منگل (18 ذوالقعدہ 1447ھ مطابق 5 مئی 2026ء ) کو خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں معروف عالمِ دین شیخ محمد ادریس داعشی خوارج کے ایک بزدلانہ حملے میں شہید ہوگئے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ شیخ محمد ادریس پاکستان کے معروف شیوخ میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ہزاروں شاگرد تھے۔ داعشی خوارج نے انہیں شہید کر کے ایک بار پھر مسلمانوں کے سامنے اپنا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا کہ وہ بت پرستوں اور ان کے حواریوں کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ اہلِ اسلام کے قتل پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں المرصاد اپنی سابقہ رپورٹس اور ذرائع سے حاصل ہونے والی نئی معلومات کی بنیاد پر شہید شیخ صاحب اور دیگر علماء کی شہادت نیز ان کے قاتلوں کے بارے میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان میں علمائے دین کی شہادت کوئی نئی بات نہیں۔ سینکڑوں علمائے دین کو خود پاکستانی فوجی رجیم نے شہید یا قید کیا ہے، اور جو لوگ اس کے شکنجے سے بچ گئے، انہیں گزشتہ چند برسوں سے داعشی عناصر مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں داعشیوں کے ہاتھوں علمائے دین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ 2023ء کے ابتدائی مہینوں میں اس وقت تیز ہوگیا جب افغانستان میں ان کے ٹھکانے ختم کیے گئے اور وہ اپنی قیادت کے حکم پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا منتقل ہوگئے۔ علماء کے قتل ایک منظم منصوبے کے تحت کیے جا رہے تھے، جس کے بارے میں المرصاد نے اگست 2023ء میں بھی ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
اس وقت المرصاد نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ داعشی عناصر افغانستان، پاکستان اور ایران میں بعض اسلامی سیاسی تحریکوں اور علمائے دین کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے تینوں ممالک میں مختلف افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان افغانستان میں اس منصوبے کے عملی نگران، داعش خراسان کے نائب گورنر ڈاکٹر عمر حیدر، اور اس کی ٹیم کے دیگر ارکان کو کارروائیوں میں ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ساتھ ہی اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستانی رجیم کو بھی داعش کے اس منصوبے سے آگاہ کیا اور “خان” نامی اس داعشی کی معلومات بھی فراہم کیں جسے پاکستان میں اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی رجیم نے خان کو گرفتار تو کیا، لیکن مختصر حراست کے بعد رہا کردیا۔ بعد ازاں اگست 2023ء میں جمعیت علمائے اسلام کے باجوڑ جلسے میں ہونے والے خونریز دھماکے، جس میں تقریباً 63 افراد شہید اور 200 زخمی ہوئے، کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
المرصاد کی معلومات کے مطابق صرف 2023ء میں باجوڑ میں درج ذیل نمایاں علمائے دین کو داعشیوں نے شہید کیا:
1. مولانا صلاح الدین، جمعیت علمائے اسلام کے رکن۔ تاریخِ شہادت: 7 ستمبر 2023ء
2. مولانا الطاف حسین، جمعیت کے رکن اور عنایت کلی بازار کے تاجر۔ تاریخِ شہادت: 7 ستمبر 2023ء
3. مولانا نور محمد، جمعیت علمائے اسلام کے رکن اور قالین فروش۔ تاریخِ شہادت: 22 جون 2023ء
4. معاذ خان، جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما اور سابق طالبان کمانڈر مفتی بشیر کے صاحبزادے (مفتی بشیر بھی گزشتہ سال رمضان میں داعشیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے)۔ تاریخِ شہادت: 18 اپریل 2023ء
5. قاری اسماعیل، سلفی عالم۔ تاریخِ شہادت: 29 اکتوبر 2023ء
