یہ تفرقہ انگیزی، امت کے لیے خطرہ اور خوارج کے جرائم دراصل اس گروہ کے فاسد افکار و عقائد کا نتیجہ ہیں۔ اسی وجہ سے اہلِ سنت والجماعت اور عام مسلمانوں کے دلوں میں اس گروہ کے خلاف نفرت اور بیزاری پیدا ہوئی، جو بالآخر ان کی ناکامی کا سبب بنی۔ پوری تاریخ کے میں اس گروہ نے کبھی بھی مسلمانوں کے خون بہانے سے گریز نہیں کیا، بلکہ بعض مواقع پر انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے بھی بڑھ کر ظلم و ستم کیے ہیں۔
اس گروہ کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک تکفیر ہے۔ یہ لوگ سب سے پہلے عقیدے کے اختلافات کو دشمنی اور تفرقے کا رنگ دیتے ہیں، پھر مسلمانوں کی وحدت اور ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ان پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یا ان کے عقائد میں شک و تردد پیدا کرتے ہیں۔
خوارج نے ماضی میں اور تاریخ کے مختلف ادوار میں مصالح و مفاسد کے غلط اندازے، تنگ نظری اور جہالت کے باعث امتِ مسلمہ کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کیا، انہیں گمراہ ترین فرقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ گمراہ جماعت مصالح و مفاسد کے توازن کو سمجھنے سے قاصر ہے، سطحی سوچ رکھتی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج پر غور نہیں کرتی۔ ان کا فہمِ دین نہایت سطحی اور تحریف شدہ ہے، اور وہ حقیقت کے ادراک سے یکسر محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دین کے دشمنوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہے۔ جیسا کہ ہم اپنے موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں کہ داعش جیسے خارجی گروہوں کا ظہور اسلام دشمن طاقتوں؛ امریکا، اسرائیل اور دیگر کے لیے، ایک بڑی خوشی اور کامیابی کا باعث بنا۔
عصرحاضر میں، دشمنانِ اسلام نے انہی داعشی خوارج کے ذریعے مسلمانوں پر سخت ترین حملے کیے اور اسی کے ذریعے دینِ اسلام کو بدنام کیا اور امت میں تقسیم کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بنایا۔ جب امریکہ نے عراق کی بدنام زمانہ ’’ابوغریب‘‘ قید خانے میں قیدیوں کی فکر کو بدلنے کے لیے بے رحمانہ تشدد اور اذیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنوں کو تکفیر کی طرف مائل کیا، تو وہ اس قابل ہو گیا کہ ان افراد سے اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
۲۰۱۳ء میں، جب ابو بکر البغدادی کو اس گروہ کا امیر مقرر کیا گیا، اس نے ان تمام مجاہدین کو جنہوں نے برسوں تک کفار، حملہ آوروں اور قابضین کے خلاف جہاد کیا اور جنہیں پوری امتِ مسلمہ تسلیم کرتی تھی، تکفیر اور مرتد قرار دے دیا اور ان کے خلاف ’’جہاد‘‘ کا اعلان کر دیا۔
خلاصہ یہ کہ، اس گمراہ جماعت داعش کے ابھرنے کے بعد، اسلامی امت ایک بار پھر شدید صدموں اور وسیع انتشار کا شکار ہو گئی۔ خاص طور پر مجاہدین نے ہر دور سے کہیں زیادہ نقصان برداشت کیا، خصوصاً عراق اور شام میں، ان لوگوں کی طرف سے جو ظاہری طور پر اپنے آپ کو ’’مسلمان‘‘ کہلاتے تھے۔




















































