۱۔ مسلمانوں کے خلاف اطلاعاتی اور نگرانی کے منصوبوں کی تقویت:
’’داعش‘‘ کے نام سے پیدا ہونے والا یہ منحوس فتنہ نہ صرف عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا انسانی اور دینی سانحہ تھا بلکہ کفار کے لیے ایک سنہری موقع بھی ثابت ہوا، تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے اپنے سکیورٹی اور نگرانی کے منصوبے مسلمانوں پر مزید وسیع اور مضبوط کر سکیں۔
اگرچہ یہ خبیث گروہ اسلامی نعروں کے پردے میں ظاہر ہوا، لیکن اس کے اعمال، ڈھانچے اور نتائج نے سب سے زیادہ مغربی خفیہ ایجنسیوں کے منصوبوں کے مقاصد کو فائدہ پہنچایا۔ داعشی خوارج نے شعوری یا غیر شعوری طور پر وسیع جاسوسی، عسکری مداخلت، اسلام دشمن قوانین کے نفاذ اور اسلاموفوبیا کے ماحول کو پھیلانے کے لیے سب سے اہم جواز فراہم کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کے ابھرنے کے بعد مغربی خفیہ اداروں نے، خصوصاً امریکہ اور یورپ میں، نئے اور غیر معمولی قوانین پاس کرکے لاکھوں مسلمانوں کی نجی زندگی پر نگرانی بڑھا دی گئی۔
مثال کے طور پر:
’’پیٹریاٹ ایکٹ‘‘(Patriot Act) قانون جو ۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ میں نافذ ہوا تھا، لیکن یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ داعش کے نمودار ہونے کے بعد اس قانون کو مزید وسعت اور مضبوط جواز ملا۔ یورپ میں بھی خفیہ منصوبے جیسے PRISM، Tempora، XKeyscore اور چہرہ شناس نظام (Facial Recognition Systems) ہوائی اڈوں اور عوامی مقامات کے لیے مزید پھیلائے گئے، جن کا اصل مقصد مساجد، اسلامی مراکز اور مسلمان کارکنان پر وسیع پیمانے پر نگرانی کرنا تھا۔
داعش کی آن لائن سرگرمیوں میں اضافے کے بعد مجازی دنیا میں اسلامی رجحانات کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، خصوصاً یوٹیوب، ٹیلیگرام اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز پر۔
اگرچہ داعش نے اسلامی ممالک کے اندر بڑی تباہیاں مچائیں، لیکن اس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی پہنچے اور مغرب میں مسلمانوں کے خلاف سخت قوانین کی نئی لہر کو جنم دیا۔ مغربی ممالک نے داعش کے پیدا کردہ خطرات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایسے قوانین منظور کیے، جن کے تحت حجاب، مذہبی سرگرمیوں اور حتیٰ کہ اسلامی تعلیمات پر بھی پابندیاں لگائی گئیں۔
اسی عرصے میں، فرانس میں حجاب پر پابندی اور مساجد کی تعمیر میں رکاوٹیں ’’انتہا پسندی کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان کے تحت جائز قرار دی گئیں۔ جرمنی میں ائمہ، دینی مراکز اور حتیٰ کہ مسلمان خاندانوں پر سخت نگرانی شروع کی گئی۔ برطانیہ میں ’’Prevent‘‘(روک تھام) نامی پروگرام کے تحت، انتہا پسندی کے خلاف مہم کے بہانے، مسلمان بچوں کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات بھی نگرانی میں لائی گئیں۔
یہ تمام اقدامات عراق اور شام میں داعش کی سرگرمیوں کے حوالہ سے کیے گئے، حالانکہ عام مسلمانوں نے اس گروہ سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔




















































