تاریخ کے اوراق ہمیشہ اُن بہادروں کے خون سے رنگین رہے ہیں جنہوں نے اپنے وطن، اپنے عقیدے اور اپنی عزت و ناموس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ فلسطین کی پاک سرزمین پر حماس کی اسلامی تحریک کی عسکری قیادت کے جانبازوں کی شہادتیں اسی درخشاں تاریخ کی زندہ مثالیں ہیں۔ قائدین سے لے کر کارکنوں تک، غزہ کے شمالی محاذ کے محافظ اور مدبر عزالدین حداد تقبّلہ اللہ تعالیٰ صرف پہلے کمانڈر نہیں جو جامِ شہادت نوش کر گئے، بلکہ اُن سے پہلے بھی اُن کے رفقاء یکے بعد دیگرے اس عظیم مرتبے پر فائز ہو چکے ہیں۔
ان مردانِ حق نے ایسی بے مثال قربانیاں پیش کیں جو مسلم امت کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ ہم دل کی گہرائیوں سے اُنہیں شہادت کی مبارکباد پیش کرتے ہیں؛ انہوں نے اپنے عزم و ہمت سے دنیا کو دکھا دیا کہ ایمان اور ارادہ ہر مادی طاقت سے برتر ہوتے ہیں۔ ان کے پاک خون کا ہر قطرہ آزادی کی صبح کا پیامبر ہے، اور ان کی یاد آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت کا روشن چراغ بن کر رہے گی۔
ان بہادروں کے مقابلے میں میدانِ جنگ میں صہیونی غاصب اور جارح رجیم کی شکست نے اسے اس حد تک بے بس کر دیا کہ اس نے غزہ میں نہتے شہریوں، عورتوں اور بچوں پر اندھا دھند بمباری شروع کر دی۔ اس مجرم رجیم نے جنگ کے تمام بین الاقوامی اور انسانی اصول پامال کر دیے ہیں۔ ہسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور پناہ گزین کیمپوں پر حملے اس کی سفاکیت اور ناکامی کی کھلی علامت ہیں۔ یہ کوئی جنگ نہیں بلکہ ایک منظم نسل کشی ہے، جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ داغ کے طور پر ثبت رہے گی۔ ہم ان بے رحمانہ اور انسانیت سوز حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ہولناک ظلم کے مقابلے میں عالمِ اسلام کے اکثر حکمران اور عوام ایک مصلحت آمیز خاموشی اور کمزوری کا شکار ہیں، جو باعثِ ندامت ہے۔ عزالدین حداد تقبّلہ اللہ تعالیٰ کے لہو کا قرض ادا کرنا پوری امتِ مسلمہ کی ایک ناگزیر ذمہ داری ہے؛ آج ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود ہونے کے باوجود ذلت اور بے بسی کا شکار ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں نسلی، لسانی، علاقائی اور بے فائدہ فقہی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امتِ واحدہ کے تصور کو فراموش کر دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں مشترکہ دشمن کے مقابلے اور اپنے مقدسات کے تحفظ کے لیے صرف کریں، وہ باہمی نزاعات میں اپنی قوت ضائع کر رہے ہیں۔ یہی امت کی کمزوری کا سب سے بڑا پہلو ہے، جسے ہمیشہ اسلامی نظاموں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
ایسے مایوس کن حالات میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی قیادت امتِ مسلمہ کے لیے امید کی کرن اور دردِ دل کا مظہر بن کر ابھری ہے۔ امارتِ اسلامیہ نے نہ صرف زبانی طور پر مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی ہے بلکہ عملی میدان میں بھی یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے مالی اور جانی قربانی دینے کو تیار ہے۔
امارتِ اسلامیہ کی قیادت سیاسی تدبر، حکمت عملی اور عملی بصیرت کے ذریعے امتِ مسلمہ کی اس طوفان زدہ کشتی کو ساحلِ نجات تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی حکمتِ عملی درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
۱۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد کو فروغ دیں۔
۲۔ جذباتی ردِعمل سے گریز کرتے ہوئے حالات کے مطابق منظم اور حکیمانہ اقدامات کریں۔
۳۔ امت کے سیاسی اور عسکری استقلال کو دوبارہ بحال کریں۔
اسی مضبوط اور دانشمندانہ حکمت کے ذریعے امتِ مسلمہ حقیقی نجات حاصل کر سکتی ہے اور عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ پا سکتی ہے۔



















































