ہفتہ, مارچ 7, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!

    گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!

    گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

پاکستان کی دوغلی سیکیورٹی پالیسی!

ڈاکٹر اجمل کاکڑ

پاکستان کی دوغلی سیکیورٹی پالیسی!
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صفِ اوّل میں قربانی دینے والا ظاہر کرتا ہے، لیکن جمع کیے گیے اعداد وشمار اور شواہد اس دعوے کے برخلاف ایک متضاد، پیچیدہ اور تشویشناک حقیقت پیش کرتے ہیں۔ داعش خراسان شاخ (ISIS-K) کی سرگرمیاں، خاص طور پر افغانستان سے اس گروہ کی شکست اور پسپائی کے بعد اور پاکستان میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں بلکہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں کی دوغلی نوعیت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔

داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری، جو پاکستانی فوج کی جانب سے امریکہ کے ساتھ نئے سیکیورٹی مفاہمتوں کے اعلان کے ساتھ ہوئی، ان شبہات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان اب بھی ’’منتخب دہشت گردی کے خلاف پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے۔

اس جیسی دیگر تحاریر

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

"غضب للحق” نامی فلم!

پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

یہ صورتحال پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد زیادہ تر نعروں کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اصل توجہ تجارتی نوعیت کی سلامتی، حکمت عملی کے تحت دباؤ ڈالنے اور عالمی نظروں میں اپنے آپ کو درست ثابت کرنے پر مرکوز ہے۔ پاکستان میں داعش خراسان کی بڑھتی موجودگی، ان کے خفیہ ٹھکانوں کا وجود اور وقتاً فوقتاً کیے جانے والے سیاسی اعلانات، سب واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ حلقے اب بھی ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ دہشت گرد کی سوچ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے۔

ان تمام پیچیدہ حقائق کے پیش نظر، عالمی برادری اور خطّے کے ممالک کو بھی افغان حکومت کی طرح پاکستان کی دوغلی سیکیورٹی پالیسیوں کے خلاف ایک واضح، غیرجانبدار اور اصولی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب تک دہشت گردی کے خلاف جدوجہد حقیقی، شفاف اور غیر منتخب نہیں ہوگی، خطہ ہمیشہ یونہی عدم تحفظ، مداخلت اور خونریزی کا شکار رہے گا۔

داعش خراسان (ISIS-K) ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۵ء کے درمیان خطے میں باقاعدہ طور پر ظاہر ہوئی اور خود کو داعش کے مرکزی ڈھانچے (جو عراق اور شام میں فعال تھا) کی ایک علاقائی شاخ کے طور پر متعارف کرایا۔ اس گروہ کے اثر و رسوخ اور سرگرمیوں کا دائرہ افغانستان، پاکستان، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بعض حصوں تک پھیلا، اور بہت جلد اس نے انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور پروپیگنڈے کے ذریعے علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے۔

داعش خراسان شاخ نے ایک سخت گیر، فرقہ پرست اور پرتشدد نظریہ اپنایا، جس کا مقصد مذہبی اور نسلی اختلافات کو گہرا کرنا، عام مسلمانوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلانا اور دیگر جہادی تحریکوں کو غیر معتبر بنانا تھا۔ اس گروہ نے عام شہریوں، مذہبی مقامات، مذہبی اقلیتوں اور عوامی اداروں کے خلاف مہلک حملے کیے، جن میں ہزاروں بے گناہ افراد اپنی جانوں سے محروم ہوئے۔

امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISIS-K) افغانستان کے لیے سب سے بڑا داخلی سلامتی خطرہ بن گئی۔ یہ گروہ، جس نے پہلے ہی عام لوگوں، مذہبی اقلیتوں اور بنیادی اقدار کے خلاف شدید حملے کیے تھے، نے نئے نظام کے خلاف اپنے اقدامات کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن امارتِ اسلامیہ نے وقت ضائع کیے بغیر، اس گروہ کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر اور عسکری کارروائیاں شروع کر دیں۔