6. قاری زین العابدین، مسجد کے امام۔ تاریخِ شہادت: 27 اکتوبر 2023ء
7. مولانا طلا محمد، سلفی عالم اور مدرس۔ تاریخِ شہادت: 4 اکتوبر 2023ء
ذرائع نے المرصاد کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا، خصوصاً باجوڑ میں علماء کے قتل کے لیے ایک مخصوص ٹیم سرگرم تھی، جس میں ابو بکر باجوڑی (عمران)، ادریس (یوسف) اور ملا عمران شامل تھے۔

ابو بکر اور ادریس گزشتہ فروری میں نوشہرہ کے حکیم آباد میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اس وقت مارے گئے جب اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی ایک مسجد پر منصوبہ بند حملے میں ان کی شمولیت سامنے آئی، جس میں 31 افراد ہلاک اور 160 زخمی ہوئے تھے۔
پاکستانی خفیہ ادارے اس گروہ کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہیں کر رہے تھے جب تک یہ صرف علمائے دین کو نشانہ بنا رہا تھا، بلکہ ایک طرح سے یہ گروہ انہی اداروں کے زیرِ نگرانی کام کر رہا تھا۔ لیکن جب اسی چند رکنی گروہ نے دارالحکومت میں خونریز حملہ کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ (اس بارے میں المرصاد کا اداریہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔)
داعش کے فتنہ پرور عناصر نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بعض علمائے دین کو شہید کیا، مگر ان کی ذمہ داری باضابطہ طور پر قبول نہیں کی۔ افغانستان میں شیخ مجیب الرحمن انصاری، شیخ سردار ولی اور دیگر علماء اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ پاکستان میں معروف دینی مدرسے کے مہتمم شیخ حامد الحق کو بھی جمعہ کی نماز کے دوران ایک حملے میں 6 دیگر افراد کے ساتھ شہید کیا گیا، مگر داعش نے اس کی ذمہ داری بھی رسمی طور پر قبول نہیں کی۔
المرصاد کو حالیہ ذرائع نے بتایا ہے کہ شیخ حامد الحق پر حملہ “ابو جہاد الشامی” نامی ایک داعشی نے کیا تھا، جس نے بلوچستان کے کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی۔ ذرائع نے اس شخص کی تصویر بھی المرصاد کے ساتھ شیئر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق علمائے دین کو نشانہ بنانا اب بھی داعشیوں کی ترجیحات میں شامل ہے، اور وہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت بعض دیگر علماء اور سیاست دانوں کو بھی قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ان افراد کے نام اس فہرست میں موجود تھے جو 10 جولائی 2024ء کو داعش کے ایک اہم نیٹ ورک سے حاصل ہوئی تھی، جس میں پاکستان میں داعش کے مطلوب اہداف کی نشاندہی کی گئی تھی۔ (اس حوالے سے المرصاد کی خبر یہاں دیکھیں۔)
شیخ محمد ادریس کے قاتل:
اب یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے کہ داعشی خوارج نے اپنے مراکز اور افراد کو ڈیورنڈ لائن کے اُس پار منتقل کردیا ہے۔ گزشتہ فروری میں نوشہرہ میں ادریس اور ابو بکر کی ہلاکت، مارچ میں پشاور میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں زلمی بدخشی (سلمان) کا قتل، اور اس سے قبل اگست 2025ء میں خیبر کی سورغر علاقے میں عبدالمالک نامی ایک معروف داعشی کی ہلاکت، یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان تمام افراد کا افغانستان اور پاکستان دونوں میں تخریبی سرگرمیوں میں کردار رہا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں “صدیقیار” اور “حذیفہ” نامی دو داعشی کمانڈر سرگرم ہیں۔ یہ دونوں عبدالمالک کے قریبی ساتھی اور علاقے میں داعش خراسان کے اہم سہولت کار سمجھے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قوی امکان ہے کہ شیخ محمد ادریس کی شہادت بھی انہی دونوں کمانڈروں سے منسلک افراد نے انجام دی ہو


















































