اگرچہ جنگ اپنی ذات میں ایک تباہ کن اور ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن جب کوئی قوم اور کوئی نظام جنگ پر مجبور کردی جائے تو پھر ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کے لیے کچھ اصولوں کی پابندی کی جائے اور جنگ کو انہی اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ ایک عام کہاوت ہے کہ ’’جنگ میں حلوہ نہیں بانٹا جاتا‘‘ غالباً یہ کہاوت اُن جنگجوؤں نے اپنے اعمال کے جواز کے طور پر گھڑی ہوگی جو جنگ کے دوران ان اصولوں کی پابندی نہیں کرتے۔
جنگ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق شہری آبادی، جس میں عورتیں، بوڑھے اور بچے شامل ہیں، ہر صورت میں محفوظ رہنی چاہیے۔ ان کے رہائشی مقامات اور املاک کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح وہ تمام فریق یا افراد جو جنگ میں شریک نہیں ہوتے، ان کی جان اور سلامتی کا تحفظ ایک بنیادی انسانی اصول ہے۔ ہماری گفتگو افغان سرزمین پر پاکستانی فوجی رجیم اور امارت اسلامیہ کے درمیان جاری ’’ردّ الظلم‘‘ کے انتقامی اقدامات کے دوران جنگی اصولوں کی پابندی کے حوالے سے ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم اپنے آپ کو دنیا کی جدید اور اصولوں کی پابند افواج میں شمار کرتی ہے، لیکن اس کی تاریک تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ نہ تو وہ اصولوں کو صحیح معنوں میں جانتی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی شہریوں پر رحم کیا ہے۔ اس فوجی رجیم نے اپنی ہی سرزمین پر بارہا شہریوں، احتجاج کرنے والوں اور آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے اور انہیں کبھی مطلوب، کبھی دہشت گرد اور کبھی شرپسند عناصر کے نام پر قتل کیا، لاپتہ کیا اور ان کے گھروں کو مسمار کیا ہے۔ افغان سرزمین پر اس کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ بھی اسی روش کا تسلسل ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی اس کے مظالم اور درندگی کی ایک طویل اور افسوسناک تاریخ موجود رہی ہے۔
فرضی سرحد کے اطراف میں اس نے اپنی اندھی بمباریوں کے ذریعے شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا اور سینکڑوں افغانوں کو اپنے حملوں کا ہدف بنا کر شہید کر دیا۔ حتیٰ کہ ماہِ مبارک رمضان کے دوران کیے گئے تازہ حملوں میں بھی درجنوں بچے، خواتین اور بوڑھے شہید کیے گئے۔ ان واقعات کے شواہد اور رپورٹیں آج بھی علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں وحشت اور درندگی کی نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب امارت اسلامیہ کے سیکیورٹی اور دفاعی دستوں نے اپنے محدود وسائل کے باوجود جنگ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی ہے۔ جب تک ان کے پاس مستند خفیہ اور تزویراتی معلومات نہ ہوں، وہ کسی مقام کو نشانہ نہیں بناتے۔ اب تک انہوں نے صرف پاکستانی فوجیوں، ان کی چوکیوں اور فوجی ٹھکانوں کو ہی ہدف بنایا ہے۔ دونوں جانب کے خفیہ معلومات کے نظام کا تقابل بھی ممکن نہیں۔ فوجی رجیم کی خفیہ ایجنسیاں گویا اندھی ہیں؛ وہ محض اس بات کا اندازہ لگاتی ہیں کہ کہاں ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے برعکس افغان خفیہ ذرائع وطن اور عوام کے تحفظ کے جذبے کے تحت درست اور ٹھوس معلومات جمع کرتے ہیں اور صرف مسلح دشمن کو نشانہ بناتے ہیں۔ شہریوں کے تحفظ کے پیشِ نظر وہ عسکری کارروائی کی رفتار کو بھی محدود رکھتے ہیں اور مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں۔
امارت اسلامیہ کے دفاعی دستوں کے اس اصول کی توثیق موجودہ اور سابقہ فوجی ماہرین اور حکام نے بھی کی ہے۔ اس حوالے سے سب اس بات پر متفق ہیں کہ امارت اسلامیہ کی جانب سے درست خفیہ معلومات کا حصول اور اہداف کا واضح تعین اس بات کا سبب بنا ہے کہ صرف فوجی رجیم کے وہ جنگجو اور کرائے کے قاتل نشانہ بنائے جائیں جو ہمیشہ شہری آبادی اور غیر عسکری مقامات کو ہدف بنا کر وحشت اور بربریت کو ہوا دیتے رہے ہیں۔
فوجی رجیم کے طریقۂ کار میں ہلاک ہونے والے شہریوں اور اپنے مخالف جنگجوؤں کی لاشوں کی بے حرمتی کے بھی متعدد واقعات موجود ہیں۔ انہوں نے حتیٰ کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ آزادی پسندوں کی لاشوں کو بھی عوامی مقامات پر نذرِ آتش کیا اور پھر ان مناظر کو اپنی نام نہاد کامیابیوں کے طور پر دستاویزی شکل دے کر اپنے آقاؤں کے سامنے پیش کیا۔ پاکستان میں موجود اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق فوجی رجیم کی جیلوں میں تشدد اور درندگی کی بے شمار ہولناک داستانیں پوشیدہ ہیں۔ دشمن ثابت کرنے کے نام پر فوجی رجیم کے سربراہان نے اپنے اہلکاروں کو ہر قسم کے اقدامات کی اجازت دے رکھی ہے اور انہیں پیشگی طور پر کسی بھی احتساب سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔
اس کے برعکس امارت اسلامیہ کی افواج نے کبھی شہری مقامات اور عوام کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی لاشوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے، بلکہ انہیں احترام کے ساتھ حوالے کیا ہے۔ زخمی جنگجوؤں کا علاج اور نگہداشت بھی کی گئی ہے، اور قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حالیہ مثال سعودی عرب کی ثالثی میں گرفتار پاکستانی فوجیوں کی واپسی ہے، تاکہ حسنِ نیت کا اظہار کیا جائے اور فوجی رجیم کو جنگ بندی کی طرف آمادہ کیا جا سکے۔ لیکن چونکہ اس وحشی فوج اور حکومت کی باگ ڈور دراصل ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ دوسروں کے اشاروں پر چلتی ہے، اس لیے انہوں نے جنگ بندی، مذاکرات اور براہِ راست بات چیت کے تمام مواقع ضائع کر دیے ہیں۔
امارت اسلامیہ جس طرح ڈیورنڈ لائن کو ایک سرکاری سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتی، اسی طرح اس فرضی لکیر کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو بھی اپنا رعایا سمجھتی ہے اور کبھی ان کی جان و مال کو خطرے میں نہیں ڈالے گی۔ بلکہ انتقامی کارروائیوں کے دوران ان کی جانب سے اختیار کیا جانے والی احتیاط اور دقت بھی اسی لیے ہے کہ حملے سے پہلے مکمل خفیہ اور علاقائی معلومات جمع کی جائیں اور واضح ہدف متعین کیا جائے، جو جنگ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ افغان دفاعی افواج کے فضائی آپریشنز، جو زیادہ تر جدید عسکری ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور جن میں ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے، پاکستان کے دور دراز شہروں اور حتیٰ کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف فوجی مراکز کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ فوجی کمان اور عسکری وسائل کے مراکز کو تباہ کیا جائے۔
اب تک انہوں نے پاکستان کی سویلین انتظامیہ کو بھی نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس کا احترام کیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی فریق نے اپنی توجہ صرف اس بات پر مرکوز رکھی ہے کہ اپنے اندھے میزائل کس طرح شہری اور سرکاری عمارتوں اور گنجان آباد علاقوں پر گرائے جائیں، تاکہ لوگوں میں خوف پھیلایا جا سکے اور اپنے سرپرستوں کو اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ دکھایا جا سکے۔
انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ افغان قوم جنگ سے ناواقف نہیں ہے، اور امارت اسلامیہ کو جنگ لڑنے اور اس کے نظم و نسق کا ایک طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ سیاست بھی سمجھتی ہے اور جنگ کو بھی، اور اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ افغان قوم اپنے وطن کے دفاع اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ خوف اور ہراس افغانوں کے دلوں میں جگہ نہیں رکھتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوجی رجیم کے ہر میزائل اور ہر حملے کے جواب میں افغانوں کا حوصلہ اور عزم مزید بلند ہو جاتا ہے اور ان میں مزاحمتی جذبہ بڑھتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تجربہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی تلخ یاد بن جائے جس کے تاریخی بوجھ سے فوجی رجیم کبھی بھی نجات حاصل نہ کر سکے۔
انہیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ہر افغان شہری کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ افغان دفاعی اور سیکیورٹی افواج اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہیں کہ انہوں نے داخلی جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے اور ہر بیرونی سازش اور جارحیت کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دفاعی قوت اور بلند حوصلہ رکھتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے ہمسایہ ممالک کو بھی یہ حقیقت عملاً ثابت کر کے دکھادی ہے۔




















