ان وسیع کارروائیوں کے نتائج قابلِ ذکر رہے:
۱: داعش خراسان کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں کو گرفتار یا ہلاک کرنا۔
۲: بھرتی، تربیت اور لاجسٹک نیٹ ورکس کا خاتمہ۔
۳: مالی وسائل، معاونین اور بیرونی تعلقات کا کٹ جانا۔
۴: پروپیگنڈا اور میڈیا کے ڈھانچے کا تباہ ہونا، جو گروہ کے اثر و نفوذ کے لیے کام آتا تھا۔
۵: گروہ کے اندر مورال کی کمزوری اور جنگجوؤں کا فرار یا ہتھیار ڈال دینا۔

ان اقدامات کی بدولت، نہ صرف داعش خراسان نے اپنی ہم آہنگی اور حملے کرنے کی صلاحیت کھو دی، بلکہ اس کے تنظیمی ڈھانچے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی تصدیق شدہ ہے، جو کہتے ہیں کہ داعش خراسان اب ایک منظم اور معتبر باغی قوت نہیں رہی اور صرف انفرادی یا کمزور حملوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

داعش خراسان شکست کے بعد اس کے عناصر کا پاکستان کی طرف منتقل ہونا:
افغانستان میں شدید سیکیورٹی آپریشنز کے بعد، جنہوں نے داعش خراسان کو زبردست دھچکے پہنچائے، ایک اہم سوال یہ پیدا ہوا: اس گروہ کے باقی ماندہ جنگجو، رہنما اور نیٹ ورکس کہاں گئے؟ متعدد علاقائی سیکیورٹی رپورٹس، تحقیقات اور شواہد کے مطابق، پاکستان داعش خراسان کے باقی عناصر کا مرکزی ٹھکانہ بن گیا۔ یہ منتقلی محض ایک اتفاقی اقدام نہیں تھی، بلکہ ایک منظم، آسان بنایا ہوا اور ممکنہ طور پر اسٹریٹجک تبادلہ تھا۔

اہم نکات یہ حقیقت واضح کرتے ہیں:
۱: داعش کے ارکان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور حتیٰ کہ پنجاب کے بعض شہروں میں منتقل کیا گیا۔
۲: وہاں انہیں محفوظ ٹھکانے، طبی سہولیات، دستاویزات اور رابطے کے ذرائع فراہم کیے گئے۔
۳: آمدورفت، سرحد پار جانے اور بھرتی و تربیت کے اسباب فراہم کیے گئے۔
۴: ان کی دوبارہ تنظیم، تربیت اور وسعت کے لیے تیز رفتار اقدامات کیے گئے۔

ایسے حالات میں یہ سرگرمیاں بغیر حکومتی چشم پوشی، اسٹریٹجک مفاہمت یا بالواسطہ حمایت کے ممکن نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے یہ خدشہ مزید مضبوط ہوا کہ پاکستانی انتظامیہ یا تو داعش خراسان کے لیے اسٹریٹجک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے یا عملی طور پر اس کی حمایت کرتی ہے، تاکہ اس گروہ کو اپنے علاقائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا داعش کے ساتھ دوغلا رویہ:
پاکستان کے فوجی اور خفیہ ادارے طویل عرصے سے ایک اہم الزام کا سامنا کررہے ہیں کہ: وہ مسلح گروہوں کے ساتھ ’’انتخابی رویہ‘‘۔ یعنی، ان کے نزدیک مسلح گروہ دو اقسام کے ہوتے ہیں ’’دوست‘‘ اور ’’دشمن‘‘۔
دوست گروہ وہ ہیں جو پاکستان کے اسٹریٹجک مقاصد (جیسے بھارت کے خلاف دباؤ، افغانستان میں اثر و رسوخ، یا داخلی سیاست) کے ساتھ ہم آہنگ ہوں؛ ایسے گروہ اکثر پاکستان کی جانب سے:
• یا تو محفوظ رکھے جاتے ہیں،
• یا منظم کیے جاتے ہیں،
• یا ضرورت پڑنے پر قربان کیے جاتے ہیں، لیکن تب تک ان سے فائدہ اٹھایا جاچکا ہوتا ہے۔

داعش خراسان کا معاملہ بھی اسی پالیسی کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ داعش خراسان ایک دہشت گرد گروہ ہے، لیکن:
• اس کے بعض عناصر پاکستانی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں رکھے گئے،
• بظاہر ’’سیاسی قیدیوں‘‘ کے طور پر حراست میں لیے گئے،
• اور کبھی کبھار امریکہ یا دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے دوران ’’دہشت گردی کے خلاف کامیابی‘‘ کے طور پر پیش کیے گئے۔

