پچھلے دنوں ایک ایسی خبر سامنے آئی جو پوری امتِ مسلمہ کے دلوں پر بجلی بن کر گری۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالمِ دین، شیخ محمد ادریس، دن دہاڑے نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
شیخ محمد ادریس کا تعلق ترنگزئی قبیلے سے تھا۔ وہ جامعہ نعمانیہ اور دارالعلوم حقانیہ (اکوڑہ خٹک) میں شیخ الحدیث کے طور پر تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایشیا بھر سے ہر سال ہزاروں طلبہ ان سے فارغ التحصیل ہوتے تھے اور حدیث کی تدریس میں انہیں بلند مقام حاصل تھا، تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔
وہ نہایت نرم مزاج انسان تھے اور کئی عظیم نسبتوں کے حامل تھے۔ وہ شہید شیخ حسن جان کے داماد تھے، جبکہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل مفتی شہزادہ کے نواسے بھی تھے۔ ان کے والد بھی ایک معروف عالمِ دین تھے۔ ان تمام نسبتوں کے علاوہ وہ خود بھی ایسی شخصیت کے مالک تھے جو اپنی ذات میں ایک انجمن سمجھی جاتی تھی۔
خیبر پختونخوا میں وہ معیار اور علمی وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ان کی گفتگو، تحریر اور تقاریر کو سند کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ بے غرض انسان تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پیدائش سے لے کر آخری وقت تک ان کی فطرت میں ذاتی مفاد کا کوئی دخل نہ تھا۔ ان کے جنازے میں ایسا منظر دیکھنے کو ملا کہ معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ اشک بار تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کی پوری زندگی محبت، شفقت اور خیرخواہی سے بھرپور تھی اور نفرت ان سے کوسوں دور تھی۔ ایک عقیدت مند نے لکھا کہ شیخ صاحب نے اپنی پوری زندگی میں کسی سے سخت کلامی تک نہیں کی۔ حتیٰ کہ جو لوگ ان کی توہین کرتے، انہیں بھی محبت سے جواب دیتے تھے۔ مگر اس کے باوجود انہیں شہید کردیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر معاملہ قتل تک کیوں پہنچا؟
لیکن وہ لوگ جو پاکستان کی تاریخ، ریاستی فکر اور پالیسیوں سے واقف ہیں، یا کم از کم سرسری مطالعہ رکھتے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ شیخ محمد ادریس کی دل دہلا دینے والی شہادت اور ان کے پراسرار قتل کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔
پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک اس ملک کے نامور علماء، قومی رہنما، سیاسی شخصیات، بلکہ وہ افراد بھی جو کئی بار ریاست کے اہم عہدوں پر فائز رہے، نہایت بے رحمی کے ساتھ قتل کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر کراچی کے عالمِ دین مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو انتہائی سفاکانہ انداز میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد قاتل گرفتار بھی ہوئے، مگر جب تفتیش کا مرحلہ آیا تو انہیں بغیر کسی عدالتی فیصلے کے رہا کر دیا گیا۔ اس پر پاکستان کے علماء نے شدید احتجاج کیا، حکومت کو اعتراضی خطوط بھیجے، سخت الفاظ میں اس اقدام کی مذمت کی اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔
اس کے برعکس وہی قاتل بعد میں علماء کو دھمکیاں دینے لگے اور کھلے عام کہتے تھے: ’’تم جانتے ہو ہم کون ہیں اور کن لوگوں سے ہمارا تعلق ہے؟‘‘ اور اس وقت سے لے کر آج تک کسی نے ان کا راستہ نہیں روکا۔ حال ہی میں پاکستان کی ایک بڑی سیاسی و مذہبی جماعت کے سربراہ کے حوالے سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے ایک معروف کالم نگار نے ایک حیرت انگیز واقعہ بیان کیا کہ ہمارے علاقے میں ایک پولیس افسر (SHO) کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ جب قاتل گرفتار ہوا تو ریاستی ادارے فوراً حرکت میں آئے اور یہ کہہ کر اسے چھڑوا لیا کہ ’’یہ تو ہمارا اپنا آدمی ہے۔‘‘
یہ صرف ایک یا دو واقعات نہیں بلکہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات موجود ہیں جن کے مجرم ’’نامعلوم‘‘ قرار دیے جاتے ہیں، اور قیامت تک شاید نامعلوم ہی رہیں گے، کیونکہ ان کے پیچھے مذموم مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ خفیہ مقاصد کیا ہیں جن کے لیے علماء کا خون بہایا جاتا ہے؟ سیاسی اقدار کو پامال کیوں کیا جاتا ہے؟ کیوں سیاسی لیڈروں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟
