اگرچہ آج داعشی خوارج اپنے آپ کو اسلامی اقدار کے محافظ اور علمبردار ظاہر کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ استعماری ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سائے تلے سرگرمِ عمل ہیں۔ شیخ ادریس صاحب کا قتل ایک بار پھر داعش کے مکروہ اور گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کر گیا اور یہ واضح کر گیا کہ یہ گروہ مکمل طور پر بیرونی خفیہ اداروں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ اس مرتبہ بھی پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے سیاہ اور خونریز ماضی کے مطابق داعشی خوارج کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا اور امتِ مسلمہ کے ایک مخلص عالمِ دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سچے پیروکار کو شہید کر دیا۔
پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے قیام کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک، کھلے اور خفیہ دونوں انداز میں علمائے امت کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ شیخ ادریس صاحب امتِ مسلمہ کے درمیان ایک ممتاز، باوقار اور قابلِ اعتماد عالمِ دین تھے، جنہیں علم، دعوت اور اصلاح کے میدان میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ دشمنانِ اسلام ہمیشہ سے یہ کوشش کرتے آئے ہیں کہ راہِ حق کے میناروں، یعنی علمائے دین اور مربیین کو نشانہ بنایا جائے تاکہ مسلمانوں کو ان کے دین، تاریخ اور اسلامی تشخص سے دور رکھا جا سکے اور اپنا استعماری اثر و رسوخ برقرار رکھا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے پاکستانی فوجی رجیم نے ایک بار پھر داعشی خوارج کو ایک آلۂ قتل کے طور پر استعمال کیا۔
اگرچہ شیخ ادریس صاحب کے قتل کی ذمہ داری داعشی خوارج نے قبول کی، لیکن اس واقعے کے پیچھے پاکستانی خفیہ اداروں کا واضح اور براہِ راست کردار دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم ابتدا ہی سے اس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی کہ خطے میں برطانوی استعمار کے مفادات کو محفوظ اور نافذ رکھا جا سکے۔ برطانیہ جب شیروں کی سرزمین افغانستان میں شکست اور ناکامی سے دوچار ہوا، تو اس نے اپنے استعماری عزائم کی بقا کے لیے پاکستان کو ایک “اسلامی ریاست” کے نام پر ہندوستان سے الگ کیا، لیکن اس ظاہری نام کے پسِ پردہ گہرے سیاسی اور استعماری مقاصد کارفرما تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان میں اسلامی نظام قائم ہو اور مغربی قوانین اور استعماری پالیسیوں پر سوال اٹھائے جائیں۔
اسلامی نظام کو کمزور کرنے کے لیے اس رجیم نے مختلف بہانے تراشے اور شیخ ادریس صاحب کے قتل کو ڈیورنڈ کی فرضی لکیر کے علاقوں سے جوڑا، تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ گویا افغانستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ اسی طرح یہ کوشش بھی کی کہ علماء کے قتل کے خلاف امتِ مسلمہ کے علماء کے غصے کو افغانستان کے خلاف بھڑکایا جائے اور انہیں خاموش رکھا جائے، تاکہ اسلامی نظام کو کمزور اور ختم کرنے کے لیے ماحول ہموار کیا جا سکے۔ لیکن یہ خواہش وہ اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے، کیونکہ آج امتِ مسلمہ پہلے سے کہیں زیادہ بیدار اور باشعور ہو چکی ہے اور اسلامی نظام کے ساتھ اپنے خون سے وفاداری نبھا رہی ہے۔
آخر میں علمائے امت کے لیے پیغام یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستانی فوجی رجیم اور داعشی خوارج نے اسلام کو نقصان پہنچایا ہو۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے متعدد علماء کو شہید کیا ہے۔ شیخ رحیم اللہ حقانی اور کئی دیگر علماء، پاکستان کی ہدایات پر اور اسی فتنے پرور اور طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ گروہ کے ہاتھوں شہید کیے گئے ہیں۔ نہ پاکستانی فوجی رجیم اسلامی ہے اور نہ ہی داعشی خوارج امتِ مسلمہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں، بلکہ دونوں کو خطے میں اسلام دشمن قوتوں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔



















