سلطان عزیز عزام کی گرفتاری، جو داعش خراسان کا ترجمان تھا، بھی اس دوغلے رویے کی نمایاں مثال ہے۔ اس کی گرفتاری اس وقت ظاہر کی گئی جب پاکستانی فوج نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات شروع کیے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے مسلح گروہوں کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ سیاسی آلات کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو بھی مشکوک ٹھہراتا ہے۔

المرصاد کی رپورٹ اور عملی شواہد – داعش خراسان اور پاکستان کے تعلقات دستاویزی شواہد کی روشنی میں:
المرصاد نشریاتی ادارہ، جو علاقائی سکیورٹی، خفیہ نیٹ ورکس اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر فوکس رکھتا ہے، نے اپنی تازہ رپورٹس میں داعش خراسان اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون کے گہرے اور مستند پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ رپورٹس محض الزامات نہیں، بلکہ دستاویزی شواہد فراہم کرتی ہیں، جو عالمی محققین، علاقائی ذرائع اور استخباراتی تجزیہ کاروں کی تحقیقات پر مبنی ہیں۔

ان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
۱: عبوری راستہ:
داعش خراسان کے گرفتار شدہ ارکان نے واضح اعترافات کیے ہیں کہ انہیں پاکستان سے منظم منصوبے کے تحت افغانستان منتقل کیا گیا، جس میں پاکستانی فوجی انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مدد شامل تھی، تاکہ وہاں تخریبی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔

۲: پاکستان سے کارروائی کے منصوبے:
افغانستان، چین اور وسطی ایشیا کے اہداف پر داعش کے حالیہ حملے ان منصوبوں کے مطابق ہیں جو پاکستان کی سرزمین سے تیار کیے گئے، اور ان کی لاجسٹک، مواصلاتی اور انٹیلی جنس معاونت کے شواہد بھی پاکستان سے ملے ہیں۔ علاوہ ازیں، گرفتار شدہ داعشی اراکین کے اعترافات بھی اس سلسلے میں قابل غور ہیں۔

۳: آزادانہ آمد و رفت:
داعشی افراد اور رہنماؤں کو قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور حتیٰ کہ پنجاب کے بعض حصوں میں اس قدر آزادی فراہم کی گئی کہ یہ ایک ’’بے نظم اور خفیہ نیٹ ورک‘‘ نہیں، بلکہ ایک معاہدے کی شکل میں انہیں بسایا گیا ہے۔

۴: انٹیلی جنس نگرانی کے باوجود محفوظ سرگرمیاں:
المرصاد کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش خراسان کے ارکان نہ صرف پاکستانی خفیہ اداروں سے پوشیدہ نہیں ہیں، بلکہ انہی اداروں کے منظم کنٹرول اور نگرانی میں، فراہم کردہ منصوبے کے مطابق سرگرم عمل ہیں۔

۵: عالمی پہلو:
حالیہ شواہد، جو تاجکستان کی سرحد کے قریب چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہیں، اور ان افراد کے پاکستانی نیٹ ورکس سے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ داعش خراسان پاکستان کی مدد سے دوبارہ تباہ کارانہ سرگرمیوں کے لیے عالمی خطرہ ہے۔
یہ دستاویزی شواہد واضح کرتے ہیں کہ پاکستانی انتظامیہ صرف ایک ’’تماشائی‘‘ نہیں، بلکہ ایک شریک کار، منصوبہ ساز اور مستفید کھلاڑی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

افغانستان کا باضابطہ موقف اور انٹیلی جنس دعوے:
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے داعش خراسان کے بارے میں ایک واضح، مستند اور شواہد پر مبنی موقف اختیار کیا ہے۔ امارتِ اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے متعدد مواقع پر واضح کیا کہ داعش خراسان کے رہنما، خاص طور پر سلطان عزیز عزام، اس وقت پاکستان میں مقیم ہیں اور وہاں سے اپنی سرگرمیاں منظم وجاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے پاکستان سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا واضح مطالبہ کیا اور کہا کہ افغانستان اپنی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
امارتِ اسلامیہ کا یہ موقف محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ حساس دستاویزات، مشاہدات اور علاقائی رپورٹس پر مبنی ہے۔ یہ بیانات تحقیقاتی اور صحافتی شواہد کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں، جو داعش خراسان کی سرگرمیوں کو پاکستان کی سرزمین سے جوڑتے ہیں۔