اس سلسلے میں سب سے زیادہ مذہبی طبقہ ہی نشانے پر رہا ہے۔ چاہے پنجاب ہو، بلوچستان، کراچی، گلگت بلتستان یا پختونخوا، ہر جگہ خونریزی کی داستانیں موجود ہیں۔ دن دہاڑے قومی اور بین الاقوامی شہرت رکھنے والی شخصیات قتل کردی جاتی ہیں، مگر دہائیاں گزرنے کے باوجود قاتلوں کا سراغ نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر راولپنڈی جیسے اہم فوجی مرکز میں مولانا سمیع الحق حقانی جیسی عظیم علمی و سیاسی شخصیت کو ان کے گھر میں نہایت آسانی سے چاقوؤں کے وار کر کے شہید کر دیا گیا، مگر آٹھ سال گزرنے کے باوجود قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان واقعات کے پس پردہ خفیہ اہداف کارفرما ہیں، اور ان اہداف سے صرف ریاستی ادارے ہی واقف ہیں، اور وہی ان واقعات کے اصل محرک ہیں۔ پاکستان کے بعض سیاسی رہنماؤں نے کئی بار کھل کر کہا ہے کہ جس قتل کا قاتل معلوم نہ ہو، اس کا ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ کیونکہ ریاست کے نزدیک علم، دین اور سیاست سے زیادہ اہم اپنے مخصوص ’’بیانیہ‘‘ کی حفاظت ہوتی ہے، اور اس بیانیے کو نافذ کرنے کے لیے ہر حد تک جاسکتی ہے۔
کبھی یہ بیانیہ تقاضا کرتا ہے کہ فلاں شخص راستے کی رکاوٹ ہے، اس لیے اسے ہٹا دیا جائے۔ کبھی عوام کی توجہ کسی اور سمت موڑنے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو ملک کے کسی بھی حصے میں کسی کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ توجہ منتشر ہوجائے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کی گفتگو وقتی طور پر بیانیے کے لیے مفید ہوتی ہے، مگر خدشہ ہوتا ہے کہ وہ بعد میں وضاحت یا مخالفت کرسکتی ہے، اس لیے اسے بھی راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
یہ ریاستی بیانیہ اکثر اسلامی اقدار سے متصادم ہوتا ہے، اسی لیے اس راستے میں سب سے زیادہ قربانی علماء دیتے ہیں۔ مولانا حق نواز جھنگوی سے لے کر ایثار القاسمی، سرفراز شہید، شمس الدین، ضیاء الرحمن قاسمی، حبیب اللہ مختار، مولانا عبدالسمیع، محمد بنوری، مولانا حسن جان، شیخ نصیب خان، مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی جمیل، مولانا سمیع الحق، حامد الحق، ڈاکٹر عادل خان اور پھر شیخ محمد ادریس تک، اگر ہر واقعے کا جائزہ لیا جائے تو اس کا پس منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔
چند سال قبل کراچی میں معروف عالم مفتی محمد تقی عثمانی پر بھی ایک خونریز حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں کئی افراد شہید ہوئے اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں مفتی صاحب نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب ان پر فائرنگ ہوئی تو ڈرائیور کے ہاتھ میں گولی لگی اور خون بہنے لگا۔ ہم نے پولیس سے مدد مانگی مگر انہوں نے صاف انکار کردیا۔
اب ذرا غور کیجیے کہ مفتی تقی عثمانی جیسی عالمی شخصیت زخمی ہو، اتنا بڑا واقعہ پیش آئے، مگر پولیس مدد تک نہ کرے!
اب شیخ محمد ادریس کے واقعے کو بھی دیکھیے: چارسدہ میں دن دہاڑے بازار کے اندر فائرنگ ہوتی ہے اور قاتل اطمینان سے فرار ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ریاست اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے لوگوں کی توجہ دوسری طرف موڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ مختلف چہروں کو سامنے لاکر طرح طرح کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
چند لمحوں بعد داعش بھی ایک اعلامیہ جاری کرتی ہے کہ یہ کارروائی ہم نے کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ داعش کون ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ گزشتہ برسوں کے واقعات کی روشنی میں یہ شبہ مزید مضبوط ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے بیانات ایک منصوبے کے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ریاست کے بعض قریبی حلقوں کی جانب سے کوشش کی جاتی ہے کہ اس واقعے کو افغانستان سے جوڑا جائے۔ مگر جنازے اور فاتحہ کے موقع پر متعدد علماء نے کھل کر اس دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ الزامات اصل قاتلوں کو چھپانے کے لیے لگائے جارہے ہیں۔
چارسدہ کوئی سرحدی گاؤں نہیں کہ کوئی افغانستان سے آئے، قتل کرے اور واپس چلا جائے؛ یہ سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، جبکہ علاقے میں پولیس، فوج اور خفیہ اداروں کے مراکز بھی موجود ہیں۔ پھر ایسی بات کیسے قابلِ قبول ہوسکتی ہے؟
جب مفتی تقی عثمانی پر حملہ ہوا تھا تو انہوں نے ضیاء چترالی نامی صحافی کو ایک انٹرویو دیا تھا، جو روزنامہ ’’امت‘‘ میں شائع ہوا اور آج بھی موجود ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان پر حملہ نہ داعش نے کیا تھا اور نہ کسی دوسری مسلح تنظیم نے، بلکہ حملہ آور کچھ اور لوگ تھے۔
اب اگر اس بات کو پولیس کے رویّے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو نتیجہ خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ حملہ آور کون ہیں اور کس طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
جاری ہے…


















































