امت کا اتحاد سب سے بڑی ترجیح ہے؛ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ نے اس پر زور دیا ہے اور تفرقہ و انتشار سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے:
«وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا»(آلِ عمران: ۱۰۳)
ترجمہ: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کے درمیان اخوت و بھائی چارے کا ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا کہ مہاجرین و انصار کو آپس میں بھائی بنا دیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضًا»(بخاری و مسلم)
ترجمہ: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اس حقیقت کو بخوبی جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کے درمیان اتحاد مستحکم نہ ہو، نہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ فتوحات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
لیکن خوارج نے ہمیشہ اس اتحاد کو پارہ پارہ کیا اور اُس چیز کے خلاف راہِ مخالفت اختیار کی جس پر شریعتِ نبوی ﷺ میں زور دیا گیا ہے۔ کیا ایسی جماعت امت کی نمائندگی کر سکتی ہے اور ایسے خلافت کی دعویدار بن سکتی ہے جو بنی نوع انسان کے لیے امن و سکون کا سرچشمہ ہو؟ ہرگز نہیں۔
اسلام ایسے افراد کو پسند کرتا ہے جن کی گفتار اور کردار میں ہم آہنگی ہو۔ جب صلیبی طاقتوں نے اسلامی سرزمینوں پر یلغار کی، تو امارتِ اسلامیہ نے امت کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی، تاکہ مسلمان ایک دوسرے کے مقابل نہ کھڑے ہوں بلکہ صفوں میں متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے جو دعویٰ کیا، اسے عملی طور پر ثابت بھی کیا اور صلیبی افواج کو افغانستان کی سرزمین سے نکال باہر کیا۔
اس کے برعکس، داعشی خوارج نے اس اتحاد کو سبوتاژ کیا اور مسلمانوں کو باہمی جنگ و جدال میں مبتلا کر دیا۔
داعش کی جانب سے امتِ مسلمہ کے وجود پر سب سے بڑا وار یہ تھا کہ اس نے بیعت کے اعلان اور خلافت کے دعوے کے ذریعے مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈال دیا، حالانکہ امارتِ اسلامیہ امت کے معاملات کو منظم اور درست انداز میں چلا رہی تھی۔ اسلامی شریعت میں ایک امیر کی موجودگی میں کسی دوسرے کے لیے امارت کا دعویٰ کرنا جائز نہیں؛ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
«إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما»(روایت مسلم)
ترجمہ: اگر دو خلفاء کے لیے بیعت کی جائے تو دوسرے کو قتل کردیا جائے۔
کیا داعش نے ملا عمر مجاہد رحمہ اللہ کے نظام میں کوئی ایسا عمل دیکھا تھا جو اسلام کے خلاف ہو اور جس کی بنا پر اس نے ان کی تکفیر کی؟ ہرگز نہیں۔ وہ ایسی شخصیت تھے جن پر نہ صرف مسلمان فخر کرتے ہیں بلکہ عالمی تجزیہ نگار اور انٹیلی جنس ادارے بھی ان کی جدوجہد کو اسلامی عقیدے و نظریے پر سختی سے کاربند قرار دیتے رہے ہیں۔
برطانوی صحافی اور سابق قیدی، ایوان ریڈلی کہتی ہیں:
مغرب اگرچہ انہیں ایک ظالم شخصیت کے طور پر پیش کرتا تھا، لیکن ان کے نظام میں قیدیوں کے ساتھ برتاؤ قرآنِ مجید کی تعلیمات کے مطابق تھا۔ جب میں ان کی سادگی اور عدل سے آگاہ ہوئی تو میرا نقطۂ نظر مکمل طور پر بدل گیا۔
آج بھی ان کے بارے میں دنیا بھر میں متعدد تجزیے اور تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک دشمن کسی شخص کے عدل کا اعتراف کرے، مگر ایک مسلمان اس کے خلاف گستاخی کرے اور اس کے نظام کی تکفیر کرے؟ کیا یہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ داعش خود اسلام کے اصولوں اور حدود سے تجاوز کر چکی ہے؟
داعش نے خلافت کے اعلان کے بعد بھی سکون اختیار نہ کیا بلکہ اپنی فتنہ انگیزی کو اس حد تک جاری رکھا کہ اسلام کے دشمنوں کے مقاصد کو تقویت ملی۔ جس وقت مجاہدین افغانستان کی آزادی اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے امریکہ کے خلاف برسرِ جہاد تھے، داعش نے امارتِ اسلامیہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا اور مسلمان قوتوں کو باہمی تصادم میں الجھا دیا۔
اس طرزِ عمل نے مجاہدین کی برسوں کی قوت اور توجہ کو ضائع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ جنگ جو مختصر وقت میں ختم ہو سکتی تھی، طویل ہوتی چلی گئی۔ بیس سال گزر گئے؛ وہ تیر جو دشمنانِ اسلام کی طرف چلنے چاہیے تھے، مسلمانوں ہی کی طرف رخ کر گئے۔ اسلام کے قدیم دشمن مدتوں سے مسلمانوں کے اختلاف کے متمنی تھے، اور داعش نے ان کی یہ آرزو پوری کر دی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش نے ان تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے جن پر شریعتِ محمدی ﷺ میں زور دیا گیا ہے۔ جس شریعت کا داعش دعویٰ کرتی ہے، وہ اس شریعت سے واضح اور گہرا فرق رکھتی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے لے کر آئے۔




















