یہ موقف ایک طرف افغانستان کے قانونی حاکمیت کے دفاع کو ظاہر کرتا ہے، اور دوسری طرف علاقائی ریاستوں، بین الاقوامی اداروں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سے توقع رکھتا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے، معاون ادارے اور حمایتی چاہے جہاں بھی ہوں، غیر جانبدارانہ طور پر شناخت کیے جائیں اور ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

گرفتاری کی کہانی: وقت، تضادات اور اعتماد کا خلاء:
پاکستانی خفیہ پالیسیوں کے تناظر میں، داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری ایک ایسی واقعہ ہے جس کے پیچھے متعدد تضادات، مبہم تفصیلات اور اعتماد کی گہری خلائیں پوشیدہ ہیں۔ اگرچہ پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہیں ننګرهار اور خیبر کے درمیان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا، لیکن:
• گرفتاری کی صحیح جگہ ظاہر نہیں کی گئی،
• کارروائی کی نوعیت، شامل افواج اور شواہد چھپائے گئے،
• کوئی آزاد علاقائی یا بین الاقوامی ذریعہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرتا۔

اس کے برعکس، پاکستان کے سابق فوجی افسر اور صحافی عادل راجہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ داعش خراسان کے اعلیٰ رہنما کافی عرصے سے پاکستانی فوج کے کنٹرول میں ہیں اور انہیں سیاسی اور سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کچھ دیگر معتبر ذرائع کے مطابق، سلطان عزیز عزام چند ماہ پہلے گرفتار ہوئے، لیکن گرفتاری کا اعلان اس وقت کیا گیا جب پاکستان کے فوجی سربراہ کی امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی۔ اس تسلسل اور ہم آہنگی کی بنیاد پر یہ خدشہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ اعلان دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ سیاسی وقت سازی، اعتماد سازی کی جھوٹی کوشش اور عالمی دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی تھی۔

پاکستان کا دوہرا ریاستی – سکیورٹی ڈھانچہ:
شواہد کے مطابق خطے میں دہشت گردی، شدت پسندی اور سیاسی عدم استحکام کے پائیدار ہونے کی سب سے بڑی وجہ، پاکستان کی ریاست اور سیکیورٹی اداروں کا دوہرا اور انتخابی رویہ ہے۔ یہ ایک دیرینہ حکمت عملی ہے جس میں پاکستان نہ صرف خود کو دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا شریک ظاہر کرتا ہے، بلکہ مسلح گروہوں کو منتخب کرنے، کنٹرول کرنے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہے۔ اس فریم ورک میں مسلح گروہ اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت، مفاد اور وقت کے حساب سے تعریف کیے جاتے ہیں۔

داعش خراسان صرف اس وقت ’’مسئلے‘‘ کے طور پر ابھرتا ہے جب وہ پاکستان کے جیوپولیٹیکل یا سفارتی مفاد کھو دیتا ہے یا عالمی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ ظاہری کارروائی ضروری ہو۔ اس پالیسی کی تازہ مثال پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا امریکہ کا دورہ اور اسی وقت داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کا اعلان ہے۔ یہ ہم آہنگی اتفاقی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند انٹیلی جنس کھیل کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی اعتماد جیتنا، دباؤ کم کرنا اور مراعات و فوائد حاصل کرنا ہے۔

تاریخی طور پر، پاکستان نے ایسے مفاہمتی اقدامات کو مسلسل استعمال کیا ہے۔ عافیہ صدیقی کیس اسی پالیسی کی مثال ہے؛ ایک انسانی اور قانونی مسئلہ جسے خفیہ معاملات اور عالمی سمجھوتوں کے حصہ کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ اقدامات صرف سیکیورٹی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایک منظم مفاہمتی ماڈل کے اجزاء تھے: افراد کی حفاظت، مناسب وقت تک انتظار، اور پھر انہیں عالمی طاقتوں کے سامنے ’’دہشت گردی کے خلاف کامیابی‘‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس کے بدلے میں پاکستان نہ صرف عالمی سیاسی اعتماد حاصل کرتا رہا بلکہ لاکھوں ڈالر کی مالی امداد، فوجی سازوسامان اور اسٹریٹجک نرم رویہ بھی حاصل ہوا۔

یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا ریاستی – سیکیورٹی ڈھانچہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو اصولی سیکیورٹی پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ دباؤ، مفاہمت اور فوائد حاصل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ دوہرا رویہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کے جواز کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور سوال پیدا کرتا ہے کہ کسی ایسے شریک پر کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے جو دہشت گردی کو روکنے اور فائدہ اٹھانے دونوں کے لیے استعمال کرتا ہو۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جب تک عالمی برادری پاکستان کے ’’دوہرے معیار‘‘ پر گہرائی سے توجہ نہیں دے گی اور سطحی بیانیے سے آگے جا کر اس کے خفیہ اداروں کی پالیسیوں کا تجزیاتی جائزہ نہیں لے گی، دہشت گردی کا دوبارہ استعمال جنوبی ایشیا کی سلامتی کا ایک مستقل مسئلہ بنا رہے گا۔
تاریخی مشاہدہ ہے کہ وہ ریاستیں جو اپنی سیکیورٹی پالیسی تضاد، دوغلے رویے اور وقتی مفاد پر استوار کرتی ہیں، آخرکار انہی تضادات کے آگ میں خود بھی جل جاتی ہیں۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک!  تیرہویں قسط
تبصرے و تحریرات

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! تیرہویں قسط

نومبر 8, 2025
عید اپنے ساتھ کیا پیغام لائی؟
خوارج العصر

عید اپنے ساتھ کیا پیغام لائی؟

اپریل 15, 2024
جہاد اور مجاہدین سے پراکسی گروپوں کی خیانت
خوارج العصر

جہاد اور مجاہدین سے پراکسی گروپوں کی خیانت

اگست 31, 2024
داعش؛ خوارج کی دوبارہ واپسی | پہلی قسط
تبصرے و تحریرات

داعش؛ خوارج کی دوبارہ واپسی | پہلی قسط

اگست 27, 2025
امان اللہ خان اور انگریزوں کے خلاف جہاد کے ثمرات کا ضیاع
سیاسی تحریرات

امان اللہ خان اور انگریزوں کے خلاف جہاد کے ثمرات کا ضیاع

اگست 21, 2024
داعشی خوارج کے ذرائع آمدن کی نوعیت!  اٹھائیسویں قسط
تبصرے و تحریرات

داعشی خوارج کے ذرائع آمدن کی نوعیت! اٹھائیسویں قسط

دسمبر 1, 2025

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    • ٹرینڈنگ
    • تبصرے
    • تازہ ترین
    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    مارچ 25, 2024
    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    مارچ 28, 2024
    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    مارچ 23, 2024
    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    مارچ 5, 2025
    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    0
    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    0
    افغانستان میں داعش کے اہداف

    افغانستان میں داعش کے اہداف

    0
    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    0
    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    مارچ 7, 2026
    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    مارچ 5, 2026
    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    مارچ 5, 2026
    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    مارچ 4, 2026

    تازہ خبریں

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    مارچ 1, 2026
    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    فروری 22, 2026
    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    فروری 3, 2026

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    دسمبر 31, 2025
    • ابطالِ امت
    • اداریہ
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • تبصرے اور تحریرات
    • خبریں
    • صفحہ اول
    • علماء
    • لائبریری
    المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist

    کو ئی نتیجہ
    تمام نتائج دیکھیں
    • صفحہ اول
    • اداریہ
    • خبریں
      • افغانستان
      • علاقائی خبریں
      • عالمی خبریں
    • تبصرے اور تحریرات
      • خوارج العصر
      • سیاسی تحریرات
      • جہادی تحریرات
      • علمی تحریرات
      • تجزیاتی تحریرات
    • علماء
    • ابطالِ امت
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • لائبریری
    • المرصاد
      • پښتو
      • دری
      • عربي
      • English
      • বাংলা

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Go to mobile version