، نے ایک بار پھر غزہ شہر پر فضائی حملہ کر کے اپنی وعدہ خلافی کی روایت دہرائی۔ یہ حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک جدید ترین فوج کی ناکامی کا اعتراف تھا، جو برسوں سے ایسے کمانڈر کو قتل کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر کبھی اسے پا نہ سکی۔ صہیونی میڈیا کئی مرتبہ اعتراف کر چکا تھا کہ حداد متعدد قاتلانہ حملوں سے محفوظ نکل آئے تھے۔ لیکن اس بار بم ان کے گھر پر برسائے گئے، جہاں وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ سکون سے موجود تھے۔ وہ رجیم جو میدانِ جنگ میں براہِ راست مقابلے کی ہمت نہیں رکھتی، ہمیشہ گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بناتی ہے۔
7 اکتوبر 2023ء کے “طوفان الاقصیٰ” کے عظیم آپریشن کے بعد عزالدین حداد کا نام زیادہ نمایاں ہوا، مگر خودنمائی کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے مجاہدین کے درمیان رابطے اور اعلیٰ کمانڈروں کی شہادت کے بعد عسکری قیادت کے ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ دشمن انہیں حماس کے اہم عسکری منصوبہ سازوں میں شمار کرتا تھا، ایسے شخص کے طور پر جس نے شدید بمباری کے باوجود بھی کمانڈ کے پیچیدہ نظام کو برقرار رکھا۔
انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے اپنے دو جوان بیٹوں، صہیب اور مؤمن، کو بھی اسی مقدس جدوجہد کی راہ میں قربان کر دیا تھا۔ ایسا باپ جس نے اپنے جگر گوشوں کو قدس کی آزادی کے لیے یکے بعد دیگرے قربان کیا، اور آخرکار خود بھی اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ شہداء کے قافلے میں شامل ہو گیا۔ حماس اور فلسطینی جرأت و استقامت کی تحسین دراصل ان انسانوں کی تحسین ہے جو محدود وسائل کے باوجود دنیا کی جدید ترین جنگی مشین کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
عزالدین حداد ان کمانڈروں میں سے تھے جن کا نام شاید میڈیا میں بہت کم لیا جائے، مگر مزاحمت کی ہر انچ زمین پر ان کی غیرت کے نقوش ثبت ہیں۔ وہ کوئی “سایہ” نہیں تھے، بلکہ ایک ایسی حقیقت تھے جس کا انکار دشمن کرنا چاہتا تھا۔ اور آج، اس عظیم کمانڈر کی شہادت کے ساتھ کوئی باب بند نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی راہ کھلی ہے۔ کیونکہ شہداء کا خون اس راستے کا روشن چراغ ہے جس کی منزل قدس کی آزادی ہے۔ غزہ کا آسمان آج ایک نئے ستارے سے جگمگا رہا ہے، اس ستارے کا نام عزالدین حداد ہے۔
اس مردِ مجاہد کی شہادت نے ایک بار پھر اس رجیم کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا جس نے نہ کبھی کسی معاہدے کی پاسداری کی اور نہ جنگ بندی کا احترام کیا۔ صہیونی قابضین کی تاریخ معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہے۔ وہی سیاہ روایت جسے اس بار بھی اس نے ایک کمانڈر کو اس کے گھر میں، اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ نشانہ بنا کر دہرایا۔ وہ رجیم جو میدانِ جنگ میں فلسطینی مجاہدین کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ہمیشہ بے دفاع گھروں، عوامی مقامات اور گنجان آبادیوں کو اپنے بموں کا ہدف بناتی ہے۔
عزالدین حداد کی اپنی اہلیہ اور بیٹی سمیت شہادت کوئی ذہین عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ کھلا جنگی جرم اور اس دشمن کی بے بسی کی آخری حد تھی جو انہیں کبھی زندہ گرفتار نہ کر سکا۔ مگر وہ حقیقت جسے صہیونی رجیم اپنی اندھی ترتیبات میں نظر انداز کر دیتی ہے، یہ ہے کہ کمانڈروں کی شہادت مزاحمت کے خاتمے کا نہیں بلکہ اس میں نئی روح پھونکنے کا سبب بنتی ہے۔ عزالدین حداد رخصت ہو گئے، مگر وہ راستہ جسے انہوں نے اپنے دو شہید بیٹوں، صہیب اور مؤمن، کے خون سے اور پھر اپنے پورے خاندان کی قربانی سے روشن کیا، آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور مضبوط ہے۔
حماس کی نئی نسل انہی مردانِ حر کے مکتب میں پروان چڑھی ہے، ان مردانِ حق کے مکتب میں جنہوں نے سائے میں رہ کر جنگ لڑی اور فخر کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا۔ غزہ آج غمزدہ ضرور ہے، مگر جھکا نہیں۔ قسام کا سایہ آسمان کی بلندیوں میں جا بسا، لیکن اس کی یاد ہر سرنگ، ہر راستے اور ہر اس مورچے میں زندہ رہے گی جہاں سے مزاحمت کی خوشبو آتی ہے۔


















































